Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلم تحفظات معاملہ میں حکومتوں کی جانبداری

مسلم تحفظات معاملہ میں حکومتوں کی جانبداری

گلبرگہ 29نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کے لئے تحفظات مہیا کرنے کے معاملہ میں جانبدارانہ سلوک اختیار کرنے کا مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے  اور ریاست میں اقلیتوںکے لئے منظور شدہ اسکیمات پر عمل آوری کے معاملہ میں غفلت و لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا SDPIکے کارکنان نے پیر کے دن گلبرگہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے روبرو ایک روزہ احتجاجی بھوک ہڑتال کی ۔ ضلعی صدر مسٹر سید ذاکر نے کہا کہ یکے بعد دیگرے مرکزی اور ریاستی حکومتوںنے دستور ہند میں اقلیتوںکو دی گئی مراعات اور انھیں فراہم کردہ تحفظات کو نظر انداز کیا ہے۔ گزشتہ 69برسوںکے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے۔ تمام حکومتیں اپنے مینی فسٹو میں کئے گئے تیقنات و وعدوںکی تکمیل سے غافل رہی ہیں ۔ بھوک ہڑتال کرنے والے احتجاجی ایس ڈی پی آئی ارکان نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتوںپر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری  طور پر موثراقدامات کئے جائیں۔ مسٹر  سید  ذاکر  نے مطالبہ کیا کہ جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن جس نے اقلیتوں کے لئے15 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی تھی اور جس میں 10فیصد تحفظات مسلمانوں کو دینے پر زوردیا گیا تھا ، ان سفارشات کو فوری طور پر قبول کیا جائے۔ انھوںنے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اقلیتی طبقات کو اسکالر شپ تقسیم کرنے کے معاملہ میں بلاوجہ کی تاخیر برت رہی ہے ۔ حکومت نے سال 2014-15میںمنظور کردہ 30کروڑ روپیوںکی اسکالر شپ گرانٹ کو گھٹاکر 2015-16میں 18کروڑروپیوںکے برابر کردی ہے۔ ریاست حکومت شادی بھاگیہ اسکیم نافذ کرنے کے معاملہ میں پیچھے رہی ہے۔ 27,594درخواست دہندگان کو ابھی تک کوئی فائیدہ نہیںپہنچا ہے۔ مسٹر ذاکر نے کہا کہ اقلیتوںسے تعلق رکھنے والے 35,385 طلبہ جو ودیا شری اسکیم کے لئے مستحق قرار دئے گئے ہیں انھیں صرف جزوی اسکالر شپ مل سکی ہے۔ مکمل اسکالر شپ 15,000روپئے ہے جبکہ انھیں ریاست میں جاریہ سال کے دوران جزوی طور پر صرف 6000روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔ انھوںنے ریاستی بجٹ میںاقلیتوںکے لئے مزید 10 کروڑ روپیوںکے اضافہ کے ساتھ ساتھ اقلیتوںکے لئے مرارجی دیسائی رہائیشی مدارس کا قیام، اور تعلقہ جاتی سطح پر پری یونیورسٹی کالجوںکا قیام عمل میںلانے پر زور دیا ۔ انھوںنے اقلیتی ملازمین کے ویمن ہاسٹلوں  ، ڈگری کالجوںاور رہائیشی مدارس کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT