Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں 18 اپریل کو سماعت مقرر

مسلم تحفظات پر سپریم کورٹ میں 18 اپریل کو سماعت مقرر

مقدمہ میں محمد علی شبیر فریق ، ممتاز قانون داں و سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید مقدمہ کی پیروی کریں گے
حیدرآباد۔ 4 ۔ اپریل ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کے مقدمہ پر نئی دہلی میں وکلاء سے بات چیت کی۔ سپریم کورٹ نے 18 اپریل کو مسلم تحفظات مقدمہ کی سماعت مقرر ہے، اس مقدمہ میں محمد علی شبیر فریق کی حیثیت سے شامل ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو قبول کرلیا ۔ سابق مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید جو ملک کے نامور ماہرین قانون میں شمار کئے جاتے ہیں، محمد علی شبیر کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کریں گے۔ محمد علی شبیر نے وکلاء کو مسلم تحفظات کے سلسلہ میں تفصیلی مواد پیش کیا اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تحفظات سے متعلق دستاویزات حوالے کئے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ مسلمانوں کی پسماندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے تحفظات کی برقراری کے حق میں فیصلہ  دے گا ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کی تائید کی اور بتایا کہ شہر اور اضلاع میں یہ تحریک دن بہ دن شدت اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے تحریک کی تائید کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹی آر ایس حکومت پر دباؤ بنایا جائے کہ وہ سپریم کورٹ میں سنجیدگی کے ساتھ پیروی کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر تلنگانہ حکومت کے وکلاء عدالت سے غیر حاضر تھے۔ بعد میں حکومت کے عہدیداروں نے یہ وضاحت کی کہ نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی تحفظات کے بارے میں سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تحفظات کے مخالف وکیل کو ہائیکورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ سے عملاً انحراف کرلیا ہے۔ اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جس کا ثبوت کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں توسیع ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کے بعد بی سی کمیشن کا قیام ضروری ہے۔ حکومت 12 فیصد کے مسئلہ کو آئندہ انتخابات تک ٹالنا چاہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT