Friday , April 28 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم تحفظات کے لیے خصوصی اسمبلی اجلاس کا خیر مقدم

مسلم تحفظات کے لیے خصوصی اسمبلی اجلاس کا خیر مقدم

کانگریس سے بھر پور تائید کا اعلان ، محمد خواجہ فخر الدین
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے مسلم تحفظات میں اضافہ کرنے کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے بھر پور تائید کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ قرار داد کو مرکز سے رجوع کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنے کے خلاف سنگین نتائج کا انتباہ دیا ہے ۔ محمد خواجہ فخر الدین نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے سے انحراف کررہے ہیں پہلے سے ریاست میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات جاری ہے ۔ اس میں مزید 5 تا 7 فیصد اضافہ کرتے ہوئے تمام 12 فیصد تحفظات کو ٹی آر ایس کا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ کانگریس نے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لیے تحریک چلاتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنایا ہے اور 19 اپریل کو شاد نگر میں جہاں سے کے سی آر نے ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے پر اندرون 4 ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اسی مقام پر احتجاج کرنے کا کانگریس نے اعلان کیا جس پر حکومت نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج سے تین دن قبل 16 اپریل کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے ۔ خواجہ فخر الدین نے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا کیا اور ریاست میں تعلیم اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات حاصل ہوئے ہیں ۔ جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ پہونچا ہے ۔ کانگریس نے وعدے کو نبھانے کے لیے مرکز کا تعاون نہیں لیا ہے اپنے اختیارات کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کیا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مرکز سے مسلم تحفظات دلانے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں گجرات میں پٹیل برادری ، ہریانہ میں جاٹ طبقہ اور راجستھان میں گجر طبقات کو تحفظات فراہم کیے گئے تھے ۔ جنہیں مقامی ہائی کورٹس نے کالعدم قرار دیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی حکومت کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے دستور ہند کی شیڈول 9 میں کوئی ترمیم نہیں کی ۔ مسلم تحفظات کے لیے ترمیم کرنے کی امید رکھنا خشک باولی سے پانی برآمد کرنے کے مماثل ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے ۔ اگر ہوتے تو پہلے ریاست میں مسلمانوں کو تحفظات پیش کرتے ضرورت پڑنے پر عدلیہ میں قانونی جنگ لڑتے بی جے پی مسلم تحفظات کی مخالفت کررہی ہے اور ایسے میں نریندر مودی سے توقعات برقرار رکھنا فضول ہے ۔ چیف منسٹر اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اگر مسلمانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا تو مسلمان ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT