Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے بغیر ہی مختلف محکموں میں تقررات جاری

مسلم تحفظات کے بغیر ہی مختلف محکموں میں تقررات جاری

محکمہ پولیس میں مسلمانوں کو 720 جائیدادوں کا نقصان ، حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے لیے جاری تحریک اور تقررات سے قبل تحفظات کے مطالبہ کو حکومت یکسر طور پر نظر انداز کردیاہے ۔ ایک طرف مسلمانوں کو ترقی اور بہبود کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے کئے گئے وعدہ کو فراموش کیا جارہا ہے تو دوسری طرف مختلف محکموں میں تقررات جاری ہیں ۔ آج چیف منسٹر نے محکمہ پولیس میں 9 ہزار جائیدادوں پر تقرر کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی ۔ حکومت کے وعدہ پر عمل آوری سے قبل ان تقررات سے مسلمانوں کو محکمہ پولیس میں تقریبا 720 جائیدادوں کا نقصان ہوگا کیوں کہ اعداد و شمار پسماندگی کی بنیاد اور حقیقی حالت زار سے مسلمان ہر شعبہ میں پچھڑے ہوئے طبقات سے بھی پسماندہ ہیں جب کہ ان حالات کا حوالہ دے کر سابقہ حکمرانوں کو قصوار ٹھہراتے ہوئے سنہرے تلنگانہ کے قیام کا خواب دیکھا کر چیف منسٹر نے خود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا لیکن اس وعدہ پر عمل آوری کا دور دور تک پتہ نہیں ۔ جہاں ایک طرف تحریک جاری ہے وہیں حکومت کی بے حسی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومت کا رویہ ریاست کی بڑی اقلیت کو ترقی سے دور کرنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔ تحریک میں شامل افراد انجمنوں مذہبی و سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد طلبہ اولیائے طلبہ نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا ہے کہ حکومت کو تحفظات سے قبل تقررات کا اعلان نہیں کرنا چاہئے ۔ یاد رہے کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے روزنامہ سیاست کی جانب سے ریاست بھر میں تحریک جاری ہے ۔ تاہم شہری علاقوں بالخصوص حیدرآباد و سائبر آباد میں اس تحریک کا شدت اختیار کرنا ضروری تصور کیا جارہا ہے ۔ اور شہر کے مسلمانوں کی عدم دلچسپی اور مبینہ لاپرواہی سرکاری سرد مہری کا سبب بھی تصور کی جاری ہے ۔ جس سے کہ قوم کی نوجوان نسل کا غیر تلافی نقصان ہورہا ہے اور قوم کی تعمیر نو میں جہاں تحفظات اہم رول ادا کرسکتے ہیں اس سنگین مسئلہ پر عدم جدوجہد سست روی اور لاپرواہی مستقبل کے نقصانات کا سبب بن سکتی ہے ۔ شہر میں مسلمان کثیر تعداد میں موجود ہیں اور مذہبی و سیاسی لحاظ سے بھی بہتر موقف رکھتے ہیں باوجود اس صلاحیت کے تحفظات سے عدم دلچسپی حکومت کے لیے ٹال مٹول اور تعطل کا ہتھیار ثابت ہورہی ہے ۔ یعنی حکومت ہماری لاپرواہی اور سست روی کا بدلہ عیاری نوجوان نسل کو دے رہی ہے جو ہماری سستی سے نسل کمزور ہورہا ہے اضلاع کے مسلمانوں نے بھی شہری مسلمانوں کی جانب سے تحریک میں شدت پیدا کرنے پر زور دیا ہے ۔ اگر مسلمانوں کی خاموشی اسطرح جاری رہتی ہے تو ریاستی حکومت ایک لاکھ 7 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے اپنی نشانہ کو آہستہ آہستہ عمل کرے گی جیسا کہ عمل آوری جاری ہے اور یہ سلسلہ جاری رہا تو نوجوان مسلم نسل اپنے ہی طبقہ کے ہاتھوں اپنے مستقبل کو تاریک بنائے گی ۔ اضلاع کے مسلمانوں نے شہری مسلمانوں سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک سے جڑ جائیں اور روزنامہ سیاست کے ذمہ داروں کے نعرہ کے مطابق بلالحاظ سیاسی ، ملی ، مسلکی ، تنظیمی وابستگی قوم کے اس اہم اجتماعی مسئلہ سے جڑ جائیں اور حکومت پر زور دیں کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرے اور بی سی کمیشن کو فوری قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کو بی سی کمیشن کی سفارش پر تحفظات فراہم کریں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اجتماعی کوششیں نہ کی جائے بلکہ اس میں دہ بہ دن شدت پیدا کی جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT