Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے خلاف رکن اسمبلی آر کرشنیا کی رائے

مسلم تحفظات کے خلاف رکن اسمبلی آر کرشنیا کی رائے

کمیشن سے استقبال ، مسلم تنظیموں کا احتجاج ، کمیشن میں کشیدگی اور نعرہ بازی
حیدرآباد ۔ 19۔ڈسمبر (سیاست نیوز) بی سی کمیشن میں آج اس وقت ہلکی سی کشیدگی اور نعرہ بازی کا ماحول پیدا ہوگیا جب پسماندہ طبقات کی مختلف تنظیموں کی سرپرستی کرنے والے رکن اسمبلی آر کرشنیا کمیشن سے رجوع ہوئے ۔ سینکڑوں حامیوں کے ساتھ جیسے ہی وہ کمیشن کے اجلاس میں داخل ہوئے کمیشن کے ارکان نے وہاں پہلے سے موجود مسلم تنظیموں کے نمائندوں کو ہٹاکر آر کرشنیا کا استقبال کیا۔ اس طرز عمل پر مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ کمیشن کی جانب سے وی آئی پی سلوک بند کیا جانا چاہئے ۔ یہ سننا تھا کہ آر کرشنیا کے حامی بھڑک اٹھے اور جئے بی سی کے نعرے لگاتے ہوئے مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ الجھ گئے۔ اس موقع پر دھکم پیل کے مناظر بھی دیکھے گئے ۔اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کمیشن کے ارکان کو سخت جدوجہد کرنی پڑی اور پولیس کو طلب کرلیا گیا ۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے نعرہ بازی پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ کمیشن میں نعرہ بازی سے مطالبات کی تکمیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا اختیار حاصل ہے اور کمیشن ہر ایک سے رائے حاصل کرے گا۔ انہوں نے نعرہ بازی بند کر کے بی سی ارکان کو ہال سے جانے کی ہدایت دی جس کے بعد صورتحال قابو میں آئی ۔ آر کرشنیا نے کمیشن کے روبرو مسلم تحفظات کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی ۔ ان کے ساتھیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بی سی کمیشن ہے نہ کہ اقلیتی کمیشن۔ آر کرشنیا نے کہا کہ بی سی طبقہ کی آبادی 52 فیصد لیکن انہیں صرف 25 فیصد تحفظات حاصل ہے جس میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات دیئے جانے کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بی سی زمرہ سے ہٹ کر علحدہ اقلیت کے زمرہ میں تحفظات فراہم کئے جائیں۔ مسلمانوں کیلئے علحدہ وزارت اور کئی ادارے موجود ہیں جبکہ بی سی طبقات سخت ناانصافی کا شکار ہے ۔ انہوں نے کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت فیصلہ نہ کریں بلکہ دستوری گنجائش کے اعتبار سے اپنی رپورٹ پیش کریں۔ آر کرشنیا نے کہا کہ مسلمانوں کے کئی طبقات میں پسماندگی موجود ہے لیکن ان سے انصاف کیلئے بی سی طبقات سے ناانصافی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کمیشن کو اضلاع کا دورہ کرنے اور بی سی تحفظات کے فیصد میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ بھی مختلف بی سی نمائندوں کے ساتھ کمیشن سے رجوع ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی نہ ہوں ۔ اگر حکومت مسلمانوں کو موجودہ 4 فیصد تحفظات میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے تو وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے تاہم مسلم تحفظات بی سی زمرہ میں فراہم کرنے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی آبادی 52 فیصد ہے ، لہذا آبادی کے لحاظ سے انہیں تحفظات حاصل ہونے چاہئے ۔ کانگریس پارٹی کے سابق رکن اسمبلی شاد نگر سی ایچ پرتاپ ریڈی نے مقامی قائدین محمد علی خاں بابر جنرل سکریٹری کانگریس ، سید مصلح الدین صدر مدینہ مسجد شاد نگر ، محمد فاروق علی ، سید نواب ، محمد عبدالرحیم ، یوسف علی خاں ، ایم اے عزیز اور محمد محمود کے ساتھ بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی تائید کی۔ ان کے علاوہ بعض دیگر بی سی تنظیموں اور طلبہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں تحفظات فراہم کرنے کی مخالفت کی۔

TOPPOPULARRECENT