Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات میں قیادت کے دعویدار رکاوٹ کیوں؟

مسلم تحفظات میں قیادت کے دعویدار رکاوٹ کیوں؟

ٹی آر ایس کے مسلم ارکان پر کنٹرول ، روزنامہ سیاست کی تحریک سے خوفزدہ ، مسلمانوں میں ناراضگی
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کے لئے ریاست کے عام مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے لیکن افسوس کہ ان کی نمائندگی کا دعوی کرنے والے اس معاملہ میں غیر سنجیدہ ہیں۔ مسلمانوں کی قیادت کے یہ دعویدار اپنی تقاریر اور بیانات میں خود کو مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد ثابت کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے لیکن جب حکومت سے مطالبات منوانے کا موقع آتا ہے تو مصلحت پسندی اور شخصی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے مسلمانوں کے مجموعی مفادات کا سودا کرلیا جاتا ہے۔ مسلم تحفظات کے معاملے میں نہ صرف شہر کی مقامی جماعت بلکہ ٹی آر ایس کے مسلم نمائندوں کی سنجیدگی کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ نو قائم شدہ ریاست تلنگانہ ہو یا پھر متحدہ آندھراپردیش، جب کبھی حکومتوں نے مسلمانوں کی بھلائی کے حق میں کوئی فیصلہ کرنا چاہا اس وقت قیادت کے یہ دعویدار رکاوٹ بن گئے اور حکومتوں کو صرف برائے نام مسلمانوںکی بھلائی کے فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر مسلمان تعلیمی اور معاشی میدان میں ترقی کرلیں تو ان میں سیاسی شعور بیدار ہوجائے گا جس سے مقامی قیادت کا ووٹ بینک متزلزل ہوسکتا ہے۔ اس خطرے کو دیکھتے ہوئے مسلم قیادت اور ان کے حواریوں نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی کہ مسلمان معاشی اور تعلیمی طور پر ترقی نہ کریں۔ ریاست میں پارٹی کسی حکومت کی ہو مسلمانوں کے مفادات کی ٹھیکہ داری کرنے والے ان دعویداروں میں حکومتوں سے اپنے مفادات کی تکمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کے بارے میں انہیں کوئی بھی اہم قدم اٹھانے سے روکے رکھا۔ اس سلسلہ میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ مقامی قیادت نے مسلمانوں کے نام پر اپنے ذرائع آمدنی میں اضافے کے وسیلہ کے طور پر کالجس حاصل کئے۔ ان کالجس سے غریب مسلمانوں کو کس حد تک فائدہ ہورہا ہے، یہ بات اظہر من الشمس ہے۔ مسلم تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اپنے وعدے کی تکمیل کا بارہا اعلان کیا لیکن چار ماہ میں تحفظات کی فراہمی میں ناکام رہے۔ مسلمانوں نے حکومت پر دبائو بنانے کے لئے روزنامہ سیاست کی تحریک سے خود کو وابستہ کرلیا اور ریاست کے ہر منڈل کی سطح پر مسلمانوں میں عہدیداروں اور وزراء کو تحفظات کے حق میں یادداشت پیش کی۔ ایسے وقت جبکہ تحفظات کے لئے مسلمان جاگ چکے ہیں، مسلم عوامی نمائندوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ خود بھی حکومت پر دبائو بنانے میں اہم رول ادا کریں۔ برخلاف اس کے اپنی کرسی اور مستقبل میں عہدوں کے حصول پر نظر رکھنے والے ان نمائندوں نے برسر عام تو تحفظات کی تائید کی لیکن اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں خاموشی اختیار کرلی۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ٹی آر ایس کے مسلم نمائندوں کو مقامی جماعت کے فلور لیڈر کے اشارے پر کام کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے مسائل کا حکومت کو سفارشات پیش کرنا ہے اور اس کمیٹی میں مسلم تحفظات جیسے اہم مسئلہ کو فراموش کرنا عوامی نمائندگی کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان کو یہ اندیشہ ہے کہ تحفظات کا مسئلہ اٹھانے پر انہیں چیف منسٹر کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ وزارت یا پھر کسی اہم عہدے سے محروم کردیئے جائیں گے۔ دوسری طرف مقامی جماعت نے چیف منسٹر سے اپنی قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم نمائندوں کو اپنے قابو میں لے لیا اور وہ اجلاس میں دیگر مسائل کے ساتھ مسلم تحفظات کے مسئلہ کو پیش کرنے سے قاصر رہے۔ اجلاس کی روداد نے مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ عام مسلمانوں کا احساس ہے کہ اقلیتی بہبود کمیٹی کے لئے مسلم تحفظات سے بڑھ کر کوئی اور مسئلہ نہیں ہوسکتا اور مسلم نمائندوں کی خاموشی دراصل مسلمانوں کی ترقی سے ان کی عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ عوام اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ مقامی جماعت نے تحفظات کے مسئلہ کو کمیٹی میں اٹھائے جانے سے روک دیا۔ حکومت کے کسی بھی اقدام کا سہرا اپنے سر لینے والی قیادت کو آخر مسلم تحفظات سے دلچسپی کیوں نہیں ہے؟ انہیں دراصل اس بات کی تکلیف ہے کہ روزنامہ سیاست نے تحفظات کو عوامی تحریک میں تبدیل کردیا ہے اور آج ریاست کے ہر گھر سے تحفظات کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ عوام خود اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ ان کا حقیقی ہمدرد کون ہے۔ اقلیتی بہبود کمیٹی میں ٹی آر ایس کے ایک رکن نے اس مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن طریقہ کار صحیح نہیں تھا۔ لہٰذا کمیٹی کی روداد میں یہ مسئلہ شامل نہیں ہوسکا۔ محمد سلیم نے مقامی جماعت کے فلور لیڈر کے غیاب میں رسمی طور پر اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے اپنی ذمہ داری کی تکمیل سمجھا۔ حالانکہ انہیں تمام ارکان کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر اس مسئلہ کو اٹھانا چاہئے تھا اور اجلاس کی روداد میں شامل کرنا تھا۔ دوسرے ارکان پر فلور لیڈر کا مبینہ طور پر خوف طاری تھا۔ اجلاس کے بعد کمیٹی کے صدرنشین نے یہ دعوی کیا کہ تحفظات کے مسئلہ پر اجلاس میں تفصیلی مباحث ہوئے ہیں۔ یہ دعوی صرف عام مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے ہے اور حقیقت سے بعید ہے۔ اگر مباحث ہوئے ہیں تو پھر کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اجلاس کی روداد عوام کے روبرو پیش کرے۔ ٹی آر ایس کے مسلم ارکان کو کم از کم اس غلطی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو سے نمائندگی کرنی چاہئے کہ تحفظات کی فراہمی کے لئے فوری طور پر بی سی کمیشن قائم کیا جائے۔ کیوں کہ بی سی کمیشن کے قیام کے بغیر کوئی بھی حکومت تحفظات فراہم نہیں کرسکتی اور راج شیکھر ریڈی حکومت کے تجربات کو پیش نظر رکھیں جبکہ ہائی کورٹ نے تحفظات کو کالعدم کردیا تھا۔ برسر اقتدار پارٹی کے مسلم ارکان جو عوامی جلسوں اور محافل میں تحفظات اور دیگر مسلم مسائل پر ببانگ دہل اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، انہیں مقامی جماعت کے خوف سے ابھرنا ہوگا۔ ورنہ عوام کے پاس ان کا شمار بھی مقامی جماعت کے ارکان کے طور پر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسمبلی اور کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں جملہ 10 ارکان ہیں، صدرنشین عمر شکیل کے علاوہ فاروق حسین، محمد سلیم، الطاف رضوی اور اکبر اویسی، کرسچن رکن ای اسٹیفن سن کے علاوہ غیر اقلیتی ارکان میں پی مدھوکر، بی ونئے بھاسکر، پی شیکھر ریڈی، جی کملاکر اور سمپت کمار شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT