Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کی فراہمی میں تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت غیر سنجیدہ

مسلم تحفظات کی فراہمی میں تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت غیر سنجیدہ

سدھیر کمیٹی کے ساتھ حکومت کی لاپرواہی پر محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 10۔  فروری  (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت پر مسلم تحفظات کی فراہمی میں غیر سنجیدگی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے ، اس سے ثابت ہورہا ہے کہ وہ 12 فیصد تحفظات سے متعلق وعدہ کی تکمیل میں سنجیدہ نہیں ہے اور آئندہ چار برسوں تک اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی جائے گی۔ سدھیر کمیشن آف انکوائری کو بجٹ کی عدم اجرائی اور انفراسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی میں حکومت کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھانے کے ماہر ہیں، جس طرح انتخابات سے قبل ہر طبقہ کیلئے وعدے کئے گئے ، اسی طرح کامیابی کے بعد بھی وعدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقتدار کے چار ماہ بعد مسلم تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالتے ہی انہوں نے وعدہ سے انحراف کرلیا ۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کا قیام محض ایک دکھاوا ہے کیونکہ تحفظات کیلئے حکومت کو سفارش کرنے کا اختیار صرف بی سی کمیشن کو ہے اور اس سلسلہ میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔ سابق میں کانگریس حکومت نے جب اسی طرح کے سروے کی بنیاد پر 5 فیصد تحفظات فراہم کئے تو ہائیکورٹ نے اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعہ سفارش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تائید برقرار رکھنے کیلئے حکومت نے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا اور اسے 6 ماہ کی توسیع دی گئی۔ آئندہ ماہ یہ توسیع ختم ہوجائے گی اور مزید توسیع کے ذریعہ تحفظات کے مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے قیام کے بعد سے اسے دفتر کی فراہمی اور باقاعدہ کام کاج کے آغاز میں 6 ماہ کا وقت لگ گیا اور ابھی تک نہ ہی ارکان کی تنخواہیں ادا کی گئیں اور نہ سروے کیلئے کمیشن کو بجٹ جاری کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کے مسلم تحفظات کے بارے میں دعوے محض کھوکھلے ہیں۔ بلدی انتخابات اور نارائن کھیڑ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے تحفظات کے وعدہ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ورنگل ضمنی انتخاب میں مسلمانوں نے تحفظات کے وعدہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی تائید کی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کے ساتھ رویہ کے بارے میں وضاحت کرے تاکہ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں مسلمانوں کو مطمئن کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی میعاد میں بار بار توسیع سے حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کمیشن کو درکار بجٹ فوری جاری کرے اور سرکاری محکمہ جات کے ذریعہ درکار تفصیلات روانہ کرے تاکہ سدھیر کمیشن جلد سے جلد اپنی رپورٹ پیش کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 4 فیصد تحفظات کی فراہمی میں لاکھوں مسلم طلبہ کیلئے تعلیمی مواقع پیدا کئے جس کا اعتراف اقلیتوں کو آج بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے علاوہ فیس باز ادائیگی اسکیم کانگریس کارنامہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT