Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات عدالتی کشاکش اور قانونی رکاوٹوں سے پاک ہوں

مسلم تحفظات عدالتی کشاکش اور قانونی رکاوٹوں سے پاک ہوں

موثر سفارشات پیش کرنے کی خواہش ، بی سی کمیشن کو جناب عامر علی خاں کی یادداشت ، مسلمانوں کی ہزاروں درخواستیں بھی شامل
حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کو موجودہ 4 فیصد تحفظات میں اضافہ کیلئے روز نامہ سیاست کی جانب سے آج بی سی کمیشن سے نمائندگی کی گئی۔ ایڈیٹر’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کی جانب سے اور اخبار’سیاست‘ کی جانب سے دو علحدہ نمائندگیاں پیش کی گئیں۔ نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں نے صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو اور ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کی۔ انہوں نے کمیشن پر واضح کیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کے فیصد میں اضافہ ناگزیر ہے تاہم کمیشن کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ مسلم تحفظات عدالتی کشاکش اور کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر جاری رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ اور پھر مرکزی حکومت کے ذریعہ دستور کے 9ویں شیڈول میں اس کی شمولیت کا مرحلہ انتہائی دشوار کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو ایسی سفارشات پیش کرنی چاہیئے کہ حکومت ریاست کی سطح پر ہی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرسکے اور اسے مرکز پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ جناب عامر علی خاں نے بتایا کہ 9 ویں شیڈول میں ٹاملناڈو کی طرز پر تحفظات کی شمولیت موجودہ حالات میں انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تحفظات کے سلسلہ میں مسلمانوں میں شعور بیداری کیلئے ریاست کے تمام اضلاع اور بڑے ٹاؤنس کا دورہ کرچکے ہیں اور وہ مسلمانوں کے جذبات اچھی طرح جانتے ہیں، وہ کمیشن کو اپنے جذبات کے اظہار کیلئے نہیں آئے بلکہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی ترجمانی ان کا مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کی پسماندگی بالخصوص تعلیمی شعبہ میں ترقی کیلئے ’سیاست‘ اپنی ذمہ داری کو پورا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمیشن کے روبرو سیاسی گفتگو کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس کے لئے سیاسی قائدین موجود ہیں۔ تاہم ان کا یہ ایقان ہے کہ تعلیم اور روزگار میں تحفظات کے ذریعہ مسلمانوں کی مجموعی ترقی ممکن ہے۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے کہا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ کمیشن کی رپورٹ انتہائی جامع اور قانونی رکاوٹوں سے پاک ہو۔ جناب عامر علی خاں نے اس موقع پر ’سیاست‘ کو ای میل پر موصولہ تحفظات کے حق میں 11000 نمائندگیوں کی نقل پیش کی۔

اس کے علاوہ مختلف اضلاع سے موصولہ تقریباً 10000 نمائندگیوں کے کاغذات حوالے کئے۔ اضلاع ورنگل، کریم نگر، نظام آباد، کاماریڈی، میدک، سنگاریڈی اور ورنگل سے انفرادی طور پر مسلمانوں کی جانب سے ہزاروں نمائندگیاں ’ سیاست‘ کو روانہ کی گئیں۔ بی سی کمیشن میں گذشتہ چار دن سے اب تک جتنی بھی نمائندگیاں ہوئی ہیں ان میں روز نامہ ’سیاست‘ کی نمائندگی انتہائی جامع اور ہزاروں مسلمانوں کی تحریری درخواست کے ساتھ تھی۔ اب تک مختلف اداروں اور قائدین نے صرف ادارہ کی حد تک یا پھر شخصی طور پر کمیشن سے نمائندگی کی۔بی سی کمیشن کی سماعت میں توسیع کے لئے اپیلیں کی جارہی تھیں ، ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں کی نمائندگی کامیاب رہی ۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے ’سیاست‘ کی جانب سے کی گئی نمائندگی کو حوصلہ افزاء قرار دیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جناب عامر علی خاں نے کہا کہ صحافت کی سماجی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے وہ پسماندہ مسلمانوں کے حق میں بی سی کمیشن سے رجوع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سیاست‘ نے تحفظات کے حق میں ریاست بھر میں باقاعدہ مہم چلائی اور عوامی شعور کو بیدار کیا، اس مہم کے نتیجہ میں حکومت اور حکومت سے وابستہ افراد پر خاصا اثر پڑا اور خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اسے مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا کام تفویض کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بی سی کمیشن مقررہ مدت میں حکومت کو جامع سفارشات پیش کرے گا۔ روز نامہ ’سیاست‘ نے بی سی کمیشن کی عوامی سماعت کے آغاز کے دن سے ہی سوالنامہ کی خانہ پُری اور حلف نامہ کے سلسلہ میں خصوصی کاؤنٹر قائم کئے جہاں گزیٹیڈ آفیسرس کو متعین کیا گیا جو صبح سے شام تک درخواستوں اور حلف ناموں کی تصدیق میں مصروف ہیں۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے نمائندوں نے بی سی کمیشن کے آفس پر جناب عامر علی خاں کا والہانہ استقبال کیا اور تحفظات کے حق میں ان کی مہم کی ستائش کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT