Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کا وعدہ ’ سیاست‘ کی تحریک پر عوامی سطح پر شدت

مسلم تحفظات کا وعدہ ’ سیاست‘ کی تحریک پر عوامی سطح پر شدت

سرکاری تقاریب میں حکومت کے نمائندوں سے استفسارات ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو بھی سامنا
حیدرآباد۔17 نومبر (سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے وعدے پر عمل آوری کے لئے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ مہم عوامی سطح پر شدت اختیار کرچکی ہے اور سرکاری تقاریب میں عوام حکومت کے نمائندوں سے اس سلسلے میں کھل کر سوال کررہے ہیں۔ اردو اکیڈیمی کی جانب سے بیسٹ اردو ٹیچر اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹ ایوارڈ کی پیشکشی تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو مسلم تحفظات کے مسئلہ پر اسی طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریب سے ڈپٹی چیف منسٹر کے خطاب کے بعد جب ایوارڈ کی پیشکشی کا آغاز ہورہا تھا، سامعین میں سے ایک شخص تیزی سے اسٹیج کی طرف بڑھنے لگا۔ سکیوریٹی حکام نے اسے اسٹیج پر چڑھنے سے روک دیا جس پر اس نے بتایا کہ وہ ایک اہم مسئلہ پر سوال کرنا چاہتا ہے۔ مذکورہ شخص نے کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے مختلف امور کا اپنی تقریر میں احاطہ کیا لیکن 12 فیصد مسلم تحفظات کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ اس اہم مسئلہ پر تلنگانہ حکومت کا موقف کیا ہے۔ اس شخص کی جرأت مندی کو دیکھتے ہوئے ایک طرف اسٹیج پر موجود وزراء اور عوامی نمائندے حیرت زدہ رہ گئے تو دوسری طرف سامعین میں موجود دیگر افراد نے اس شخص کی سوال کی تائید کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو اس سلسلہ میں وضاحت کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے پر عمل آوری کی پابند ہے اور اس سلسلے میں تمام قانونی نکات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ذریعہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ بی سی کمیشن سے مسلم تحفظات کے حق میں سفارش حاصل کرنا ضروری ہے لہٰذا حکومت نے حال ہی میں بی سی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری میں تمام قانونی اور دستوری امور کو پیش نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ تحفظات کے اعلان کے بعد کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ 4 فیصد تحفظات کو بھی نقصان پہنچانا نہیں چاہتی۔ اسی لئے مکمل قانونی طریقہ سے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محمود علی نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ تاملناڈو کے طرز پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کیئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد تاملناڈو میں تحفظات کی فراہمی کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات ٹی آر ایس کے مطالبہ پر فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت کانگریس اور ٹی آر ایس نے انتخابی مفاہمت کی بات چیت چل رہی تھی، اسی وقت کے سی آر نے مسلمانوں کو تحفظات کی نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ 4 فیصد تحفظات کا سہرا چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وعدے پر عمل آوری کے لئے سنجیدہ ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے تیقن کے بعد سامعین مطمئن ہوئے اور مزید کسی سوال سے گریز کیا۔

TOPPOPULARRECENT