Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات مسئلہ پر بی سی کمیشن میں جذباتی مناظر

مسلم تحفظات مسئلہ پر بی سی کمیشن میں جذباتی مناظر

تحفظات حامیوں اور مخالفین کی نعرہ بازی سے ماحول گرم ، چیرمین کی مداخلت پر حالات پر قابو
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر بی سی کمیشن میں نمائندگی کے موقع پر آج کافی جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ تحفظات کے حامیوں اور مخالفین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی جس کے باعث ماحول گرم ہوگیا۔ صدرنشین اور ارکان کو فوری مداخلت کرتے ہوئے جذبات پر قابو پانا پڑا۔ مسلم تحفظات کی مخالف کئی تنظیموں نے آج کمیشن سے رجوع ہوکر اپنے دلائل پیش کئے۔ اس موقع پر بعض تنظیموں کے کارکنوں کو جو بھاری تعداد میں تھے’’ جئے بھیم ‘‘ اور ’’ بی سی زندہ باد ‘‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ اس کے جواب میں مسلم تنظیموں کے کارکنوں نے نعرہ تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں گروپس کو نعرہ بازی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ سماعت کے تیسرے دن آج یہ بات محسوس کی گئی کہ مخالف تحفظات تنظیمیں منظم انداز سے نمائندگی کررہی تھیں اور ان کے قائدین کو اظہار خیال کا مکمل موقع دیا گیا۔ اس کے برخلاف موافق تحفظات تنظیموں اور افراد کو اظہار خیال کیلئے زیادہ وقت نہیں دیا گیا۔ کمیشن کی اعانت کیلئے بعض ٹرانسلیٹرس کی خدمات حاصل کی گئیں ان میں سے ایک نے مسلم تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کو اظہار خیال سے روکنے کی کوشش کی اور یادداشت حوالے کرتے ہی جانے کی ہدایت دے رہے تھے۔ مذکورہ شخصیت کے اس عمل پر کھمم سے آئے ہوئے مسلم ہکولا پوراٹا سمیتی کے قائدین برہم ہوگئے اور کہا کہ جب بی سی لیڈرس کو اظہار خیال کا مکمل موقع دیا جارہا ہے تو پھر مسلمانوں کو بھی موقع ملنا چاہیئے۔ ان افراد نے ٹرانسلیٹر کے رویہ پر شدید اعتراض کیا جس کے بعد بی سی کمیشن کے صدر نشین اور ارکان نے مسلم تنظیموں کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا۔ اس کے باوجود بیشتر مسلم تنظیموں کے نمائندے صرف یادداشت کی حوالگی تک محدود رہے۔ کئی تنظیموں نے شکایت کی کہ عوامی سماعت میں مسلمانوں کے ساتھ جانبداری کا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ کمیشن کے ارکان میں اردو داں شخص کی عدم موجودگی سے بھی مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کمیشن کے دفتر میں وقفہ وقفہ سے نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رہا اور اسی طرح تیسرے دن کی سماعت آج مکمل ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT