Sunday , June 25 2017
Home / ہندوستان / مسلم خواتین کو درپیش دیگر مسائل پر بھی توجہ ضروری

مسلم خواتین کو درپیش دیگر مسائل پر بھی توجہ ضروری

طلاق ثلاثہ تمام مسائل کا حل نہیں، مسلم خواتین گروپ کا موقف

ممبئی 6 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں بالخصوص خواتین کی بہبود کے لئے سرگرم کارکنوں کے ایک گروپ نے آج کہا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے علاوہ اور بھی کئی سنگین مسائل کا مسلم طبقہ کو سامنا ہے جنھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹرا اور گجرات میں واقع مختلف تنظیموں کے اِن نمائندوں کا احساس ہے کہ تعلیم کا فقدان، طبی سہولیات کی عدم فراہمی، عدم سلامتی کا احساس، بیف پر امتناع، اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات اور بے روزگاری ایسے مسائل ہیں جن کا مسلم طبقہ کو سامنا ہے اور انھیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس گروپ نے حال ہی میں ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مختلف نمائندہ تنظیموں میں بے باک کلکٹیو ، آوازِ نسواں، پرواز سنگھٹن، جن وکاس، ساہیہ اور مسلم مہیلا منچ شامل ہیں۔ بے باک کلکٹیو کی حسینہ خان نے کہاکہ ہم وہی چاہتے ہیں جس کی ضمانت دستور نے دی ہے یعنی ہر شہری کو مساوی مواقع اور انسانی حقوق کی طمانیت دی جانی چاہئے۔ طلاق ثلاثہ کو ختم کرنا مسلم خواتین کو درپیش تمام مسائل کے ختم ہونے کی ضمانت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کا صرف طلاق ثلاثہ کے بارے میں اختیار کردہ موقف کافی نہیں، اُنھیں مزید آگے بڑھنا چاہئے۔ حسینہ خان نے شائرہ بانو مقدمہ میں بھی مداخلت کی تھی۔ اُنھوں نے مرکز میں پیشرو حکومتوں کو صرف مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے والی حکومتیں قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ایک اچھی بات ہیکہ مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اُٹھایا ہے لیکن یہ بھی وضاحت ہونی چاہئے کہ ہم مودی کو اپنا ہیرو نہیں سمجھنا چاہتے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم میں سماجی تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لئے نریندر مودی کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ خواتین کی تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے اور قومی سطح پر ایسے کئی مسائل اُٹھائے جاتے رہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت یا کوئی ایک طبقہ مسلم خواتین کے کاز کا خود کو چمپئن قرار نہیں دے سکتا۔ ہم خود اپنا حق رکھتے ہیں۔ پرواز سنگھٹن کی خیرالنساء پٹھان نے کہاکہ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ شدت اختیار کررہا ہے لیکن دیگر کئی مسائل ہیں جو ملک بھر میں مسلمانوں میں تشویش اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT