Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات بل کو مرکز ی حکومت سے رجوع کرنے کی پیشرفت

مسلم تحفظات بل کو مرکز ی حکومت سے رجوع کرنے کی پیشرفت

گورنر نے مسلم تحفظات اور قبائلی تحفظات بلز کو محکمہ قانون کو روانہ کردیا ۔ محکمہ کی منظوری کے بعد بلز کی مرکزی حکومت کو روانگی عمل میں آئے گی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا بل محکمہ قانون کو پہونچ چکا ہے ۔ اس کی منظوری کے بعد گورنر بل کو مرکز سے رجوع کردیں گے ۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ گذشہ ماہ 16 اپریل کو اسمبلی اور کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد اور قبائلی طبقات کو 10 فیصد تحفظات میں توسیع دیتے ہوئے اتفاق رائے سے بلز کو منظوری دے دی گئی ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے مذہب کے نام پر مسلمانوں کو تحفظات دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کو پہلے سے بی سی ای کے زمرے میں تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات فراہم کیے جارہے ہیں ۔ جس میں بی سی کمیشن کی سفارشات پر مزید 8 فیصد تحفظات کا اضافہ کرنے کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں بلز منظور کئے گئے ہیں ۔ 4 دن قبل ہی بی سی ای اور قبائلی طبقات کے بلز راج بھون کو پہنچ چکے ہیں ۔ جس کی قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے بلز کو محکمہ قانون سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ تحفظاتی بلز کے ساتھ تلنگانہ ہیرٹیج بل اور جی ایس ٹی بل کو بھی محکمہ قانون سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ محکمہ قانون کی منظوری کے بعد گورنر نرسمہن ان بلز کو اصولی طور پر قبول کریں گے ۔ جی ایس ٹی اور تلنگانہ ہیرٹیج بلز کی منظوری کے بعد عمل آوری کے لیے گزٹ کی اجرائی عمل میں آئے گی اور بی سی ای اور قبائلی طبقات کے بلز 2017 کو مرکز سے رجوع کردیا جائے گا ۔ حالیہ دنوں میں ریاست اور مرکز کے درمیان خوشگوار تعلقات استوار ہوئے ہیں ۔ نوٹ بندی کی سب سے پہلے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے تائید کی اور جی ایس ٹی کو بھی سب سے پہلے تلنگانہ میں تائید حاصل ہوئی ہے ۔ اپنے حالیہ دورے دہلی کے موقع پر چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے علاوہ ریاست کے دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے لیے مرکز نے پریڈ گراونڈ حکومت تلنگانہ کے حوالے کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ ریاست اور مرکز کے درمیان کئی امور پر اتفاق پایا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کو یقین ہے ۔ مرکزی حکومت بی سی ۔ ای اور قبائلی تحفظات کے معاملے میں ریاستی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے دستور ہند کے شیڈول 9 میں ترمیم کرنے کی صدر جمہوریہ سے سفارش بھی کرے گی ۔ حکومت تلنگانہ کا دعویٰ ہے کہ تاملناڈو ، مغربی بنگال ، کیرالا ، آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور منی پور میں مسلمانوں کے چند گروپس کو تحفظات دئیے جارہے ہیں اور ٹاملناڈو میں تحفظات کا تناسب 69 فیصد ہے جب کہ جھارکھنڈ میں 60 مہاراشٹرا میں 52 اروناچل پردیش ، میگھالیہ ، میزورم میں 80 فیصد تحفظات فراہم کیا جارہا ہے ۔ اس طرح تلنگانہ میں بھی تحفظات کی مجموعی شرح میں اضافہ کرنے کی مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے ۔ 1993 میں جب وزیراعظم کے عہدے پر آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ فائز تھے ٹاملناڈو ریاست کی خواہش پر انہوں نے دستور کے 9 شیڈول میں ترمیم کرنے کی اس وقت کے صدر جمہوریہ سے سفارش کی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT