Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم امیدواروں کو 4 فیصد تحفظات سے محروم کرنے کی سازش پر احتجاج

مسلم امیدواروں کو 4 فیصد تحفظات سے محروم کرنے کی سازش پر احتجاج

تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن تقررات کے لیے بیجا شرائط ، محمد علی شبیر کی تنقید
حیدرآباد۔/20اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں مسلم امیدواروں کو 4فیصد تحفظات سے محروم کرنے کی سازش پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے بی سی ای زمرہ سے تعلق رکھنے والے مسلم طلبہ کیلئے کاسٹ سرٹیفکیٹ کے علاوہ نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ پیش کرنے کے لزوم پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت جو مسلمانوں کی ہمدردی کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے اُن دعوؤں کی حقیقت کھل چکی ہے۔ حکومت روزگار میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کا حوالہ دے کر مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں مسلمانوں کی نمائندگی کو گھٹانے کی سازش تیار کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر صدرنشین پبلک سرویس کمیشن سے بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ رازدارانہ طور پر حکومت نے متحدہ آندھرا حکومت کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے مسلم امیدواروں کیلئے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دیگر پسماندہ طبقات کے امیدواروں کیلئے نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی نہیں ہے اسی طرح مسلم امیدواروں کو بھی علحدہ سرٹیفکیٹ کی پیشکشی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احکامات جاری کرے کہ مسلم امیدواروں کی جانب سے پیش کیا گیا بی سی ای سرٹیفکیٹ ہی تقررات کیلئے کافی ہو۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں کو اقتدار کے چار ماہ بعد 12فیصد تحفظات کا اعلان کرنے والے چندر شیکھر راؤ دیڑھ سال سے اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ حیرت تو اس بات پرہے کہ چیف منسٹر نے حالیہ عرصہ میں اس بات سے انکار کردیا کہ انہوں نے چار ماہ کے اندر تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ حالانکہ شاد نگر میں کئے گئے چیف منسٹر کے وعدہ کا ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے صرف زبانی وعدوں سے کام لے رہی ہے۔ گزشتہ دیڑھ سال کے دوران چیف منسٹر نے اقلیتوں کے تعلق سے کئی وعدے کئے تھے لیکن ایک بھی وعدہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کی اسکیمات کا نام تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت اسے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کررہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں 4فیصد مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے امیدواروں پر عائد کی گئی شرائط میں نرمی پیدا کی جائے۔ اس کے علاوہ پولیس ریکروٹمنٹ، برقی اور دیگر محکمہ جات میں کئے جانے والے تقررات میں بھی مسلم تحفظات پر عمل کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگرچہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن تشکیل دیا ہے لیکن  اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں۔ حکومت کے اشاروں پر کمیشن کارفرما ہے اور تقررات میں مسلم امیدواروں کو تحفظات سے محروم رکھنے کیلئے سازش رچی گئی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت فوری اس سلسلہ میں ترمیم نہیں کرے گی تو کانگریس پارٹی احتجاج پر مجبور ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT