Tuesday , May 30 2017
Home / دنیا / مسلم اکثریتی چینی صوبہ میں ڈی این اے نمونے جمع کرنے کی مہم

مسلم اکثریتی چینی صوبہ میں ڈی این اے نمونے جمع کرنے کی مہم

بیرونی سفر اور پاسپورٹ کے حصول میں مسلمانوں کیلئے سخت شرائط
بیجنگ ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام)  چین ایسا محسوس ہوتاہیکہ اپنے شورش زدہ سب سے بڑے مسلم اکثریتی صوبے زنجیانگ میں جہاں اکثر سیکوریٹی فورسیس کی کارروائیاں جاری رہا کرتی ہیں، اب مقامی مسلمانوں کے ڈی این اے نمونے جمع کرنے کے ایک وسیع تر منصوبہ کے مطابق بنیادی کاموں کا آغاز کررہا ہے۔ مغربی چین کے زنجیانگ علاقہ میں علاقائی پولیس نے اسوسی ایٹیڈ پریس سے توثیق کی ہیکہ ڈی این اے نمونوں کے تجزیہ کیلئے کم سے کم 8.7 ملین امریکی ڈالر مالیتی آلات کی خریدی کے عمل میں مصروف ہے۔ انسانی حقوق کے نگران اداروں کے مبصرین نے خبردار کیا ہیکہ ڈی این اے جمع کرنے کے اس پروگرام کو حکام کی جانب سے اپنے سیاسی کنٹرول میں اضافہ کے  ایک راستہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہیکہ چین نے گذشتہ سال زنجیانگ کے مسلمانوں کو بیرونی سفر یا پاسپورٹ کے حصول کیلئے اپنے ڈی این اے نمونے، ابہام انگشت (فنگر پرنٹس) اور صوفی ریکارڈس (وائس ریکارڈ) داخل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ زنجیانگ کی سرحدیں، بشمول افغانستان متعدد غیرمستحکم وسط ایشیائی ممالک سے متصل ہیں۔ اس علاقہ میں اکثر بموں، چاقوؤں اور گاڑیوں کے ذریعہ حملوں کے واقعات پیش آیا کرتے ہیں، جن کیلئے مقامی اوئیغور مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے نسلی علحدگی پسندوں کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT