Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے حق میں متحرک ہونے ٹی آر ایس وزراء پر دباؤ

مسلم تحفظات کے حق میں متحرک ہونے ٹی آر ایس وزراء پر دباؤ

اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں قرارداد کا فیصلہ ارکان کی رائے پر منحصر، کرسی صدارت سے تحریک کی پیشکشی مناسب
حیدرآباد۔/16جولائی، ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے حق میں عوامی تحریک کی شدت کا اثر حکومت کے حلقوں میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ شہر اور اضلاع میں ٹی آر ایس قائدین اور عوام وزراء سے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر متحرک ہونے کیلئے دباؤ بنارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسمبلی اور کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل نے بھی اس بات کا اعتراف کیاکہ مسلم تحفظات سے تعلیمی اور معاشی پسماندگی ممکن ہے۔ انہوں نے 20جولائی کو ہونے والے اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں تحفظات کے حق میں متفقہ قرارداد کے مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اس سلسلہ میں ارکان کی رائے کے مطابق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کمیٹی کی ذمہ داری حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانا ہے اور اس سلسلہ میں تمام اسکیمات پر عمل آوری کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے قیام کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کی تمام اسکیمات سے حقیقی مستحقین کو فائدہ ہو اور حکومت نے جو بجٹ مختص کیا ہے اس کا صحیح استعمال ہو۔ عامر شکیل نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر قائم ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے کئی عوامی تقاریب میں کیا ہے لہذا اس وعدہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں کسی شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کی دلچسپی کے سبب سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا جس سے جلد ہی رپورٹ حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات ملتے ہی حکومت پیش رفت کرے گی۔ واضح رہے کہ ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی کی سفارشات کو کافی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسے مقننہ کی منظوری سے حکومت کے پاس روانہ کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر اجلاس میں مسلم تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کی جاتی ہے تو یہ کمیٹی اور اس کے ارکان کی دلچسپی کا اظہار ہوگا۔ کمیٹی میں موجود ارکان میں ایک بھی رکن تحفظات کے خلاف نہیں ہے لہذا قرارداد کی منظوری میں کسی رکاوٹ کا امکان نظر نہیں آتا۔ ٹی آر ایس کے رکن کونسل محمد سلیم نے قرارداد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ تحریک کسی رکن کے بجائے کرسی صدارت سے پیش کی جائے تو مزید بہتر ہوگا اور متفقہ طور پر منظوری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس کمیٹی میں ٹی آر ایس کے علاوہ کانگریس اور مجلس کے ارکان ہیں اور یہ تمام جماعتیں تحفظات کی تائید میں ہیں۔ کانگریس پارٹی کے قائدین تحفظات میں تاخیر کیلئے کھلے عام حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔اسی دوران ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین تحفظات کے مسئلہ پر اجلاس طلب کرنے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ اس اجلاس میں تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کے موقف سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جائے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پارٹی کے اقلیتی قائدین کو تحفظات کے مسئلہ پر آج تک ٹی آر ایس قیادت نے اعتماد میں نہیں لیا اور نہ اس مسئلہ پر مشاورت کی ہے۔ ان حالات میں پارٹی کے اقلیتی قائدین خود کو بے بس تصور کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ سے متعلق انتہائی اہم وعدے کے سلسلہ میں آج تک ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں نے پارٹی کیڈر کے ساتھ اجلاس منعقد نہیں کیا۔ اس طرح پارٹی کے عوامی نمائندوں اور عام قائدین و کیڈر میں کافی خلیج دیکھی جارہی ہے۔ پارٹی کے عوامی نمائندے اس مسئلہ پر کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں تاکہ چیف منسٹر کی ناراضگی سے بچ سکیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ تحفظات کے مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کریں گے تو انہیں چیف منسٹر کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے سیاسی مستقبل پر بھی اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ گذشتہ دو برسوں سے پارٹی کے قائدین نامزد عہدوں کے منتظر ہیں اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے میں بعض قائدین کا احساس ہے کہ بجائے سرکاری عہدوں کے مسلمانوں کی بھلائی سے متعلق 12فیصد تحفظات پر عمل آوری کی مہم میں شامل ہوجائیں تاکہ قوم کا مجموعی فائدہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT