Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات تحریک سے سیاسی عزائم کی تردید، محض مسلمانوںکا فائدہ ملحوظ

مسلم تحفظات تحریک سے سیاسی عزائم کی تردید، محض مسلمانوںکا فائدہ ملحوظ

تحریک کو اپنانے کسی قیادت کے آگے آنے پر خیرمقدم کیلئے تیار ،بی سی کمیشن کی سفارشات پر تحفظات کا مطالبہ، نارائن پیٹ میں 12 فیصد مسلم تحفظات پر عظیم الشان جلسہ، جناب عامر علی خان کا پرجوش خطاب
حیدرآباد ۔ 26 مارچ (سیاست نیوز) مسلم قوم ذہین اور خداداد صلاحیت کی حامل ہے۔ اس قوم کی ترقی کیلئے صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے جو آزادی کے بعد سے اب تک نہیں ملی۔ روزنامہ سیاست قوم کو ترقی کی سمت گامزن کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ مسلم قوم کی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ محکم سے پھر حاکم بن جائے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے کیا۔ ریاست تلنگانہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے جاری تحریک کے ضمن میں یہاں ضلع محبوب نگر کے نارائن پیٹ میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ سے مخاطب تھے۔ مارڈن ہائی اسکول گراونڈ میں منعقدہ اس جلسہ عام میں ملی، مذہبی، ادبی اور سیاسی سرکردہ شخصیتوں نے شرکت کی۔ جس میں رکن اسمبلی راجندر ریڈی، انچارج اسمبلی حلقہ مسٹر شیوکمارر یڈی، صدر تلنگانہ مسلم ریزرویشن فرنٹ مسٹر افتخارالدین ایڈوکیٹ، صدر ٹاؤن ٹی آر ایس مسٹر دینٹو اقلیتی سیل ٹی آر ایس کے صدر الحاج عبدالرحمن، سید شاہ غیاث الدین قادری مجلس ابتدائی صدر، جناب غلام محی الدین چاند پرنسپل سدرشن ریڈی دیگر موجود تھے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے کیلئے احکام الہٰی اور سنت رسول ؐ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسلام رواداری و بھائی چارگی کی تعلیم دیتا ہے اور معاشرہ میں ہر ایک کے حقوق ادا کرنے ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے حدیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جس کا پڑوسی بھوکا سوجائے اور مزید احادیث کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے بات کرو تو بھلی بات کرو، اچھی بات کرو اور آج معاشرہ میں مسلمان اپنے کردار سے رسوا ہورہا ہے اور ایسے حالات کو بدلنا بھی خود مسلمان کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں زندگی بسر کریں تو معاملات خود بخود مسلمانوں کے حق میں ہوجائیں گے۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کی تحریک کے تعلق سے پھر ایک مرتبہ واضح کردیا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک میں ان کا کوئی سیاسی مقصد ہے اور نہ ہی فائدہ ہے بلکہ وہ اس تحریک کیلئے خود غرض ہوگئے ہیں تاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک سے وہ اپنی آخرت کا سامان کرلیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کے حق میں غیرمعمولی فائدہ کی اس تحفظات تحریک کی قیادت اگر کوئی کرنے تیار ہے تو وہ خوش دلی سے اس کی ہمت افزائی کیلئے کام کریں گے چونکہ اللہ کے دربار میں سب سے پہلے پوچھ قائدین سے ہونے والی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال اگر تحفظات کا حصول یقینی ہوجاتا ہے تو تلنگانہ کے 5 لاکھ مسلم خاندان اس سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ تحریک کو مضبوط کریں۔ تحریک حکومت کے خلاف یا پھر کسی کی تائید میں نہیں بلکہ چیف منسٹر کو ان کا وعدہ یاد دلانے اور مسلمانوں کے حق میں ہے۔ انہوں نے راج شیکھر ریڈی کے دورحکومت کا حوالہ دیا اور کہاکہ راج شیکھر ریڈی نے مسلمانوں سے کئے وعدے کو پورا کیا اور مسلمانوں نے انہیں اپنی حمایت دی۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ ’’جس کو مسلمان کی یاری ملی ایسی حکومت کی سواری ملی‘‘۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان میں جس قدر مسلم تحفظات کی آواز بلند ہونی تھی وہ نہیں ہوپارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان امن پسند اور غیور قوم ہے جو اپنے حق کو پرامن اور جمہوری انداز میں حاصل کرنا چاہتی ہے جو اس کے مذہبی ہونے اور ملک سے اٹوٹ محبت کا بھی ثبوت ہے۔ انہوں نے ملک میں جاری دیگر طبقات اور ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گجرات میں پٹیل، راجستھان میں گجر اور ہریانہ میں جاٹ اور پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں کاپو طبقات پرتشدد احتجاج کررہے ہیں تاہم مسلمان ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کی آئندہ سماعت 18 اپریل کو مقرر ہے اور حکومت سدھیر کمیشن کی رپورٹ پر منحصر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو تحفظات بی سی کمیشن کی سفارش پر دیئے جائیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ بی سی کمیشن کی سفارش پر قبل از وقت تحفظات فراہم کریں اور بعد میں 12 فیصد کے نشانہ کو پورا کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانان تلنگانہ کو مرکزی حکومت پر بھروسہ نہیں اور انکا خوف واجب ہے۔ انہوں نے اندراسہانی،  مقدمہ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ 7 ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور قانونی اصطلاحات استعمال کئے گئے جس کو سمجھنا مشکل ہے۔ انہوں نے نارائن پیٹ کے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس پر غوروفکر کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ادارہ سیاست کی جانب سے اس سلسلہ میں جو مدد وہ چاہتے ہیں وہ مدد ادارہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل میں مسلمانوں نے اپنی قربانی پیش کی اور تعمیر ریاست میں اپنا رول ادا کیا اور ریاست کی ترقی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ترقی مسلمانوں کا حق ہے اور اس کیلئے مسلمانوں کو اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر کہا
ہم بھی تعمیر ریاست میں ہیں برابر کے شریک
درودیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم
اور ہم کو اس دور ترقی نے دیا کیا معراج
کل بھی برباد تھے آج بھی برباد ہیں ہم
تاہم انہوں نے شعر کے بعد کہا کہ ہماری تحریکیں اور شعور بیداری اور ملی جذبہ انشاء اللہ ہمیں برباد ہونے نہیں دے گا۔ تاہم وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور ملی جذبہ سے کام کریں۔
ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر راجندر ریڈی نے کہاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں ٹی آر ایس حکومت عہد کی پابند ہے۔ چیف منسٹر نے ابھی تک منشور میں کئے گئے وعدوں میں 50 فیصد وعدوں کی تکمیل کردی۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔ اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست پر حکمرانی کرنے والی حکومت کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست پر حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے سچے دوست ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد تمام مخالفتوں کے باوجود نظام کے دور کی تقلید کرتے ہوئے تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر قومی پرچم لہرایا گیا۔ ماہ رمضان میں مساجد کے پاس مسلمانوں کے لئے افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، سماجی پسماندگی دور کرنے کے لئے حکومت کی ہر اسکیم بالخصوص ڈبل بیڈ روم فلیٹس اسکیم میں مسلمانوں کو 15 فیصد کا حصہ دار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کے بعد نئے تعلیمی سال کے آغاز 70 میناریٹی ریزڈنشیل اسکولس قائم کرنے کے لئے 2000 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا۔ نارائن پیٹ کے لئے بھی ایک اقامتی اسکول منظور ہوا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے لئے بجٹ میں 150 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اسکالرشپس کے لئے 250 کروڑ روپئے، بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے30  کروڑ روپئے کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ کے لئے وقف بورڈ کو خصوصی بجٹ دیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس ایک سکولر اقلیتوں کی ہمدرد جماعت ہے۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لئے قانونی اور مرکزی حکومت سے جدوجہد کرنے کے لئے حکومت پوری طرح تیار ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نظام دور حکومت کا احیاء کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات سے سماج کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کو ویلفیر اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے معاملے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ صدر تلنگانہ مسلم ریزرویشن فرنٹ مسٹر افتخار احمد ایڈوکیٹ نے تحفظات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سماجی، معاشی، تعلیمی پسماندگی کا شکار رہنے والے طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کا حکومتوں کو اختیار ہے۔ آزادی کے بعد سے مسلمانوں کی پسماندگی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ منظم سازش کے تحت ہر شعبہ میں مسلمانوں کے تناسب کو گھٹادیا گیا ہے۔ 1936 ء میں انگریزوں کے دور میں مسلمانوں کو بھی تحفظات حاصل تھے۔ مگر 1950 ء میں صدارتی حکمنامے کے ذریعہ مسلمانوں کے تحفظات کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد تحریک شروع ہوئی۔ دلت، سکھوں اور بدھسٹوں کو دوبارہ دلت زمرے میں شامل کرلیا گیا۔ مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے والی سچر کمیٹی کی رپورٹ نے مسلمانوں کی بدحالی پیش کی تو رنگناتھ مشرا کمیٹی نے مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات کی سفارش پیش کی۔ ان رپورٹس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا مگر اس پرکوئی مباحث نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہاکہ بی سی کمیشن تشکیل دیئے بغیر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی طبقہ کو بی سی قرار دینے یا اُس فہرست سے اس کو نکالنے کیلئے بی سی کمیشن کی سفارش لازمی ہے۔ نئی ریاست میں آبادی کے تناسب سے تمام طبقات کے تحفظات میں اضافہ ہونا ضروری ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک قابل ستائش ضرور ہے۔ تاہم مسلمان تنہا احتجاج کرنے کے بجائے بی سی ۔ ایس سی ۔ ایس ٹی طبقات کے ساتھ اتحاد قائم کرتے ہوئے مشترکہ تحریک چلائے ہر طبقہ کی آبادی کے ساتھ تحفظات فراہم کرنے کا حکومت پر دباؤ بنائے۔ اسوسی ایٹ پروفیسر دکن انجینئرنگ کالج عبدالمجید نے کہاکہ آزادی کا خواب سب نے دیکھا ہے۔ سب نے یہ سونچا کہ آزادی کے ملک ویلفیر اسٹیٹ میں تبدیل ہوگا مگر آمادی کے 65 سال بعد بھی ملک ویلفیر اسٹیٹ میں تبدیل نہیں ہوا۔ مگر یہ ضرور ہوا کہ تعلیم کارپوریٹ اداروں میں تجارت بن گئی ہے جہاں مفت تعلیم ہونا چاہئے تھا وہاں تعلیم کو فروخت کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو برسوں حکمرانی کرنے کا اعزاز ہے مگر مسلمان آزادی کے بعد پسماندگی کا شکار ہوگئے۔ تحفظات اور مراعات کو ووٹ بینک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ ہندوستان کے مجموعی بجٹ میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے حصہ ملنا چاپئے مگر اس اہم مسئلہ کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ افطار پارٹیاں مسلمانوں کی پسماندگی کو دور نہیں کرسکتیں۔ 12 فیصد مسلم تحفظات مسلمانوں کا حق ہے اور انھیں ان کا حق ملنا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو سیاسی میدان میں بھی آبادی کے تناسب سے تحفظ ملنا چاہئے۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک میں جماعت اسلامی کا رول ناقابل فراموش ہے۔ نظام کالج گراؤنڈ پر منعقدہ جلسہ میں کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ صدر ابتدائی مجلس نارائن پیٹ جناب غلام محی الدین چاند نے کہاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کرنے کے لئے چیف منسٹر تلنگانہ کو عملی اقدامات کرنا چاہئے مگر حکومت کی جانب سے تسلی اور تشفی بخش گولیاں دے کر مسلمانوں کو گہری نیند سلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عامر علی خان اپنے جدوجہد پر قائم رہے، ہم آپ کا مکمل ساتھ دیں گے۔ رپورٹر سیاست نارائن پیٹ مسٹر مجاہد صدیقی نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے لئے روزنامہ سیاست کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تحریک کے روح رواں تلنگانہ کے تمام اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کے لئے مسلمانوں میں شعور بیدار کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنارہے ہیں۔ مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے سچر کمیٹی رنگناتھ مشرا کمیٹی کی رپورٹس کافی ہے۔ ہم رکن اسمبلی نارائن پیٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے تعلق سے مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کو حکومت سے رجوع کریں اور اسمبلی میں بھی موضوع بحث بنائے۔ رپورٹر سیاست مکتھل عبدالقوی نے کہاکہ روزنامہ سیاست صبر و تحمل اور استقلال کے ساتھ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک چلارہا ہے۔ تلنگانہ کہ چپہ چپہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ مسٹر عبدالسلیم ایڈوکیٹ نے کہاکہ اب تک تحفظات کے لئے ملک میں جتنی بھی تحریکیں اُٹھی ہیں وہ تشدد کا شکار ہوئی ہے مگر نیوز ایڈیٹر سیاست عامر علی خان قابل مبارکباد ہے جنھوں نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک کو پرامن رکھا ہے۔ ہم اس تحریک کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں اور نوجوان طبقہ سے اس تحریک کا حصہ بن جانے کی اپیل کرتے ہیں۔ الحاج امیرالدین ایڈوکیٹ نے اپنی صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہاکہ نارائن پیٹ کو انقلابی ٹاؤن کا اعزاز حاصل ہے اور 12 فیصد مسلم تحفظات کے جلسہ عام کو کامیاب بنانے کیلئے نارائن پیٹ کے مسلمانوں نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر تعاون کیا ہے جس کے لئے وہ سب سے اظہار تشکر کرتے ہیں اور عامر علی خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی تحریک میں شدت پیدا کریں ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ محمد اعجاز حسین، عبدالرحمن، مظہر، محمد یونس، ظہیرالدین، تبریز حسین تاج جرنلسٹ، پروفیسر سید معزالدین کے علاوہ دوسروں نے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT