Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / مسلم تحفظات کے لیے بی سی کمیشن کو 65 ہزار سے زائد نمائندگیاں

مسلم تحفظات کے لیے بی سی کمیشن کو 65 ہزار سے زائد نمائندگیاں

سیاست سے 35 ہزار یادداشتیں ، مسلمانوں میں شعور بیداری کا ثبوت
ہر شعبہ حیات کی شخصیتوں کے دلائل ، مسلم پسماندگی پر تحفظات فراہمی پر زور
حیدرآباد ۔ 19۔ڈسمبر (سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر بیاک ورڈ کلاسس کمیشن کی عوامی سماعت کا آج شام اختتام عمل میں آیا۔ گزشتہ 6 دنوں کے دوران کمیشن کو 52 ہزار سے زائد تحریری طور پر نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے تحریری طور پر 10,000 سے زائد نمائندگیاں داخل کی گئیں جبکہ سیاست کو ای میل پر موصولہ 35 ہزار سے زائد نمائندگیاں کمیشن کے حوالے کی گئیں۔ اس طرح کمیشن کو مسلم تحفظات کے موجودہ فیصد میں اضافہ کے حق میںتقریباً 65 ہزار تحریری نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں جو اب تک کے کسی بھی بی سی کمیشن کو موصولہ نمائندگیوں کے مقابلہ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم تحفظات کے حصول کیلئے مسلمان کس طرح جاگ چکے ہیں ۔ روزنامہ سیاست نے گزشتہ ایک سال سے تلنگانہ کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں تحفظات کے حق میں مہم چھیڑ دی تھی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بی سی کمیشن کو عوامی سماعت کیلئے دو دن کی توسیع کرنی پڑی۔ ابتداء میں 14 تا 17 ڈسمبر 4 روزہ سماعت کا اعلان کیا گیا تھا ۔ تاہم ہزاروں افراد کے رجوع ہونے اور مسلمانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھتے ہوئے دو دن کی توسیع کی گئی جو آج ختم ہوگئی ۔ کمیشن کے صدرنشین بی ایس راملو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف گوشوں سے تجویز پیش کی گئی کہ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ لہذا بی سی کمیشن دورہ اضلاع کے سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہے ۔ انہوں نے عوامی سماعت کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور کہا کہ اب تک کسی بھی کمیشن کو اس قدر بڑی تعداد میں نمائندگیاں وصول نہیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے مسلمانوں کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کی ہے ، جس کا جائزہ لینے کی ذمہ داری بی سی کمیشن کو دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمیشن نے تحفظات کے مسئلہ پر عوام سے رائے طلب کی تھی لیکن جس انداز میں نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں ، اس سے مسلمانوں کو درپیش دیگر مسائل کا بھی کمیشن کو علم ہوا ہے ۔ انہوں نے کمیشن سے رجوع ہونے والی جماعتوں ، تنظیموں ، اداروں اور انفرادی شخصیتوں سے اظہار تشکر کیا۔ بی ایس راملو نے روزنامہ سیاست کی جانب سے کی گئی نمائندگیوں کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ سیاست نے مسلم طبقہ کے مسائل اور ان کے جذبات کی موثر نمائندگی کی ہے۔ جس انداز میں مسلم تنظیموں اور اداروں نے نمائندگی کی ، اس سے پتہ چلا کہ اس قدر بڑی تعداد میں مسلم ادارے کام کر رہے ہیں۔ بی ایس راملو نے کہا کہ راشن کارڈ اور آدھار کارڈ کے ذریعہ بی سی کمیشن مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کی کوشش کرے گا ۔ سماعت کے آخری دن آج 300 سے زائد نمائندگیاں وصول ہوئیں اور وفود کی شکل میں شہر اور اضلاع سے سینکڑوں افراد کمیشن کے دفتر پہنچے۔ کمیشن کو گزشتہ 6 دن کے دوران ای میل پر جو جوابات اور نمائندگیاں وصول ہوئی ہیں ، ان کی تعداد کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد کمیشن موصولہ اعداد و شمار کی تفصیلات جاری کردے گا۔ اسی دوران کئی اہم شخصیتوں اور اداروں نے آج بی سی کمیشن سے رجوع ہوکر مسلم تحفظات کے حق میں اپنے دلائل پیش کئے ۔ پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی کی قیادت میں عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسرس اور اساتذہ نے کمیشن سے رجوع ہوکر مسلمانوں کی پسماندگی کے اعداد و شمار پیش کئے اور تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور کے ہمراہ پروفیسر فاطمہ پروین ، پروفیسر عطیہ سلطانیہ ، پروفیسر تاتار خاں ، ڈاکٹر معید جاوید اور ڈاکٹر شہاب محمد نذیر احمد ، شیخ فہیم الدین اور دوسرے اساتذہ موجود تھے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کمیشن کو بتایا کہ ریاست کی 4.5 کروڑ آبادی میں اقلیت 14 فیصد ہیں جن میں مسلمان 12.68 فیصد ہیں۔ صرف حیدرآباد میں 25 لاکھ مسلمان ہیں۔ مسلمان ، تعلیمی ، معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں بمشکل دو فیصد نمائندگی حاصل ہے ۔ سچر کمیٹی رنگناتھ مشرا، پٹو سوامی کمیشنوں اور سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں مسلمانوں کی پسماندگی کا احاطہ کیا ہے ۔ سیول سرویسز اور گروپ I میں بھی نمائندگی ایک فیصد سے کم ہے ۔ پروفیسر شکور کے مطابق عثمانیہ یونیورسٹی میں 1950 ء تک 50 فیصد تدریسی اسٹاف مسلمان تھا جو اب گھٹ کر ایک فیصد ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ایس سی ، ایس ٹی سے زیادہ پسماندہ ہے اور 50 فیصد سے زائد خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 6 تا 10 ہزار روپئے ہے جس میں ایک گھر کا گزارا ممکن نہیں ۔ انہوں نے مسلم تحفظات کے حق میں مثبت رپورٹ پیش کرتے ہوئے عمل آوری کو یقینی بنانے کی خواہش کی ۔ انہوں نے عوامی سماعت میں اضافہ اور 31 اضلاع کا دورہ کرنے کی بھی تجویز پیش کی ۔ سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ نے بی سی کمیشن سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کے حق میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں ہر شخص واقف ہیں اور ملک بھر میں کئی کمیشنوں نے اپنی رپورٹ میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ کمیشن کو ایسی رپورٹ پیش کرنی چاہئے جسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے۔ سماعت کے آخری دن آج مختلف مذہبی ، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے اپنی تحریری یادداشت پیش کی۔ اس کے علاوہ بیاک ورڈ کلاسس سے تعلق رکھنے والی کئی تنظیموں نے بھی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو تحفظات بی سی زمرہ سے ہٹ کر دیئے جائیں تاکہ پسماندہ طبقات سے کوئی ناانصافی نہ ہو ۔ سٹی جمعیت العلماء کے صدر مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری کی قیادت میں مولانا محمد مصدق القاسمی ، قاری سلطان مجاہد، قاری یونس علی خاں،  سبیل الفلاح ٹرسٹ کے مفتی عبدالرحمن محمد میاں قاسمی ، مولانا عبدالباقی اویس حسان ، مولانا مطیع الرحمن قاسمی ،  مولانا منصور علی خاں حسامی ، مولانا طارق قادری (سنی علماء بورڈ) ، مولانا عبدالرحیم رحمانی کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ ، ڈاکٹر سراج الرحمن ، صدر تحریک خیر امت محمد منیر الدین مجاہد ، مولانا سید غوث خاموشی ٹرسٹ کے عہدیداروں محمد فاروق ، شیخ محبوب ، محمد نعیم الدین ، فہیم قریشی ایڈوکیٹ (جمعیت القریش) ، نائب صدر بنت حرم و رکن مسلم پرسنل لا بورڈ محترمہ عقیلہ خاموشی ، شہریان محبوب نگر و مساجد کمیٹیوں کی جانب سے محمد ذکی ، رفیق احمد ، محمد حنیف ، محمد جبار ، ایس اے معین الدین ، منیر احمد خاں (شانتی ٹرسٹ)،  الیاس شمسی (تلنگانہ ویلفیر کونسل) ، ایم اے معید خاں نارائن کھیڑ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے  جنرل سکریٹری متین مجددی، جنگاؤں مسلم ویلفیر سوسائٹی ، جماعت اسلامی سدا سیو پیٹ ، او بی سی سنگم ورنگل ، انجمن خادمان ملت کریم نگر ، مرزا قاسم بیگ ( ویلفیر پارٹی بھینسہ) ، محمد خلیق الرحمن (نیشنل کوآرڈینیٹر آل انڈیا کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ) ، تلگو دیشم قائدین محمد عبدالشفیق شرفن ، حبیب عیدروس ، محمد سلیم ، محمد عدالجلیل ، عبدالرشید، محمد دستگیر، مسجد محمدی دبیر پورہ کے حافظ و قاری محمد سلطان مجاہد ، سید ویلفیر ڈیولپمٹ اینڈ سوسائٹی کے خواجہ پاشاہ ، مسلم سینئر سٹیزن ویلفیر سوسائٹی جنگاؤںکے محمد انور شریف ، تنظیم فروغ اردو زبان تلنگانہ ، مہیشورم مسلم ویلفیر سوسائٹی اور نیشنل سالیڈیریٹی کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایم اے انصاری ، مجتبیٰ عابدی اور دوسروں نے بھی کمیشن سے نمائندگی کی۔

TOPPOPULARRECENT