Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم اور ایس ٹی تحفظات سے بی سی طبقہ کو کوئی نقصان نہیں

مسلم اور ایس ٹی تحفظات سے بی سی طبقہ کو کوئی نقصان نہیں

اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری مشتعل کررہی ہیں ، ایم پی بی نرسیا گوڑ کا بیان
حیدرآباد ۔ 18۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ نے کہا کہ پسماندہ طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیلئے کے سی آر حکومت سنجیدہ ہے اور بہت جلد بی سی کمیشن سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیا جائے گا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرسیا گوڑ نے مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ سے پسماندہ طبقات میں پھیلی بے چینی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں غیر ضروری پروپگنڈہ کی ذریعہ پسماندہ طبقات کو مشتعل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات سے بی سی طبقہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور حکومت آبادی کے اعتبار سے بی سی طبقہ کے موجودہ تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ نرسیا گوڑ نے بی سی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں اور تحمل سے کام لیں۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات اگر حکومت سے تعاون کریں تو جلد سے جلد تحفظات کے فیصد میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ای زمرہ کے تحت 12 فیصد تحفظات کی منظوری چیف منسٹر کا تاریخی کارنامہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی ریاست میں برسر اقتدار پارٹی نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ کے سی آر کی قیادت میں حکومت نے 2014 ء میں کئے گئے تمام اہم وعدوں کی تکمیل کرلی ہے۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کو مرکزی حکومت کی منظوری ناگزیر ہے کیونکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں علحدہ پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل آوری جاری ہے ، ایسے میں مرکزی حکومت تلنگانہ کو کس طرح نظرانداز کرسکتی ہے۔ انہوں نے مرکز سے بل کی منظوری کیلئے تمام جماعتوں سے مساعی کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ بل کی منظوری سے تلنگانہ میں کمزور طبقات کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ نے کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیا کہ وہ بی سی طبقات کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا اظہار کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تحفظات کے مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی پسماندہ طبقات کی بھلائی کی فکر نہیں کی ۔ اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے تحفظات کے ذریعہ ترقی کا فیصلہ کیا ہے تو کانگریس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1993 ء میں مرکزی حکومت نے ٹاملناڈو کے تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کیا تھا اور گزشتہ 25 برسوں میں تحفظات پر عمل آوری جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی کوئی حد مقرر نہیں کی بلکہ استثنائی صورت میں 50 فیصد سے زائد تحفظات کی اجازت دی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT