Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کیلئے14 تا17 ڈسمبربی سی کمیشن کی عوامی سماعت

مسلم تحفظات کیلئے14 تا17 ڈسمبربی سی کمیشن کی عوامی سماعت

مسلم اداروں ، تنظیموں کیلئے سنہری موقع، زیادہ سے زیادہ نمائندگی کی ضرورت، موجودہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی مساعی
حیدرآباد۔/10ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلم تحفظات کے مسئلہ پر بی سی کمیشن نے عوامی سماعت کا اعلان کیا ہے۔ کمیشن اس سلسلہ میں 14 تا 17 ڈسمبر صبح 11 تا 5 بجے شام اپنے دفتر واقع خیریت آباد میں مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مختلف گوشوں سے سماعت کا اہتمام کرے گا جس میں مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر انہیں روزگار اور تعلیم میں تحفظات کی فراہمی پر رائے حاصل کی جائے گی۔بی سی کمیشن کی جانب سے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر 4 روزہ عوامی سماعت میں مسلمانوں کی جانب سے موثر نمائندگی کی ضرورت ہے۔ کسی بھی طبقہ کو تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن کی سفارش ضروری ہے اور ایسے وقت جبکہ بی سی کمیشن نے اپنی سماعت کا اعلان کیا ہے مسلم جماعتوں، تنظیموں اور تحفظات کے حامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چار دنوں میں کمیشن سے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے نمائندگی کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بی سی کمیشن کی سماعت کے دوران ادارں کے علاوہ انفرادی طور پر بھی نمائندگی کی جاسکتی ہے تاہم بہتر یہی ہوگا کہ تحفظات کے مسئلہ پر عبور رکھنے والے وکلاء اور ماہرین قانون کے ذریعہ کمیشن سے رجوع ہوں تاکہ کمیشن تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی سفارش کرسکے۔ اب جبکہ گذشتہ ڈھائی سال سے روز نامہ ’سیاست‘ کی ریاست گیر مہم کے بعد بی سی کمیشن کا قیام عمل میں آیا اور کمیشن نے اپنی کارکردگی کا آغاز مسلم تحفظات پر عوامی سماعت سے کیا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست بھر سے مسلم تنظیمیں اور ادارے سماعت میں حصہ لیں اور سابق میں مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق سچر کمیٹی اور دیگر کمیشنوں کی رپورٹ کی تفصیلات کے ساتھ پیش ہوں۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے بتایا کہ مسلم تحفظات کے سلسلہ میں نمائندگیاں، تجاویز اور اعتراضات پیش کرنے کے خواہشمند افراد اس زبانی سماعت میں حاضر ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے 22 اکٹوبر کو بی سی کمیشن تشکیل دیا تھا اور اس کمیشن کو ریاست میں تمام پسماندہ طبقات کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن بی سی میں موجود تقریباً 150 طبقات کے موجودہ موقف کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی کمیشن محض ایک کمیشن کی طرح نہیں بلکہ پسماندہ طبقات کے بارے میں ایک ریسرچ وِنگ کی طرح اپنی کارکردگی کا آغاز کرے گا۔ صدرنشین کمیشن نے کہا کہ حکومت آبادی کے اعتبار سے بی سی طبقات بشمول مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کے حق میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاملناڈو کی طرز پر تلنگانہ میں تحفظات میں اضافہ کرتے ہوئے دستور کے 9 ویں شیڈول میں شمولیت کی مساعی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کو بھی بی سی کمیشن پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق سفارشات پیش کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ جس طرح سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کو 7تا12 فیصد تحفظات میں اضافہ کی سفارش کی ہے اسی بنیاد پر بی سی کمیشن بھی موجودہ مسلم تحفظات میں اضافہ کی سفارش کرسکتا ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو فی الوقت 4 فیصد مسلم تحفظات حاصل ہیں اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ امکان ہے کہ بی سی کمیشن عوامی سماعت اور مسلمانوںکی صورتحال کا سروے کرنے کے بعد موجودہ تحفظات کے فیصد کو دوگنا کرنے کی سفارش کرسکتا ہے۔ صدر نشین نے کہا کہ جہاں تک مسلمانوں کو تحفظات میں اضافہ کا سوال ہے حکومت بھی اس سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور کمیشن بھی پوری دیانتداری کے ساتھ اس مسئلہ کی سماعت کرتے ہوئے کوئی نتیجہ پر پہنچے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلمان ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں اور انہیں تحفظات کے ذریعہ ہی ترقی دی جاسکتی ہے۔ بی سی کمیشن نے حال ہی میں سدھیر کمیشن آف انکوائری کے صدرنشین اور ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی رپورٹ اور ان کے پاس دستیاب مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں اعداد و شمار پر بات چیت کی تھی۔ بی سی کمیشن مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں موجودہ تحفظات کے تحت نمائندگی کا جائزہ لے گا اور ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے وقت ناانصافی کی شکایات کی بھی تحقیقات کرے گا۔ بی سی کمیشن اپنی رپورٹ جلد پیش کرنا چاہتا ہے۔ عوامی سماعت روزانہ 11 تا شام 5 بجے کمیشن کے دفتر واقع میٹرو ورکس مین بلڈنگ، چوتھی منزل، خیریت آباد پر کی جائے گی۔ اس بارے میں مسلمہ یا غیر مسلمہ ادارے 19 ڈسمبر سے قبل تک ڈیٹا میٹریل اور ثبوت کمیشن کو پیش کردیں۔ یہ مواد تلگو یا انگریزی زبان میں 6 سیٹس کی شکل میں ہو۔ تحریری نمائندگیاں ذریعہ ڈاک کمیشن کو 19 ڈسمبر تک موصول ہوجانی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT