Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات تحریک سے حکومت بیدار، نمائندگیوں کا جائزہ

مسلم تحفظات تحریک سے حکومت بیدار، نمائندگیوں کا جائزہ

اب تک کی گئی نمائندگیوں سے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے عہدیدار مصروف، مزید نمائندگیاں طلب کرنے کی توقع
حیدرآباد ۔ 28 اکٹوبر ۔ (سیاست نیوز) حکومت 12 فیصد تحفظات کے متعلق مسلمانوں اور سیکولر افراد کی سنجیدگی کا جائزہ لینے میں مصروف ہوچکی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست بھر میں 12 فیصد مسلم تحفظات کے سلسلے میں جاری تحریک کی سنجیدگی اور سرکاری عہدیداروں کو موصول ہورہی نمائندگیوں کے متعلق اطلاعات کے حصول کیلئے احکامات کی اجرائی متوقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار سرکاری طورپر موصول ہونے والی نمائندگیوں کے اعداد و شمار کے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے لگے ہیں چونکہ اُنھیں اس بات کی غیرسرکاری طورپر اطلاع فراہم کردی گئی ہے کہ حکومت کسی بھی وقت یہ تفصیلات طلب کرسکتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی پسماندگیوں کا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی سدھیر کمیٹی کی جانب سے ریاست کے مختلف طبقات سے نمائندگیاں وصول کی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود کمیٹی کو درکار اعداد و شمار موصول نہ ہونے اور مکمل اطلاعات حاصل نہ ہونے کی شکایت ہے ۔

باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب سرکاری طورپر سدھیر کمیٹی کو 12فیصد تحفظات کے سلسلے میں موصولہ نمائندگیاں حوالے کرنے کے متعلق غور کیا جارہا ہے تاکہ کمیٹی کو رپورٹ کی تیاری میں دشواری نہ ہو اور پسماندگی کی حقیقی عکاسی رپورٹ میں ہوسکے ۔ ریاست بھر میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے کئے گئے 12فیصد مسلم تحفظات کے مسئلے پر عوام سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے نمائندگیوں کا سلسلہ جاری ہے اور توقع ہے کہ تحفظات کے سلسلے میں حکومت کی پیشرفت تک یہ دباؤ بڑھتا رہے گا۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کے بموجب مختلف سطح پر موصول ہونے والی نمائندگیوں کو یکجا کرتے ہوئے اُن کے مواد اور فراہم کردہ تفصیلات کے متعلق آگہی حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ تمام تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ آیا واقعی مسلمان 12 فیصد تحفظات کے متعلق سنجیدہ موقف اختیار کئے ہوئے ہے یا پھر روایتی نمائندگیوں پر انحصار کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نمائندگیوں کے اعداد و شمار اور فراہم کردہ تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کی توثیق کرنے کی کوشش کی جائیگی کہ واقعی عوام میں 12 فیصد تحفظات کے متعلق شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ ٹی آر ایس نے 12 فیصد تحفظات کے وعدے پر عمل آوری کیلئے اقتدار حاصل ہونے پر 4 ماہ کا وقت طلب کیا تھا لیکن اب جبکہ 17 ماہ گذرچکے ہیں اس کے باوجود تحفظات کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی واضح پیشرفت نہ ہونے کے سبب عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے اور عوام کی جانب سے جب تک مطالبات میں شدت اختیار نہیں کی جاتی اُس وقت تک حکومت کو انتخابی وعدے پر عمل آوری کیلئے مجبور کیا جانا دشوار ہے۔

TOPPOPULARRECENT