Wednesday , September 20 2017
Home / دنیا / مسلم خاتون فلائیٹ اٹینڈنٹ ملازمت سے معطل

مسلم خاتون فلائیٹ اٹینڈنٹ ملازمت سے معطل

پرواز کے دوران مسافرین کو شراب پیش کئے جانے سے انکار کا شاخسانہ
نیویارک ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک مسلم خاتون فلائیٹ اٹینڈنٹ کو پرواز کے دوران مسافرین کو شراب پیش کئے جانے سے انکار کرنے پر ملازمت سے معطل کردیا گیا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق شارلی اسٹینلے جس نے یہ دعویٰ کیا ہیکہ وہ اپنی ملازمت ہر قیمت پر دوبارہ حاصل کرے گی، نے فی الحال ایکوئل ایمپلائمنٹ اپارچونٹی کمیشن سے رجوع کیا ہے اور امریکی ایرلائن ایکسپریس جیٹ کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔ اسی دوران اسٹینلے کے مطابق وہ اس بات کی خواہاں ہے کہ اسے ملازمت پر بحال کیا جائے اور وہ بھی مسافرین کو شراب پیش نہ کئے جانے کی شرط پر کیونکہ اس کا مذہب اسے یہ اجازت نہیں دیتا۔ دریں اثناء مشی گن چیاپٹر آف دی کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز سے وابستہ اٹارنی لینا مصری نے کہا کہ کسی بھی شخص (مرد یا خاتون) کو اپنے کیریئر اور مذہب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا ماحول پیدا نہیںکرنا چاہئے بلکہ ہر آجر کو اپنے ملازمین کے لئے سازگار اور آرام دہ ماحول پیدا کرنا چاہئے جہاں وہ بخوبی اپنی ڈیوٹی نبھا سکے۔ اسٹینلے نے دو سال قبل اسلام قبول کیا تھا اور اسے جاریہ سال ہی یہ پتہ چلا کہ مذہب اسلام میں نہ صرف شراب نوشی بلکہ شراب پیش کئے جانے پر بھی امتناع عائد ہے جسے حرام تصور کیا جاتا ہے۔ اسٹینلے کی درخواست پر اس کے سوپروائزر نے پرواز کے دوران مسافرین کو شراب پیش کرنے کیلئے دیگر اٹینڈنٹ کا انتظام کیا تھا اور یہ سلسلہ بخوبی چلتا رہا لیکن اسی دوران دیگر خاتون اٹینڈنٹ نے اسٹینلے کے خلاف دیانتدارانہ طور پر ڈیوٹی انجام نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف شکایت کی جس کے بعد انتظامیہ نے اسے ایک طویل رخصت پر بھیج دیا جس کی تنخواہ بھی واجب الادا نہیں تھی۔ اسے یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ 12 ماہ بعد اس کی ملازمت برخاست بھی کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا اٹارنی نے ایکسپریس جیٹ انتظامیہ سے درخواست کی ہیکہ اسٹینلے کی ملازمت بحال کی جائے۔ اس سلسلہ میں ایکسپریس جیٹ انتظامیہ نے اسٹینلے کے کیس سے متعلق یہ کہہ کر کسی بھی تبصرہ سے انکار کردیا کہ ’’ہم مساوی مواقع کے تحت ملازمت فراہم کرنے کا ایک طویل ریکارڈ رکھتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT