Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات اور اوقافی جائیدادوں پر حکومت موقف کو واضح کرے

مسلم تحفظات اور اوقافی جائیدادوں پر حکومت موقف کو واضح کرے

اسمبلی میں برسراقتدار اور حلیف جماعت بے نقاب، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔/19مارچ، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مسلم تحفظات اور اوقافی جائیدادوں کے مسئلہ پر حکومت اور اس کی حلیف جماعت سے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان دونوں مسائل پر اسمبلی میں آج دونوں پارٹیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ پر مباحث کے دوران مجلس کے فلور لیڈر نے مسلم تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا حالانکہ تلنگانہ کے مسلمان حکومت کے اس وعدہ کی تکمیل کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل اور پھر حکومت کی تشکیل کے بعد تحفظات کی فراہمی کے کئی وعدے کئے لیکن مسئلہ کو ٹالنے کیلئے انکوائری کمیشن قائم کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ پر مباحث کے دوران مجلس نے حکومت کی حلیف جماعت کا حق ادا کرتے ہوئے اس اہم ترین مسئلہ پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اگر انہیں مسلمانوں کو تحفظات سے دلچسپی ہوتی تو وہ حکومت سے جلد عمل آوری کا مطالبہ کرتے۔ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت نے اہم مسائل پر میچ فکسنگ کرلی ہے۔ محمد علی شبیر نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر مقامی جماعت کے تبدیل شدہ موقف پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مباحث میں درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی 1650 ایکر اراضی کا تذکرہ کیا گیا لیکن انہیں وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے مطالبہ کے بجائے الاٹ کردہ اداروں کے حق میں برقراری کی تائید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی جماعت نے اوقافی اراضی پر قائم مختلف کمپنیوں سے اراضی حاصل کرنے کے بجائے ان کے حق میں اراضی برقرار رکھنے کی بات کہی اور صرف 700ایکر کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کی خواہش کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت اور اس کی حلیف جماعت اوقافی اراضیات کے مسئلہ پر وقفہ وقفہ سے اپنا موقف تبدیل کررہی ہیں۔ مقامی جماعت کے فلور لیڈر نے مختلف اداروں کا ذکر کیا لیکن لینکو ہلز کا تذکرہ شامل نہیں تھا۔ حالانکہ وقف بورڈ سپریم کورٹ میں لینکو ہلز کی اراضی کے حصول کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ٹی آر ایس اور مقامی جماعت نے درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت ساری اراضی کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی موقف تبدیل کرلیا گیا ہے۔ اسمبلی میں چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ لینکو ہلز اور دیگر تعمیرات سے معاوضہ حاصل کرتے ہوئے وقف بورڈ کو دیا جائے گا لیکن آج تک اس سلسلہ میںکوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی اراضیات کے تحفظ میں حکومت اگر سنجیدہ ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی پر سے اپنی دعویداری چھوڑ دے تاکہ ساری اراضی وقف بورڈ کے تحت آجائے۔ انہوں نے کہا کہ وقف اراضی پر قائم کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینے کے بجائے انہیں وقف بورڈ کا کرایہ دار بنانا چاہیئے تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو اور یہ رقم اقلیتوں کی بہبود پر خرچ کی جاسکے۔ محمد علی شبیر نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کے خرچ میں ناکامی کیلئے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ فلور لیڈر نے حکومت کو بچانے کیلئے ذمہ داری عہدیداروں پر ڈال دی ہے حالانکہ بجٹ کی اجرائی حکومت کا کام ہے جب تک حکومت بجٹ جاری نہیں کرتی اس وقت تک عہدیدار کہاں سے خرچ کرپائیں گے۔
لہذا اقلیتی بہبود کے بجٹ کا 70فیصد خرچ نہ ہونے کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔

TOPPOPULARRECENT