Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم خاتون کیساتھ آندھرائی وزیر کے فرزند کی چھیڑچھاڑ کی مذمت

مسلم خاتون کیساتھ آندھرائی وزیر کے فرزند کی چھیڑچھاڑ کی مذمت

خاطی کے خلاف نربھئے ایکٹ کے تحت مقدمہ کا مطالبہ، ہنمنت راؤ رکن راجیہ سبھا
حیدرآباد ۔ 5 مارچ (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے مسلم خاتون کے ساتھ آندھرائی وزیر کے فرزند کی چھیڑچھاڑ کی سخت مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کو نربھئے ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر ہنمنت راؤ نے کہا کہ نشے میں دھت آندھرائی وزیر کشور بابو کے فرزند نے دن دھاڑے ایک مسلم خاتون کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی ہے۔ انہیں زبردستی اغوا کرتے ہوئے اپنی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی ہے۔ خاتون کی چیخ پکار پر عوام جمع ہوکر ایک خاتون کی عزت کو پامال ہونے سے بچا لیا ہے۔ وہ پولیس اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے۔ خاطی کون ہے کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس کے سیاسی اثرورسوخ کیا ہیں اس پر غور کئے بغیر اس کے خلاف کارروائی کریں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔ عام افراد اور وزراء کے فرزندوں کیلئے علحدہ نہیں ہے۔ لہٰذا پولیس ٹال مٹول کی پالیسی سے باز آجائے اور وزیر کے فرزند کو نربھئے ایکٹ کے تحت گرفتار کرتے ہوئے سخت سے سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے بے تحاشہ شراب کے فروغ کو اہمیت دے رہی ہے جس کا نتیجہ ہیکہ آوارہ افراد نشے کی حالت میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کررہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک طرف ’’یوم خواتین‘‘ منا رہے ہیں دوسری طرف خواتین ظلم و زیادتی کا شکار ہورہی ہیں۔ دو دن قبل کریم نگر میں ایک واقعہ پیش آیا اور کل جوبلی ہلز میں ایک خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کابینہ میں ایک خاتون وزیر بھی نہیں ہے اگر ہوتی تو کم از کم وہ خواتین کے حقوق ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتی۔ حیدرآباد میں جو واقعہ پیش آیا ہے وہ شرمناک ہے۔ لہٰذا حکومت اور پولیس کوئی بھی سیاسی دباؤ کو قبول کئے بغیر خاطی کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔

TOPPOPULARRECENT