Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / مسلم خواتین کیساتھ صنفی تعصب سپریم کورٹ کے زیرغور

مسلم خواتین کیساتھ صنفی تعصب سپریم کورٹ کے زیرغور

مسلم خواتین کی من مانے طلاق اور شوہروں کی دوبارہ شادیوں کے نتیجہ میں نسائی وقار مجروح ہونے کا ادعا
نئی دہلی ۔ 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے چیف جسٹس آف انڈیا سے خواہش کی ہیکہ ایک ’’مناسب بنچ‘‘ تشکیل دی جائے تاکہ طلاق یا ان کے شوہر کی دوسری شادیوں کی صورت میں صنفی تعصب کا سامنا کرنے والی مسلم خواتین کے مسئلہ کا جائزہ لیا جاسکے۔ جسٹس انیل آر ڈوے اور جسٹس اے کے گوئل نے ایک درخواست مفاد عامہ کے رجسٹریشن کی ہدایت دی اور حکم دیا کہ اسے نئی بنچ پر پیش کیا جائے تاکہ مسلم خواتین (تحفظ حقوق برائے طلاق) قانون کے متعلق چیلنج کا جائزہ لیا جاسکے۔ دونوں ججس نے نوٹ کیا کہ یہ معاملہ صرف پالیسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خواتین کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے جس کی طمانیت دستور ہند کے تحت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اس وقت سماعت کے لئے ابھرآیا جبکہ ہندو وراثت (ترمیمی) قانون کے تحت ایک معاملہ کی سماعت کی گئی اور بنچ نے نوٹ کیا کہ صنفی تعصب کا ایک اہم مسئلہ موجود ہے جو حالانکہ راست طور پر اس اپیل سے متعلق نہیں ہے لیکن بعض فریقین کے مشیران قانونی نے اٹھایا ہے۔ صنفی تعصب کے بارے میں مباحث کے نتیجہ میں یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ دونو ںججس نے نشاندہی کی کہ دستور ہند کی طمانیت کے باوجود مسلم خواتین کو صنفی تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ من مانے طلاق اور مسلم خاتون کے شوہر کی دوبارہ شادی جبکہ پہلی شادی برقرار ہو وقار اور صیانت سے خاتون کو محروم کردینے کا سبب بن رہی ہے۔

اس مقصد کیلئے ایک درخواست مفاد عامہ علحدہ طور پر رجسٹر کی جائیں اور اسے مناسب بنچ پر پیش کیا جائے جو چیف جسٹس آف انڈیا کے حکم پر تشکیل دی جائے گی۔ فاضل اٹارنی جنرل اور قومی قانونی خدمات اتھاریٹی کو نوٹسیں جاری کی جائیں اور انہیں ہدایت دی جائے کہ 23 نومبر 2015ء تک جوابی حلف نامہ داخل کریں۔ امکان ہیکہ ہم مشیرقانونی کو جو اس معاملہ کی پہلے ہی سے پیروی کررہا ہے، عدالت کی مدد کرنے کی آزادی دیں جو معاملہ کے اس پہلو سے متعلق ہو بشرطیکہ وہ رضاکارانہ طور پر ایسا کرنے کیلئے آمادہ ہوں۔ عدالت نے کہاکہ انہیں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT