Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مسلم خاندان کے 14 ارکان کا بے رحمانہ قتل

مسلم خاندان کے 14 ارکان کا بے رحمانہ قتل

تھانے میں نوجوان حسنین انور واریکر نے بیوی بچوں ، والدین اور بہنوں کے گلے کاٹ دیئے
قاتل کی خودکشی ،دواخانے میںنعشوں کو دیکھ کر ٹی وی چیانل کا کیمرہ مین قلب پر حملے سے فوت
تھانے ۔ /28 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) تھانے میں ایک مسلم خاندان کے 14 ارکان کا قتل کرنے کے بعد نوجوان حسنین انور واریکر نے خون آلود چاقو کے ساتھ پھانسی لیکر خودکشی کرلی ۔اس دل دہلادینے والے غمناک سانحہ نے سارے تھانے کو سوگوار بنادیا جبکہ دواخانہ میں لائی گئی خون میں لت پت نعشوں کی رپورٹنگ کرنے والے ٹی وی چیانلوں کے رپورٹرس اور کیمرہ مینوں میں سے ایک کیمرہ مین منظر کشی کے دوران صدمہ سے قلب پر حملے کے باعث فوت ہوگیا ۔ پولیس نے بتایا کہ 35 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے والدین ، اہلیہ اور بچوں کے بشمول خاندان کے 14 ارکان کے گلے کاٹ دیئے ۔ ان میں مقتول کی اہلیہ جبین 28 سال ، دختر مبشرہ 6 سال ، دختر عمیرہ تین ماہ کی شیرخوار ، والد انور 55 سال ، والدہ عائشہ بی 50 سال ، بہن شبینہ 35 سال ، بھانجہ انس 12 سال ، بھانجی سعدیہ 16 سال ، بھانجہ علی حسن 5 سال ، بہن بتول 30 سال اور ایک بہن ماریہ 28 سال ، بھانجہ عمیر 7 سال ، بھانجہ یوسف 4 سال ، بھتیجی عرشیہ 5 ماہ کی شیر خوار شامل ہیں ۔ ان تمام کو موت کی نیند سلانے کے بعد قاتل نے خودکشی کرلی ۔

ان تمام مہلوکین کی نعشیں خون میں لت پت گھر میں پڑی ہوئی تھیں ۔ حسنین انور واریکر کی نعش اس کے خاندان کے مکان کی بالائی منزل کے کمرہ میں چھت سے لٹکی ہوئی دستیاب ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں خون آلود چاقو بھی تھی ۔ تھانے کے کسرواڑ والی علاقہ میں واقع G+1 مکان میں پیش آئے اس دردناک واقعہ میں مقتول کی ایک چھوٹی بہن بچ گئی جس کو زخمی حالت میں دواخانہ میں شریک کیا گیا ۔ تھانے کے جوائنٹ کمشنر پولیس اشوتوش دھمیرے نے کہا کہ حسنین انور نے اپنی تین بہنوں اور ان کے بچوں کو نوی ممبئی اور مباپول نزد بھیونڈی سے گھر آنے کی دعوت دی جہاں وہ اکثر ان تمام کے لئے اکثر دعوت کا اہتمام کرتا تھا ۔ حسنین ایک کامرس گریجویٹ تھا جو نوی ممبئی میں سی اے فرم سے وابستہ ہوکر انکم ٹیکس سے متعلق دستاویزات کی تیاری کا کام انجام دیتا تھا ۔ اس نے اپنی بہنوں اور بچوں کو دعوت دے کر رات کے کھانے میں نشہ آور شئے ملادی ۔

کھانا کھانے کے بعد جب یہ تمام لوگ سوگئے تو اس نے ایک کے بعد ایک تمام کے گلے کاٹ دیئے ۔ تقریباً 5 یا  5 بجکر 30 منٹ علی الصبح اس المناک واقعہ میں بچ جانے والی مقتول کی 22 سالہ بہن نے مکان کی کھڑکی سے مدد کے لئے آواز دی جس کے باعث پڑوسی جمع ہوگئے اور کھڑکی کی جالی توڑکر زخمی خاتون کو نکال کر دواخانہ میں شریک کردیا ۔ پولیس کو اطلاع دی گئی ۔ مقتول حسنین نے اپنی بہن کے گلے کے اوپری حصہ کو کاٹا تھا جس سے وہ بچ گئی اور مدد کے لئے پکارنے لگی ۔ بچ جانے والی خاتون کے سسرال والوں نے جو پڑوس کے مکان میں رہتے تھے رونے کی آواز سن کر پہونچے اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ اندر سے بند تھا ۔ سسرال والوں نے کھڑکی کی جالی توڑ کر گراؤنڈ فلور سے اندر مکان میں داخل ہوئے ۔ جہاں خون میں لت پت نعشیں پڑی ہوئی تھیں ۔ 14 نعشوں کے گلے کٹے ہوئے تھے ۔ جن میں چند گراؤنڈ فلور پر تھیں اور کچھ نعشیں پہلی منزل پر تھیں ہر جگہ خون ہی خون تھا ۔ یہ مکان ملزم کے والدین کی ملکیت میں تھا جہاں وہ گزشتہ 10 سال سے مقیم تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ حسنین کی نعش اس کمرہ میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی ۔ پولیس عہدیدار دھمیرے نے کہا کہ حسنین کے موبائیل فون اور لیاپ ٹاپ کو ضبط کرلیا گیا ہے تاکہ اس دردناک واقعہ کی وجوہات کا پتہ چلایا جائے ۔ بادی النظر میں شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم نے مکان کے تمام دروازوں کو بند کردیا تھا ۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد جب تمام ارکان سوگئے ملزم نے ایک کے بعد ایک ہر ایک کا گلہ کاٹ دیا ۔ اس مکان میں 3 کمرے ہیں جبکہ ایک کمرہ میں وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ پہلی منزل پر رہتا تھا ۔ اس کے والدین اور بہنیں گراؤنڈ فلور کے کمروں میں رہتے تھے اس دلخراش گھناونے سانحہ کی وجہ جائیداد کا تنازعہ سمجھا جارہی ہے لیکن پولیس عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی مرحلہ میں قتل کا اول مقصد معلوم نہیں ہوسکا ۔ نعشوں کو تھانے سیول ہاسپٹل روانہ کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔ اس واقعہ کی رپورٹنگ کرنے کے لئے ٹی وی چیانلوں کے کیمرہ مینوں اور رپورٹرس کی کثیر تعداد جمع تھی لیکن ایک کیمرہ مین اچانک گرپڑا اور قلب پر حملے کی وجہ سے فوت ہوگیا ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ دواخانہ میں کہرام مچا ہوا تھا ۔ پولیس کے مطابق مقتول حسنین نے اپنے گھر کے قریب واقع مسجد میں نماز فجر بھی ادا کی تھی ۔ گھر آنے کے بعد اس نے اپنے خاندان کے ارکان کے گلے ایک ایک کرکے کاٹ دیئے ۔ تھانے میں آج ایک ہی خاندان کے اجتماعی قتل کے واقعہ کے بعد غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ۔ اس سانحہ نے پڑوسیوں کو بالخصوص صدمہ سے دوچار کردیا ۔ 7 مہلوکین کی کسروادہ ولی علاقہ میں اجتماعی تدفین عمل میں آئی جبکہ 5 ماہ کی شیرخوار کو ضلع تھانے کے مہاپولی میں دفن کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT