Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی، فریقین کو رجسٹرار کی اطلاع

مسلم تحفظات مسئلہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی، فریقین کو رجسٹرار کی اطلاع

محمد محمود علی کا دورہ دہلی منسوخ،آندھرا پردیش سے بھی مساعی، برقراری تحفظات کیلئے مؤثر پیروی کی ضرورت
حیدرآباد۔/16 اپریل، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں 18 اپریل کو سماعت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے مقدمہ کے فریقین کو اس کی اطلاع دی گئی اور سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ پر یہ نوٹس پیش کی گئی ہے۔ 5 رکنی بنچ پر مسلم تحفظات مقدمہ زیر دوران ہے اور 18 اپریل کو سماعت مقرر تھی۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں کے علاوہ کانگریس پارٹی اور جمعیتہ العلماء نے مقدمہ کی تمام تیاریاں کرلی تھیں اور نامور وکلاء کو سماعت کے موقع پر پیش کیا جانے والا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقدمہ کی سماعت کیلئے نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اتوار کو اپنا مجوزہ دورہ دہلی ملتوی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رام چندر راؤ کو ہدایت دی کہ مقدمہ کی پیروی کیلئے ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ کے کسی نامور وکیل کی خدمات حاصل کی جائے۔ محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کے وعدہ پر قائم ہے اور اس سلسلہ میں سدھیر کمیشن اور بی سی کمیشن کی سفارشات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ 4 فیصد تحفظات کو برقرار رکھنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام نقائص کے بغیر 12فیصد پر عمل آوری کی کوشش کررہی ہے تاکہ اسے عدالت میں چیلنج نہ کیا جاسکے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے کانگریس قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور انہیں سپریم کورٹ میں تحفظات کے مقدمہ کی موثر پیروی کی ہدایت دی۔ انہوں نے رگھویرا ریڈی، محمد علی شبیر، کے وی پی رامچندر راؤ اور ڈگ وجئے سنگھ کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے جو تحفظات فراہم کئے ہیں اسے بہر صورت برقرار رکھا جائے۔ راہول گاندھی نے دونوں ریاستوں کی جانب سے مقدمہ کی موثر پیروی کیلئے قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے۔ راہول گاندھی نے اس مقدمہ میں محمد علی شبیر کی جانب سے سابق وزیر قانون سلمان خورشید کو وکیل مقرر کرنے کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے لئے ابھیشیک منو سنگھوی یا کپل سبل کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں پانچ رکنی بنچ جن مقدمات کی پیروی کررہا ہے ان میں 5 فیصد مسلم تحفظات، 4فیصد تحفظات اور یو پی اے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 4.5فیصد تحفظات شامل ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت نے بھی مقدمہ کی موثر پیروی کیلئے نامور قانون داں پی پی راؤ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے پارٹی اقلیتی قائدین اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی مذہبی تنظیموں کے قائدین سے ملاقات کے دوران تیقن دیا کہ 4فیصد تحفظات کے حق میں موثر پیروی کی جائے گی۔ جمعیتہ العلماء آندھرا پردیش و تلنگانہ نے سابق یو پی اے حکومت کے فراہم کردہ 4.5فیصد تحفظات کے مقدمہ میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی ابھی بھی سپریم کورٹ میں مخالف تحفظات وکیل کی حیثیت سے آن ریکارڈ برقرار ہیں۔ انہوں نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جے رامچندر راؤ کو مقدمہ کی ذمہ داری دی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ رام کرشنا ریڈی کو مخالف مقدمہ سے اپنا نام علحدہ کرنے کی ہدایت دے۔ تلنگانہ حکومت نے سینئر وکلاء راکیش دیویدی، رام ورما کمار سابق صدرنشین کرناٹک بی سی کمیشن و سابق ایڈوکیٹ جنرل کرناٹک اور وی گیری کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اسی دوران سپریم کورٹ میں ابتداء سے اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے نامور وکیل شکیل احمد سید نے بتایا کہ پانچ رکنی بنچ تحفظات سے متعلق 3 علحدہ مقدمات کی سماعت کررہا ہے۔ انہوں نے تحفظات کی برقراری کی صورت میں مؤثر پیروی کی ضرورت ظاہر کی۔

TOPPOPULARRECENT