Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات : مسلم نمائندوں کی عیاری ظاہر ہوگئی

مسلم تحفظات : مسلم نمائندوں کی عیاری ظاہر ہوگئی

مقامی جماعت منافق، قائد مقننہ کی ذاتی دلچسپی سے تحفظات کو نقصان

محمد سلیم کی کسی نے تائید نہیں کی

حیدرآباد ۔ 20۔ جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کی ترقی اور مسلم تحفظات کی راہ میں اصل رکاوٹ کوئی اور نہیں بلکہ خود مسلم عوامی نمائندے ہیں جنہیں مسلمانوں کے معاملات سے صرف زبانی ہمدردی ہے اور جب حکومت کے اجلاسوں میں اظہار خیال کا موقع آتا ہے تو وہاں ان کی زبانیں بند ہوجاتی ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی اور کونسل میں ایک سے زائد مرتبہ مسلم تحفظات پر عمل آوری کے اپنے عہد کا اعادہ کیا لیکن جب ایوان کی کمیٹی کا اجلاس ہوا تو مسلم ارکان اس مسئلہ پر حکومت کو سفارشات پیش کرنے کی بھی ہمت نہ کرسکے۔ اسمبلی اور کونسل کی کمیٹی کے قیام کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ انہیں تفویض کردہ مسئلہ پر حکومت کو سفارشات پیش کرے۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کے قیام کا مقصد صرف اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لینا نہیں ہے بلکہ اسے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات پر علحدہ رپورٹ پیش کرنی چاہئے۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کے قیام کے بعد سے مسلمانوں میں امید جاگی تھی کہ یہ کمیٹی ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔ مسلمان توقع کر رہے تھے کہ کمیٹی کے صدرنشین کے علاوہ 4 مسلم ارکان مسلم تحفظات کے مسئلہ پر نہ صرف متفقہ قرارداد منظور کریں گے بلکہ حکومت کو بی سی کمیشن کے قیام کی سفارش کی جائے گی لیکن مسلم نمائندوں نے آج اپنی مجرمانہ خاموشی کے ذریعہ مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ مسلمانوں کیلئے تحفظات سے بڑھ کر کوئی اور اہم مسئلہ نہیں ہے اور صرف اس مسئلہ کی یکسوئی اور وعدے پر عمل آوری کے ذریعہ تمام دیگر مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے لیکن افسوس مسلم نمائندوں کو عوام کے درمیان تحفظات کی یاد ستاتی ہے لیکن جہاں انہیں کہنا ہے ، وہاں وہ مصلحتوں اور دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایوان کی کمیٹی میں کوئی بھی مخالف تحفظات رکن موجود نہیں، اس کے باوجود آج کے اجلاس میں اس مسئلہ پر مباحث کی کسی نے پہل نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے رکن محمد سلیم نے اجلاس کے آغاز پر اس مسئلہ کو موضوع بحث بنانے کی کوشش کی لیکن انہیں کسی دوسرے رکن کی تائید حاصل نہیں ہوئی۔

بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے فلور لیڈر کی جانب سے مسلم ارکان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ مسلم تحفظات کے مسئلہ کو اٹھانے سے گریز کریں۔ محمد سلیم نے جب یہ مسئلہ اٹھایا ، اس وقت فلور لیڈر اجلاس میں حاضر نہیں تھے، اس کے باوجود دیگر ارکان پر ان کا اس قدر دباؤ تھا کہ کسی نے اس مسئلہ کی تائید نہیں کی اور یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ کے لئے تین ماہ کا وقت باقی ہے ، اس کے بعد کمیٹی میں مباحث ممکن ہے۔ اس طرح مسلم تحفظات کے مسئلہ کو ٹال دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس کے مسلم ارکان مقننہ پر آخر کس کا کنٹرول ہے ؟ وہ حکومت کے ایجنڈہ پر عمل آوری کے پابند ہیں یا پھر وہ حلیف جماعت کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ اگر انہیں اپنی جماعت سے زیادہ دوسری جماعت سے ہمدردی اور محبت ہے تو پھر عوام کی رائے کے مطابق انہیں ٹی آر ایس چھوڑ کر اپنی پسندیدہ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلینی چاہئے۔ ایک پارٹی میں رہ کر دوسری پارٹی کے اشاروں پر کام کرنا اپنی پارٹی سے بغاوت اور دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے فلور لیڈر نے یہ کہتے ہوئے مسلم ارکان کو تحفظات کے مسئلہ کو چھیڑنے سے روک دیا کہ اخبار سیاست کا ’’ایجنڈہ‘‘ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحفظات کے مسئلہ پر وہ حکومت سے تصادم نہیں چاہتے۔

فلور لیڈر کے اشارہ پر کام کرنے والے مسلم ارکان کو شاید یہ پتہ نہیں کہ مسلم تحفظات درحقیقت ٹی آر ایس اور کے سی آر کا ایجنڈہ ہے ، جس کا انہوں نے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا۔ روزنامہ سیاست صرف اس وعدہ کی تکمیل اور مسلمانوں کے مفاد میں تحریک چلا رہا ہے تاکہ حکومت جلد سے جلد وعدہ کی تکمیل کے اقدامات کرے۔ جہاں تک حکومت سے تصادم سے گریز کا معاملہ ہے، فلور لیڈر کے اس مبینہ خیالات نے تحفظات کے مسئلہ پر ان کی پارٹی کو بے نقاب کردیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی جماعت اس مسئلہ کو فراموش کرتے ہوئے حکومت کو تحفظات پر عمل آوری سے روکنا چاہتی ہے اور مسئلہ کو ٹالنے میں حکومت سے تعاون کر رہی ہے ۔ یہ وہی جماعت ہے جس نے ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کوچار فیصد تحفظات کی فراہمی کی مخالف کی تھی جس کی ویڈیو ریکارڈنگ آج بھی عوام کے درمیان موجود ہے۔ ٹی آر ایس کے رکن کونسل محمد سلیم نے اگرچہ اس مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن ہونا یہ چاہئے کہ وہ بحیثیت رکن ایک قرار داد پیش کرتے اور دیگر ارکان کی منظوری حاصل کرتے۔ انہوں نے بی سی کمیشن کے قیام کیلئے حکومت سے سفارش کی بھی وکالت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس کو ایجنڈہ پر مباحث تک محدود کردیا گیا تھا۔ کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل کا کہنا ہے کہ ایوان کی کمیٹی قرارداد منظور نہیں کرسکتی۔ اس اجلاس میں عامر شکیل کے علاوہ محمد سلیم، فاروق حسین ، اکبر اویسی ، الطاف رضوی ، اسٹیفنسن اور ونئے بھاسکر نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT