Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / مسلم خواتین خود کو شرعی قوانین میں محفوظ سمجھتی ہیں۔ پرسنل لاء بورڈ

مسلم خواتین خود کو شرعی قوانین میں محفوظ سمجھتی ہیں۔ پرسنل لاء بورڈ

نئی دہلی: طلا ق ثلاثہ کے مسئلہ پر جاری بحث کے درمیان کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج دعویٰ کیاہے کہ ملک بھر کی مسلم خواتین خود کوشرعی قانون کے تحت محفوظ سمجھتی ہیں او ریکساں سیول کوڈ نہیں چاہتی ہیں۔
پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن کمال فاروقی نے کہاکہ’’ یہ پرسنل لاء بورڈ یااس میں شامل خواتین ہی مجوزہ یکساں سیول کوڈ کی مخالف نہیں ہیں بلکہ بالعموم ملک کی اکثر مسلم خواتین یہ(یکساں سیول کوڈ) نہیں چاہتی ہیں۔
تین طلاق( فوری طلاق) سپریم کورٹ کے ایک مقدمہ کا موضوع ہے جس میں مرکزاور خود مسلم خواتین کی چند تنظیموں نے اس طریقہ کار پر پابندی عائد کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس طریقہ کار سے خواتین کو امتیازی سلوک کانشانہ بنایاجارتار ہا ہے۔
تاہم کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈنے امتناع کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت عظمہ میں اپناحلف نامہ داخل کیاہے۔ جس میں کہاگیا ہے کہ تین طلاق اگرچہ ناپسندیدہ عمل ضرور ہے لیکن اسلام میں اس کی اجازت حاصل ہے۔
بورڈ اس موقف کی حمایت میں دستخطی مہم کا پہلے ہی آغاز کرچکا ہے۔ کمال فاروقی نے دعویٰ کیاہے کہ’’ راجستھان ‘ گجرات ‘ یوپی‘ بہار‘ مہارشٹرا اور مدھیہ پردیش میں اس مہم کو پہلے ہی کامیابی حاصل ہوچکی ہے حالانکہ کئی مقامات پر ہمارے اراکان نہیں ہیں جس کے باوجود ہمیں زبردست تائیدحاصل ہورہی ہے‘‘۔
پرسنل لاء بورڈ کی رکن عاملہ اسماء زہرہ نے کہاکہ ملک بھر کی مسلم خواتین پرسنل لاء کے کے تحفظ کے مطالبہ کی تائیدکے لئے متحد ہوچکی ہیں۔ زہرہ نے ادعاء کیاکہ ’’ مسلمانوں میں تین طلاق کی شرع دوسروں کے مقابلے بہت کم ہے۔
حالانکہ خواتین کو حتی کہ طلاق کے بعد بھی نان ونفقہ دیاجاتا ہے وہ مطلقہ مسلم خواتین دوسری شادی کے ساتھ ایک نئی ازدواجی زندگی کی شروعات کرسکتی ہے‘‘۔شرعی قوانین کے تحت خواتین خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔نیز یکساں سیول کوڈ کے تحت اپنے عائیلی مسائل کاحل نہیں چاہتیں۔
انہوں نے مزیدکہاکہ چھوٹے گاؤں او رشہروں میں بھی اسمہم پر خواتین کا اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ اسماء زہرہ نے دائیں بازو تنظیموں پر تنقید کرتے ہوئے اس بحث کو ہوادینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اس وقت صحیح تھے جب انہوں نے کہاکہ تھا کہ یہ ہندومسلم مسئلہ نہیں ہے لیکن آر ایس ایس نے یہ مسئلہ پیدا کیاہے۔
ہندوستانیوں کو بحیثیت شہری یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس دستور پر عمل کرنا چاہتے ہیں جس نے ہمیں یہ اختیار و حقوق دیتے ہیںیا پھر چند مفادات حاصلہ زعفرانی ایجنڈہ کو اپنایاجائے۔
اس دوران حقوق نسواں کی کئی جہدکاروں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ جوابی حلف نامہ کی مذمت کی او رکہاکہ یہ مسلم ادارہ اس سے ( تین طلاق کے) عمل سے متاثرہ خواتین کی مصیبتوں سے چشم پوشی کررہا ہے۔
بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن ( بی ایم ایم اے) کی معاون بانی نور جہاں صفیہ نیاز نے جو کہ اس ملک کے شہری عدالت سے رجوع ہونے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ یہ ایک ایسا حق ہے جو مسلم خواتین کو بھی حاصل ہے۔تاہم اسماء زہرہ نے الزام عائد کیا کہ تین طلاق کی مخالفت کرنے والی تنظیمیں بی جے پی کی آلہ کار ہیں۔
لیکن بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے اس الزام کو مستردکردیا او رکہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس حدتک فرسودہ ذہن ہے کہ اسقسم کی تنظیموں اور ادروں سے بات چیت کا کوئی حاصل یہ جواز ہی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT