Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات پربی سی کمیشن کی سماعت کا آغاز، تجاویز طلبی

مسلم تحفظات پربی سی کمیشن کی سماعت کا آغاز، تجاویز طلبی

زبانی یا تحریری نمائندگی کے علاوہ ای میل پر بھی رائے دینے کی سہولت ،سماج کے مختلف طبقات دلچسپی لیں

حیدرآباد۔/13ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ بی سی کمیشن مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کل 14 ڈسمبر سے اپنی عوامی سماعت کا آغاز کرے گا جو 17ڈسمبر تک جاری رہے گی۔ عوامی سماعت میں مسلمانوں میں موجود سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات میں اضافہ پر سماج کے مختلف گوشوں سے رائے حاصل کی جائے گی۔ صدرنشین بی سی کمیشن بی ایس راملو نے بتایا کہ کمیشن کے دفتر واقع میٹرو واٹر ورکس بلڈنگ خیریت آباد میں روزانہ صبح 11تا شام 5 بجے عوامی سماعت کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں کمیشن کے ارکان ڈاکٹر وی کرشنا موہن، ڈاکٹر انجنئے گوڑ اور جے گوری شنکر موجود رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے بی سی کمیشن سے درخواست کی کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کا جائزہ لیں اور اس پر اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کریں۔ مسلمانوں کو تحفظات میں اضافہ کے سلسلہ میں بھی بی سی کمیشن سے سفارشات طلب کی گئی ہیں۔ کمیشن نے عوامی سماعت کے سلسلہ میں تمام دلچسپی رکھنے والے افراد، اداروں اور تنظیموں سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنے خیالات، تجاویز، اعتراضات اور نمائندگیاں زبانی یا تحریری طور پر داخل کریں۔ کمیشن کو حلف نامہ اور اپنی نمائندگی کے 6 سیٹس داخل کرنے ہوں گے۔ صدرنشین کمیشن نے عوام سے درخواست کی کہ وہ سماعت کے دوران اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کریں۔ عوام اپنی تجاویز ای [email protected] پر 19 ڈسمبر تک روانہ کرسکتے ہیں۔ اسی دوران کمیشن کی سکریٹری شریمتی جے ڈی ارونا ( آئی اے ایس ) نے محکمہ اقلیتی بہبود سے خواہش کی کہ کمیشن کیلئے بعض اردو داں عہدیداروں کی خدمات فراہم کریں تاکہ اردو میں نمائندگی کی صورت میں کمیشن کو مدد ملے۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے کمیشن کی سماعت کے دوران 2 مترجمین اور 2 ڈی ٹی پی آپریٹرس کی خدمات فراہم کی ہیں۔ اردو میں کی گئی نمائندگی کا خلاصہ انگریزی میں تیار کرتے ہوئے کمیشن کو پیش کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ کمیشن میں اردو داں اور اقلیتی طبقہ کی نمائندگی نہیں ہے حالانکہ اسے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سماعت کرنی ہے۔ صدرنشین اور ارکان اردو سے ناواقف ہیں اور انہیں اردو زبان میں سماعت کے موقع پر سمجھنے میں کافی دشواری ہوسکتی ہے۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ کمیشن سے وابستہ بعض افراد نے بی سی تنظیموں کو مسلم تحفظات میں اضافہ کی مخالفت کیلئے نمائندگی پر آمادہ کیا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے اور انفرادی طور پر مسلمان کمیشن سے بڑی تعداد میں رجوع ہوں اور ساتھ میں مسلمانوں کی پسماندگی کے حق میں ٹھوس دلائل پیش کریں۔

TOPPOPULARRECENT