Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں مباحث کا عدم آغاز

مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں مباحث کا عدم آغاز

آئندہ سماعت 18اپریل کو مقرر‘آندھراپردیش و تلنگانہ حکومت مقدمہ کے اہم فریق
حیدرآباد۔ 29 ۔ فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کے مسئلہ پر آج دستوری بنچ پر سماعت ہوئی۔ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ پی پی راؤ اور تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کے وکیل ممتاز قانون داں سلمان خورشید نے ابتدائی بحث کی۔ آندھراپردیش کے وکیل نے دلائل پیش کرنے کیلئے عدالت سے کچھ مہلت مانگی جس پر سپریم کو رٹ نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 18 اپریل مقرر کی ہے۔ اس طرح مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مباحث کا آغاز نہ ہوسکا۔ امید کی جارہی تھی کہ آج مقدمہ کی سماعت ہوگی اور فریقین کو دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ فریقین کے وکلاء اپنی تیاری کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔ آندھراپردیش حکومت مسلم تحفظات کے مسئلہ پر پہلے ہی سے فریق ہے جبکہ تلنگانہ حکومت نے خود کو بحیثیت فریق شامل کرنے کیلئے درخواست داخل کی جسے سپریم کورٹ نے آج قبول کرلیا۔ اس کے علاوہ محمد علی شبیر نے شخصی طور پر مقدمہ میں بحیثیت فریق شامل ہونے کی درخواست پیش کی ۔ سپریم کورٹ کے وکیل شکیل احمد سید نے ان کی درخواست کو پیش کیا جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ محمد علی شبیر کی جانب سے سابق مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے عدالت کو مسلم تحفظات مقدمہ کی حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے اس مسئلہ پر جامع سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے سماعت کو 18 اپریل تک ملتوی کرنے سے قبل دیگر فریقین کی رائے حاصل کی اور اتفاق رائے کے بعد مقدمہ کی آئندہ سماعت 18 اپریل مقرر کی گئی۔ تلنگانہ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رام چندر راؤ کے علاوہ وینکٹ ریڈی کو سپریم کورٹ کے وکیل راکیش دیویدی کی اعانت کیلئے  مقرر کیا گیا ہے۔ تحفظات کی مخالفت میں دائر کی گئی درخواست کے وکیل کے رام کرشنا ریڈی عدالت میں حاضر نہیں تھے، وہ ہائیکورٹ میں تلنگانہ کے ایڈوکیٹ جنرل مقرر کئے گئے ہیں۔ جمیعۃ العلماء آندھراپردیش و تلنگانہ اس مقدمہ میں اہم فریق ہیں اور اس کی جانب سے شکیل احمد سید اور انوپ جارج چودھری پیروی کر رہے ہیں۔ صدر جمیعۃ العلماء حافظ پیر شبیر احمد سابق ایم ایل سی اور جنرل سکریٹری حافظ خلیق احمد صابر نے وکلاء سے مشاورت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ یو پی اے حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے گئے 4.5 فیصد تحفظات کے مقدمہ میں قومی جمیعۃ العلماء اہم فریق ہے۔ سپریم کورٹ میں آج سماعت کے موقع پر آندھراپردیش کے کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال آئی پی ایس اور قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT