Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / مسلم تحفظات پر تعطل

مسلم تحفظات پر تعطل

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
مسلم تحفظات پر تعطل
تلنگانہ میں مسلمانوںکو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے ٹی آر ایس اور پھر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کا وعدہ ریاست بھر کے مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ مسلمانوں کی اکثریت نے اس وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات ‘ بعد میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ٹی آر ایس کے حق میں اپنے وٹوں کا استعمال کیا ہے ۔ حکومت نے اپنے طور پر یہ وعدہ دہرایا بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے حق میں ہے اور اس کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالا جائیگا ۔ تاہم اس مسئلہ پر حکومت کے اقدامات انتہائی سست روی کا شکار ہیں اور اس سستی کی وجہ سے مسلمانوں میں قدرے فکر پیدا ہو رہی ہے ۔ اس ضمن میں حکومت کو اس کا وعدہ یاد دلانے کے مقصد سے مسلسل مہم بھی چلائی گئی اور ریاست بھر کے مسلمانوں نے حکام کو یادداشتیں پیش کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کیلئے دباو ڈالا تھا ۔ خود چیف منسٹر کے فرزند اور ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو نے بھی صحافت سے ملاقات پروگرام میں یہ وعدہ کیا ہے کہ کے سی آر حکومت مسلمانوں کو تحفظات ضرور فراہم کریگی اور وہ مسلمانوںکو مایوس نہیں کریگی ۔ چیف منسٹر وعدوں کو فراموش کردینے والی شخصیت نہیں ہیں۔ ریاست کے مسلمانوں کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ چیف منسٹر اپنے وعدوں کو پورا کرنے میںزیادہ یقین رکھتے ہیںاور مسلمانوں کی پسماندگی اور حالات کی ابتری کا انہوں نے خود تلنگانہ تحریک کے دوران بے شمار مرتبہ اعتراف کیا ہے اور وہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرینگے ۔ تاہم اس کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جار ہا ہے اور جس رفتار سے کام کیا جا رہا ہے اس پر مسلمانوں کو فکر و تشویش لاحق ہے ۔ مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ بی سی کمیشن قائم کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے حق میں اس کی سفارش حاصل کی جائے کیونکہ ایسے طریقے سے حاصل کئے جانے والے تحفظات ہی قانونی طور پر قابل عمل ہوسکتے ہیں اور انہیں عدالتی کشاکش میں بھی کامیابی مل سکتی ہے ۔ تلنگانہ میں اس تعلق سے کافی نمائندگیاں کی گئی ہیں۔ یہاں حکومت نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو اس مسئلہ کا جائزہ لے رہی ہے ۔ یہ طریقہ ایسا ہے جو قانونی مسائل کا شکار ہوسکتا ہے ۔
سدھیر کمیٹی بھی جس مقصد سے قائم کی گئی تھی اس نے ابھی اپنا کام پورا نہیں کیا ہے اور اس کی معیاد میںمزید چھ ماہ کی توسیع یقینی دکھائی دے رہی ہے ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم تحفظات کا مسئلہ پھر کم از کم چھ ماہ کیلئے ضرور ٹل گیا ہے ۔ اب بھی یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایک معیاد میںاضافہ کیا جاتا ہے تب بھی سدھیر کمیٹی اپنا یہ کام پورا کریگی یا نہیں۔ اسی طرح کے تعطل اور ٹال مٹول کی وجہ سے ریاست کے مسلمانوں میں فکر و تشویش پیدا ہو رہی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ حکومت تحفظات کے وعدہ پر کب عمل آوری کریگی ۔اس کے علاوہ مسلمان چاہتے ہیں کہ بی سی کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی جائے اور اس سے سفارشات حاصل کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کا عمل پورا کیا جائے ۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے جو پالیسی اختیار کی گئی ہے وہ صرف ٹال مٹول کی پالیسی ہی ہے اور مسلمانوں سے صرف وعدوں پر اکتفا کیا جارہا ہے ۔ عملی میدان میں کوئی بھی ایسے اقدام نہیں کئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ تحفظات کی فراہمی کا عمل عملا شروع ہوچکا ہے ۔ اس معاملہ میں حکومت کو اب سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور جس طرح سے ریاست کو درپیش بے شمار مسائل پر چیف منسٹر اور ان کی کابینہ نے توجہ کی ہے اور ریاست کے عوام کو راحت پہونچانے اقدامات کئے ہیںاسی طرح سے اب کچھ وقت مسلمانوں کے مسئلہ پر بھی صرف کیا جائے اور خاص طور پر تحفظات کے اہم ترین مسئلہ پر کوئی جامع اور مبسوط حکومت عملی اختیار کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے اقدامات کئے جائیں۔
کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کے معاملہ میں افسر شاہی کی لا پرواہیاں اور ٹال مٹول ایک عام بات ہے اور موجودہ حالات میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر بھی افسر شاہی سے ٹال مٹول ہی کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ اس ٹال مٹول کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب خود حکومت اس مسئلہ کو التوا کا شکار کرنے سے گریز کرے اور سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ حکومت نے اہم ترین پراجیکٹس اور کام مشن بھاگیرتا ‘ مشن کاکتیہ اور ایسے ہی دوسرے پروگرام شروع کئے ہیں۔ ان پر خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ یہ ریاست کی ترقی کیلئے ضروری ہیں ۔ ساتھ ہی اب مسلم تحفظات کے مسئلہ سے بھی اسی طرح ترجیحی انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے اور عہدیداروں اور متعلقہ حکام کو سارا کام ایک مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی جانی چاہئے تاکہ مسلمانوں میں پیدا ہورہی بے چینی کو ختم کیا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT