Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم اکثریتی ممالک کے ہندوؤں کو ہندوستان لاکر بسانے کا منصوبہ

مسلم اکثریتی ممالک کے ہندوؤں کو ہندوستان لاکر بسانے کا منصوبہ

ہندوستان بھی اسرائیل کے نقش قدم پر
مسلم اکثریتی ممالک کے ہندوؤں کو ہندوستان لاکر بسانے کا منصوبہ
ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی عملی کوشش کا آغاز ، مودی حکومت ، شہریت قانون 1955 میں ترمیم کے لیے سرگرم
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔25اکٹوبر۔ملک میں جاری یکساں سیول کوڈ پر مباحث کی شدت میں کوئی اس بات پر غور نہیں کر رہا ہے کہ بھارت دوسرا اسرائیل بننے جار ہا ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر شہریت کی فراہمی کیلئے راہیں ہموار کرنے کے مقصد کے تحت ہندستان کے شہریت ایکٹ 1955میں ترمیم کی منصوبہ  بندی کی جا رہی ہے۔ملک کے دستور کو لاحق خطرات میں یہ بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے کہ ملک کے قانون شہریت میں ترمیم کے ذریعہ مسلم اکثریتی ممالک میں قیام کرنے والے ہندو طبقہ کو ہندستان واپس ہونے پر شہریت کی فراہمی کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ دستور ہند کی دفعہ 14ملک کے تمام مذاہب کے بیرونی شہریوں و افراد کو مساوی حقوق فراہم کرتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے پاکستان ‘ بنگلہ دیش‘ و افغانستان میں رہنے والے ہندوؤں کو ہندستانی شہریت کی پیشکش کیلئے ترامیم کا سہارا لیا جانا حکومت کی بد نیتی کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے۔ حکومت کی ‘سٹیزن شپ’ایکٹ 1955میں ترمیم کا جو منصوبہ تیار کرتے ہوئے تجویز پیش کی گئی ہے وہ دراصل ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سازش کا ہی حصہ ہے اور یہ تاثر دیئے جانے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے کہ بھارت ہندوؤں کا ملک ہے۔سرزمین فلسطین کے چھوٹے سے حصہ پر غاصبانہ قبضہ کے بعد یہودیوں نے دنیا بھر سے یہودیوں کو سرزمین مقدس پر واپسی کے حق کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کے کونے کونے سے اسرائیل واپس لانے کی کوششیں شروع کی تھیںان کوششوں میںکامیابی کے بعد اسرائیل مذہب کی بنیاد پر آباد کیا جانے والا پہلا ملک بن گیا اور اب ہندستان اسرائیل کے نقش قدم پر گامزن ہے اور دنیا بھر میں مسلم اکثریتی ممالک میں بسنے والے ہندو ‘ سکھ‘ جین‘ پارسی اور عیسائیوں کو ہندستانی شہریت کی فراہمی کے متعلق قانون سازی کرنے جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجوزہ قانون میں اس بات کی گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ ہندستانی شہریت کے حصول کے خواہشمند ہندو یا دیگر طبقات جو مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک میں رہتے ہیں انہیں اب 6برس ہندستان میں قیام کے ذریعہ ہندستانی شہریت حاصل کرنے کی گنجائش حاصل رہے گی۔ حکومت ہند کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کو مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے اور ہندستان کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا جانے لگا ہے اور کئی گوشے اس سلسلہ میں احتجاج بھی کر رہے ہیں لیکن ان کے اس احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت قانون سازی کے عمل کو تیز تر کرنے میں مصروف ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خواب کو پورا کرنے ان کوششوں کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہندستانی شہریت کے حصول کیلئے کوشاں ہندوؤں کو اب کوئی تکالیف کا سامنا نہیں رہے گا بلکہ انہیں ہندستانی شہریت کے حصول کیلئے ان کا ہندو ہونا ہی کافی ہوگا۔ ہندستانی قوانین شہریت میں ترمیم کے خلاف جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ہندستان کی بنیادیں اس کے سیکولر کردار اور جمہوری اقدار کے سبب مضبوط ہیں لیکن مذہب کی بنیادوں پر ہندستانی شہریت کی فراہمی کے آغاز کی صورت میں ملک کی سیکولر شبیہ متاثر ہوگی لیکن اس بات پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں ہندوؤں کی تعداد میں مزید اضافہ کیلئے خاموشی سے اس ترمیم کو انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ برسر اقتدار جماعت کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں پر سیکولر عوام کی خاموشی ملک کے مستقبل کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔اس ترمیم کے خلاف سرگرم جہدکاروں کا کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں آسام میں جو بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرکے قیام کررہے ہندووں کو انہیں ہندستانی شہریت حاصل ہو جائیگی اور جو مسلمان100برس قبل مشرقی بنگال سے آسام کی طرف ہجرت کئے ہیں انہیں ہندستانی شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں غیر ملکی کی طرح سلوک کیا جائے گا بلکہ بسا اوقات انہیں ملک دشمن عناصر کے طور پر بھی دیکھا جاتا رہا ہے جس میں شدت پیدا ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ملک میں اگر مذہب کی بنیاد پر شہریت کی فراہمی اور شہریت کے حصول میں مذہب کے اساس پر مراعات ملنے لگ جائیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ملک کے سیاستدانوں کے علاوہ ملک کی سیکولر شبیہ کو برقرار رکھنے کے خواہشمند دانشوروں اور ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ دستور میں دی گئی گنجائش کو حذف کرنے اور قوانین میں ترمیم کے ذریعہ ہندستانی شہریت کو دنیا کے سامنے مذاق کا موضوع بننے نے دیں بلکہ شہریت قانون میں ترمیم کی کوششوں کے خلاف بھی عملی اقدامات کا آغاز کریں اور اس ملک کے  مستقبل کو اسرائیل کی راہ پر جانے سے روکا جائے۔

TOPPOPULARRECENT