Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن متحرک، عوامی سماعت کی تیاریاں

مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن متحرک، عوامی سماعت کی تیاریاں

…  ( ’ سیاست‘ کی مہم کے کامیاب اثرات)  …
مسلم تحفظات کیلئے بی سی کمیشن متحرک، عوامی سماعت کی تیاریاں
سدھیر کمیشن کے ساتھ اجلاس، تحفظات کے موجودہ فیصد میں اضافہ ناگزیر، بی سی کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو کی رائے

رشیدالدین
حیدرآباد۔/6ڈسمبر۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں ریاستی بی سی کمیشن عنقریب اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کردے گا۔ حال ہی میں قائم کردہ تلنگانہ اسٹیٹ بی سی کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے اپنے ارکان کے ساتھ سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں آئندہ لائحہ عمل کا جائزہ لیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بی سی کمیشن جاریہ ماہ کے اختتام تک اپنی حکمت عملی طئے کرلے گا اور باقاعدہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے سلسلہ میں عوامی سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔ مسلم تحفظات کے حق میں بی سی کمیشن کی سرگرمیوں کا آغاز دراصل روز نامہ ’سیاست‘ کی جانب سے تحفظات کے حق میں ریاست بھر میں شروع کی گئی مہم کا اثر ہے۔ روز نامہ سیاست کی مہم شہری اور دیہی علاقوں میں اس قدر شدت اختیار کرچکی تھی کہ حکومت کو بی سی کمیشن کی تشکیل پر مجبور ہونا پڑا اور اب کمیشن نے تحفظات کے مسئلہ پر عوامی سماعت کا خوش آئند فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جاریہ ماہ اسمبلی اجلاس کے بعد بی سی کمیشن عوامی سماعت
کے شیڈول کا اعلان کرے گا۔ کمیشن  مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے قائم کئے گئے سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کے تناظر میں اپنی کارکردگی کا آغاز کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو بھی حکومت کے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے حق میں ہیں تاہم وہ کمیشن کے ذریعہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی سفارش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے سدھیر کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ 4 فیصد تحفظات ناکافی ہیں اور اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ سدھیر کمیشن نے جس طرح 7 تا 12 فیصد تحفظات کی سفارش کی ہے اسی بنیاد پر بی سی کمیشن بھی مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لے گا اور حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ بی سی کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کے سلسلہ میں سدھیر کمیشن کی تحقیقی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سدھیر کمیشن نے 18 ماہ میں نہ صرف اضلاع کا دورہ کیا بلکہ عوامی سماعت اور مختلف محکمہ جات سے مسلمانوں کے اعداد و شمار اکٹھا کرتے ہوئے حکومت کو جامع رپورٹ پیش کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ بی سی کمیشن کو اپنی سفارشات جلد پیش کرنے میں کارآمد ثابت ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق بی سی کمیشن دیگر طبقات کی طرح بی سی ای زمرہ میں موجودہ 4  فیصد مسلم تحفظات کا بھی جائزہ لے گا۔ اسی کام کو آگے بڑھانے کیلئے دونوں کمیشنوں کے درمیان اب تک دو اجلاس ہوچکے ہیں۔ سدھیر کمیشن نے کل بی سی کمیشن کے ذمہ داروں سے ملاقات کی تھی جبکہ آج بی سی کمیشن کی ٹیم نے سدھیر کمیشن سے ان کی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بی سی کمیشن کے صدرنشین کے علاوہ ان کے ارکان اور کمشنر بی سی ویلفیر شریمتی جی ڈی ارونا ( آئی اے ایس ) موجود تھیں۔ سدھیر کمیشن کے صدرنشین ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار ٹی سدھیر کے علاوہ ارکان عامر اللہ خاں، پروفیسر عبدالشعبان اور ایم اے باری موجود تھے۔ سدھیر کمیشن آف انکوائری کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ عامر اللہ خاں نے مسلمانوں کی صورتحال پر اپنی تحقیقی رپورٹ کا پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا اور بتایا کہ کمیشن نے موجودہ صورتحال میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ دونوں کمیشنوں کے اجلاس میں 50 فیصد سے زائد تحفظات فراہم کرنے والی ریاستوں اور وہاں کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بی سی کمیشن کو بتایا گیا کہ مسلمان تلنگانہ میں ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں اور انہیں تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ دونوں کمیشنوں نے آئندہ بھی اسی طرح تال میل برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں 3 ماہ کی توسیع کی گئی جو 31 ڈسمبر کو ختم ہوجائے گی۔ اگر تلنگانہ حکومت مسلم تحفظات کے مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی کے حق میں ہے تو اسے چاہیئے کہ سدھیر کمیشن کی میعاد میں توسیع کرتے ہوئے اس میں موجود ماہرین کی خدمات سے بی سی کمیشن کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں۔ سدھیر کمیشن نے حکومت کو جو رپورٹ پیش کی ہے بتایا جاتا ہے کہ حکومت بہت جلد یہ رپورٹ بی سی کمیشن کے حوالے کرے گی اور یہ رپورٹ اسمبلی کے مجوزہ اجلاس میں بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ عام انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے حکومت تشکیل دینے کی صورت میں 4 ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کی تشکیل کے بعد روز نامہ ’سیاست‘ نے اس وعدہ کی تکمیل کیلئے مہم کا آغاز کیا جس پر سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا تھا۔ ’سیاست‘ نے نہ صرف دیہی علاقوں تک مسلمانوں میں شعور بیداری کا کام کیا بلکہ ہر سطح پر مسلمانوں کی جانب سے تحفظات کے حق میں نمائندگیاں کرائی گئیں ۔ عوامی نمائندوں، وزراء، عہدیداروں کے علاوہ بی سی کمیشن سے نمائندگی کی گئی۔ اب جبکہ بی سی کمیشن نے تحفظات پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے امید کی جاسکتی ہے کہ بی ایس راملو کی زیر قیادت کمیشن جلد سے جلد حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT