Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے خلاف کودنڈا رام بھی بی جے پی کی سازش میں شامل

مسلم تحفظات کے خلاف کودنڈا رام بھی بی جے پی کی سازش میں شامل

مسلمانوں کو مذہب نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات دینے کے سی آر کا عزم: ای راجیشور ریڈی
حیدرآباد۔5 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ وہپ ای راجیشور ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی 12 فیصد مسلم تحفظات کے خلاف کودنڈارام کے ساتھ مل کر سازش کررہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجیشور ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں سے تحفظات کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر فراہم کیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے تاکہ صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پروفیسر کودنڈارام بھی مسلم تحفظات کے خلاف بی جے پی کے ساتھ سازش میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں عوام سے کیئے گئے بیشتر وعدوں کی تکمیل کرلی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انتباہ دیا کہ اگر کسی واضح ثبوت کے بغیر حکومت کے خلاف الزام تراشی کی گئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کی جانب سے حکومت پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے راجیشور ریڈی نے کہا کہ جو پارٹی خود اسکیام اور بے قاعدگیوں میں ملوث رہی اسے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتم کمار ریڈی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹی آر ایس حکومت بے قاعدگیوں سے پاک نظم و نسق فراہم کررہی ہے۔ ٹی آر ایس دور حکومت میں سرکاری اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت پیدا کی گئی اور اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کانگریس قائدین بے بنیاد الزام تراشی کررہے ہیں۔ راجیشور ریڈی نے دعوی کیا کہ 2019ء میں ٹی آر ایس کا دوبارہ اقتدار میں آنا یقینی ہے اور عوام نے یہ طے کرلیا ہے کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے لیے ٹی آر ایس کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں اس قدر فلاحی اسکیمات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستیں فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے رہنمائی حاصل کررہی ہے۔ راجیشور ریڈی نے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ترقیاتی و فلاحی اسکیمات میں حکومت سے تعاون کریں اور بے جا الزام تراشی سے گریز کریں۔ تلنگانہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے  لیے وقف ہوچکی ہے اور کے خلاف کوئی بھی سازش کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ راجیشور ریڈی نے اندرا پارک کے دھرنا چوک کی بحالی کے لیے بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے احتجاج کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے عوام کی تکالیف کو پیش نظر رکھتے ہوئے دھرنے کے مقام کو تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دھرنے کو روکنا نہیں بلکہ صرف مقام کی تبدیلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنا چوک کے مسئلہ پر کودنڈارام اور دیگر قائدین غیر ضروری احتجاجی راستہ اختیار کررہے ہیں۔ راجیشور ریڈی نے آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ کو مستقل خشک سالی سے نجات دینے کے لیے پراجیکٹس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں پراجیکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT