Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات پر ٹی آر ایس کے بل میں خامیوں کا انبار

مسلم تحفظات پر ٹی آر ایس کے بل میں خامیوں کا انبار

کانگریس کی تحفظات پر تائید و حمایت ، مرکزی کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : جنرل سکریٹری اے آئی سی سی و انچارج تلنگانہ کانگریس امور ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلم تحفظات کے حق میں ہے ٹی آر ایس نے خامیوں سے بھر پور بل پیش کیا ہے ۔ جس سے کانگریس کی جانب پیش کردہ 4 فیصد مسلم تحفظات خطرے میں پڑنے کے خدشات کا اظہار کیا ۔ بی جے پی پر ہندو مسلم کو لڑا کر اپنی دکان چمکانے کا الزام عائد کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر کیپٹن اتم کمار ریڈی اور جانا ریڈی بھی موجود تھے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلم تحفظات کے حق میں ہے ۔ راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں بی سی کمیشن کی سفارشات پر مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے ۔ جب کہ اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا ہے ۔ مگر سپریم کورٹ نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے مسلم تحفظات پر عمل آوری کی اجازت دی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی بی سی کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی ہے تاہم حکومت نے 12 فیصد تحفظات کا بل منظور کیا ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی 15 فیصد ہے ۔ صرف نصف آبادی کو تحفظات دیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس سے زیادہ دے دیا گیا ہے جب اس کو چیلنج کیا جائے گا تو 4 فیصد مسلم تحفظات پر نظر ثانی ہونے کے خطرات ہیں ۔ کانگریس قائدین نے اسمبلی اور کونسل میں ان خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن حکومت کی جانب سے اس کو اہمیت نہیں دی گئی ۔ کانگریس نے قانون سازی کرتے ہوئے جی او کے ذریعہ تحفظات دیا ہے ۔ جب کہ کے سی آر بل منظور کر کے مرکز کو روانہ کررہے ہیں ۔ کیا مودی سے مسلم تحفظات کے حق میں فیصلہ کرنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد سے تحفظات نہ بڑھنے کی حد مقرر کی ہے ۔ عوام کو تجسس میں رکھا جارہا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں توسیع دینے کے لیے علحدہ بل کی ضرورت نہیں ہے ۔ دستور ہند نے آبادی کے تناسب سے صرف جی او کے ذریعہ ان طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کی گنجائش فراہم کی ہے ۔ یو پی اے کے دور حکومت میں او بی سی تحفظات میں مسلمانوں کو شامل کرتے ہوئے تحفظات دیا گیا تھا ۔ جس کو عدلیہ نے روک دیا ہے ۔ بحیثیت گجرات چیف منسٹر مسلم طلبہ کو اسکالر شپس دینے سے انکار کرنے والے نریندر مودی سے مسلم تحفظات کی تائید کرنے کی امید رکھنا دھوکہ دینے کے مماثل ہے ۔ نریندر مودی کے زیر قیادت مرکزی حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے تین طلاق ، بیف ، گاؤکشی ، گھر واپسی ، لو جہاد کو موضوع بحث بناتے ہوئے ملک میں انتشار پیدا کررہی ہے ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنی دکان چمکا رہی ہے ۔ بلاک منی واپس لانے ہر شہری کے بنک کھاتوں میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے ۔ اچھے دن لانے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ۔ تین طلاق مسلمانوں کا آپسی معاملہ ہے اس کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ کئی مسلم ممالک میں تین طلاق پر امتناع ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کے کئی طبقات بھی تین طلاق پر اتفاق نہیں رکھتے ۔ ملک کے اہم مسائل کو نظر انداز کر کے صرف تین طلاق کو اہم مسئلہ بنانا ٹھیک نہیں ہے ۔ جی ایس ٹی میں کئی خامیاں ہیں ۔ فینانس بل دہشت پھیلا رہا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ ساز باز ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر مودی کی اور وزیراعظم چیف منسٹر کی تعریف کررہے ہیں ۔ کشمیر ایک حساس مسئلہ ہے ۔ انہیں جتنی سپاہیوں سے ہمدردی ہے اتنی ہی ہمدردی عام آدمیوں سے بھی ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کی کارکردگی سے آل انڈیا کانگریس کمیٹی مطمئن ہے ۔ ریڈی کانگریس کے تمام قائدین کو ساتھ لے کر کام کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT