Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کا وعدہ ورنگل ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کیلئے سخت چیلنج

مسلم تحفظات کا وعدہ ورنگل ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کیلئے سخت چیلنج

Chief Minister Sri K.Chandrashekhar Rao visit to Yerravalli village of Medak District on 12-11-2015.Pic:Style photo service.

چیف منسٹر اُلجھن کا شکار، انتخابی مہم میں وزراء کو وعدہ کی یاددہانی، اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے کانگریس کوشاں
حیدرآباد۔/12نومبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ ورنگل میں ٹی آر ایس کیلئے وبال جان بن چکا ہے اور پارٹی اس حلقہ سے کسی بھی حالت میں کامیابی کیلئے اقلیتوں تائید حاصل کرنے کوشاں ہے۔ اقلیتوں کی تائید کے حصول کیلئے اسے 12فیصد تحفظات کے وعدہ پر موقف کی وضاحت کرنی ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل لوک سبھا حلقہ کی انتخابی مہم کے دوران وزراء اور ٹی آر ایس قائدین کو ہر مقام پر اقلیتوں کی جانب سے 12فیصد تحفظات کے وعدہ کی یاددہانی کرائی جارہی ہے اور وہ کوئی واضح جواب دینے کے موقف میں نہیں ہے۔ ’ سیاست‘ کی جانب سے حکومت کے اس وعدہ کی یاددہانی کے سلسلہ میں شروع کی گئی تحریک کا اثر ورنگل میں صاف طور پر دکھائی دینے لگا ہے جس کے باعث ٹی آر ایس قائدین تشویش میں مبتلاء ہیں کہ پارٹی اقلیتوں کی تائید کے بغیر کس طرح کامیابی حاصل کرے گی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ٹی آر ایس کو اندازہ نہیں تھا کہ تحفظات کی فراہمی کا وعدہ ورنگل میں اس کا تعاقب کرے گا اور حکومت کی تشکیل کے بعد اقلیتوں سے متعلق اہم وعدہ کے بارے میں پارٹی کو سخت امتحان کا سامنا ہے۔ اقلیتیں دیگر وعدوں کے برخلاف تحفظات کے وعدہ کے سلسلہ میں قائدین سے استفسارات کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کو تحفظات کے وعدہ کی کسوٹی پر جانچنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اقلیتوں میں شعور بیداری نے ٹی آر ایس حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور وہ طرح طرح سے اقلیتوں کو یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت کسی بھی حالت میں تحفظات کے وعدہ پر عمل کرے گی۔ بعض مقامات پر قائدین سے رائے دہندوں کو اس مسئلہ پر اُلجھتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

انتخابی مہم کی  تلنگانہ بھون سے نگرانی کرنے والے قائدین کا کہنا ہے کہ پارٹی کو کسانوں کی ناراضگی کے بعد جو اہم مسئلہ سے خطرہ درپیش ہے وہ 12فیصد تحفظات کا مسئلہ ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں جہاں وزراء کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی گئی وہاں کسی نہ کسی موڑ پر قائدین کو اقلیتوں کی جانب سے اس سلسلہ میں سوالات کا سامنا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ بھی اُلجھن کا شکار ہیں اور وہ اقلیتوں کی تائید کے حصول کیلئے حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی آر ایس کی اہم حریف کانگریس پارٹی نے لوک سبھا حلقہ ورنگل کے تقریباً 2لاکھ اقلیتی رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے مسلم تحفظات کے وعدہ کو اہم انتخابی موضوع بنایا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسانوں سے متعلق وعدوں اور شہری علاقوں میں مسلم تحفظات کے وعدہ کی تکمیل میں حکومت کی ناکامی کو کانگریس عوام کے سامنے پیش کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ورنگل کے شہری علاقوں میں سوشیل میڈیا پر چیف منسٹر کے دو بیانات تیزی سے گشت کررہے ہیں جس میں ایک بیان اقتدار کے اندرون چار ماہ  تحفظات کی فراہمی کے وعدہ سے متعلق ہے

جبکہ دوسرا بیان مدت کے تعین سے انکار کا ہے۔ چیف منسٹر کے ان دونوں بیانات کی ویڈیو کلپنگ عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے کانگریس پارٹی اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ سوشیل میڈیا میں گشت کررہی یہ ویڈیو کلپنگ ٹی آر ایس حلقوں میں ہلچل پیدا کرچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم کی کمان اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ اور بھانجے ہریش راؤ کو سپرد کی ہے اور وہ انتخابی مہم کے آخری دن تک ورنگل میں قیام کریں گے۔ تمام وزراء، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ انتخابی مہم کے سلسلہ میں مذکورہ دونوں وزراء سے ربط میں رہیں اور جہاں بھی ضرورت ہو انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے پہنچ جائیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ  وزارت میں شامل واحد اقلیتی نمائندہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو صرف ایک مرتبہ ورنگل میں انتخابی مہم کیلئے مدعو کیا گیا۔ انہیں ابھی تک انتخابی مہم میں سرگرم نہیں کیا گیا ہے جس سے مقامی ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین بھی تشویش میں مبتلاء ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے ورنگل میں انتخابی مہم کے اپنے پروگرام کو ابھی تک قطعیت نہیں دی ہے۔ وہ 17یا 18نومبر کو ورنگل میں انتخابی مہم میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پروگرام کو قطعیت نہیں دی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اگر 16نومبر تک انتخابی مہم میں ٹی آر ایس کو سبقت حاصل رہی تو چیف منسٹر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے۔ اگر اس کے برخلاف رپورٹ ملتی ہے تو وہ آخری دو دن ورنگل کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی مہم میں حصہ لیں گے اور پارٹی امیدوار کی کامیابی کی کوشش کریں گے۔ اس طرح مسلم تحفظات کے مسئلہ میں شدت نے چیف منسٹر کو انتخابی مہم کے سلسلہ میں پس و پیش میں مبتلاء کردیا ہے۔ ضلع کے اقلیتی قائدین بھی اس مسئلہ پر واضح اظہار خیال کے موقف میں نہیں ہیں۔ جمعیتہ العلماء جو مسلم تحفظات کے حق میں کھل کر مہم چلارہی ہے ورنگل سے تعلق رکھنے والے اس کے بعض قائدین ٹی آر ایس کی تائید کرتے نظر آئے تاہم مسلم تحفظات کے وعدہ  کے بارے میں ان کا موقف غیر واضح ہے۔

TOPPOPULARRECENT