Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم اور دلت قومی سمینار وقت کی اہم ضرورت ، ملک گیر سطح سے قائدین مدعو

مسلم اور دلت قومی سمینار وقت کی اہم ضرورت ، ملک گیر سطح سے قائدین مدعو

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا اجلاس ، جناب ظہیر الدین علی خاں کنوینر سمینار منتخب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( راست ) : آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں جناب مجتبیٰ فاروق قومی جنرل سکریٹری کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ 13 اور 14 مئی کو دو روزہ مسلم ، دلت سمینار حیدرآباد میں منعقد کیا جائے ، یہ قومی سمینار ہوگا جس میں پورے ملک سے مشاورت اور دلت کے قائدین شرکت کریں گے ۔ سمینار کے اختتام پر 16 مئی کو بعد نماز مغرب ایک جلسہ عام بھی منعقد ہوگا ۔ سمینار کا اہم مقصد مسلمانوں اور دلتوں کے درمیان اتحاد کی راہیں تلاش کرنے اور ایک دوسرے کے قریب لانا ہے تاکہ دونوں مل جل کر پسماندگی اور نا انصافی کے خلاف جدوجہد کریں ۔ اس سمینار کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے کنوینر جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست ہیں ، کمیٹی میں پروفیسر ویشویشور راؤ ( حیدرآباد یونیورسٹی ) ، ایڈوکیٹ جناب بھاسکر سکریٹری ( بی ایس پی ) ، جناب عثمان ( عثمانیہ یونیورسٹی ) ، جناب وینکٹیش ، ڈاکٹر رفعت سیما پرنسپل ریاض الصالحات ، محترمہ ریحانہ فاطمہ ، جناب اقبال حسین ، سابق صدر ایس آئی او انڈیا ، ایڈوکیٹ محترمہ خورشید فرزانہ ، جناب فرحان سنبل ، محترمہ ارجمند رضوی ، کا اضافہ کیا گیا جب کہ پہلے سے کمیٹی میں جناب عبید اللہ شریف ذکی ، محترمہ ناصرہ خانم ، جناب عبدالعزیز ، جناب ابوبکر خالد اور جناب مشتاق ملک شامل ہیں ۔ مسلم اور دلت لیڈرس ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کرکے سمینار سے قبل مسلم دلت میٹنگس منعقد ہوں گی ۔ جناب مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ 1960 کے دہے میں مشاورت کا قیام ہوا اور یہ مسلمانان ہند کی سب سے قدیم اجتماعیت ہے جو مختلف تنظیموں کو لے کر بنائی گئی ہے ۔ پروفیسر ویشویشور راؤ نے کہا کہ یہ سمینار وقت کی اہم ضرورت ہے اس میں جماعتوں ، وکلاء ، سماجی جہد کار ، سیاسی قائدین ، ریٹائرڈ ججس ، ماہرین تعلیم وغیرہ کو مدعو کرنا چاہئے ۔ جناب وینکٹیش ریسرچ اسکالر ، جناب لمی یند چوینور کانے کہا کہ مسلمان ، وقت ، قابل اور خواہش ، نشست کے مسائل پر غور ہونا چاہئے ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ آج بھی دلتوں کو گھروں میں داخل ہونے پر پابندی ہے ۔ ڈی این اے رپورٹ کہتی ہے کہ 92 فیصد مسلمان کا ڈی این اے ہندوؤں سے ملتا ہے جس میں ایس سی اور ایس ٹی زیادہ ہیں ۔ یعنی مسلمان پورے باہر سے آئے ہوئے نہیں ہیں ۔ اسلام مظلوم کی تائید کا درس دیتا ہے ۔ جناب بھاسکر نے کہا کہ زیادتیوں کو روکنے جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ ملک میں ترقی ہورہی ہے لیکن ہم اس سے محروم کیے گئے ہیں ہم کو بیداری کا پروگرام بنانا چاہئے اور شودر کے ساتھ برتے جانے والے امتیاز کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔ محترمہ جلسیہ نے کہا کہ سیاسی قوت کے لیے تعداد ہی کی اہمیت نہیں ہے یہودی دنیا میں کم ہیں لیکن 2 فیصد ہونے کے باوجود پوری دنیا میں کنٹرول کررہے ہیں ۔ اختتامی خطاب مفتی صادق محی الدین فہیم کا ہوا جس میں انہوں نے سیکولر شہریوں کے ساتھ لے کر مہم چلانے کا مشورہ دیا نیز بغیر بھید بھاؤ کے کام کرنا اور جلسوں اور کارنر میٹنگس کے ذریعہ پیغام عام کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ اجلاس کی کارروائی جناب محمد رشاد الدین کارگزار صدر ریاستی مسلم مجلس مشاورت نے چلائی جب کہ اجلاس میں مختلف قائدین شریک تھے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT