Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / مسلم خواتین کے جھوٹے ہمدرد

مسلم خواتین کے جھوٹے ہمدرد

 

محمد ریاض احمد
ملک کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اپنے منقسم فیصلہ میں جیسے ہی طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی قرار دیا سارے ملک میں مسلم خواتین کے نام نہاد اور ظاہری ہمدردوں نے جشن منانا شروع کردیا۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے دفاتر میں عقل و ہوش سے محروم چند برقعہ پوش خواتین کو ٹہرا کر ان کے ہاتھوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تصاویر اور بیسن کے باسی لڈو تھمادیئے گئے اور اُن بیچاریوں کی مودی جی کی تصویر کو لڈو کھلاتے ہوئے تصاویر بھی لی گئیں اور یہ تصاویر قومی اور علاقائی اخبارات کی زینت بھی بن گئیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی میڈیا کے زرِ خرید غلام گوشہ نے خوشی کے مارے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ ٹی وی چیانلوں کے اینکرس تو ایسا لگ رہا تھا کہ خوشی سے پاگل ہوگئے ہوں اور ان کی عجیب و غریب حرکتوں سے محسوس ہورہا تھا جیسے سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر فیصلہ نہیں دیا بلکہ یہ کہہ دیا ہو کہ اس ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کا وقت اگیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تاریخی قرار دینے میں ذرہ برابر دیری نہیں کی اور حسب عادت ٹوئٹر پر اعلان کردیا کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی کے ذریعہ سپریم کورٹ نے مسلم خواتین کی غیر معمولی مدد کی ہے۔ بی جے پی کے ترجمانوں سے لیکر اس کے چھوٹے بڑے تمام لیڈر اس فیصلہ کو حقیقت میں ہندو راشٹرا کی جانب پیشرفت سمجھ رہے ہیں۔ بہرحال یہ ہندوستان ہے اس میں ہر کسی کو خوش ہونے، خوشی کا اظہار کرنے اور عدالتی فیصلوں پر ردعمل ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔

ہمیں سنگھ پریوار اور اس کے قائدین کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے خوشی منانے پر اعتراض نہیں ہوا بلکہ حیرت ہوئی اور ذہن میں یہ سوالات گردش کرنے لگے کہ آیا ایسا شخص حقیقت میں مسلم خواتین کا ہمدرد، ان کے حقوق کے تحفظ کا چمپین ہوسکتا ہے جس نے خود اپنی بیوی کو شادی کے چند ماہ بعد ہی بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہو۔ اپنی جوان بیوی کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑتے وقت اس نے یہ سوچنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی کہ بحیثیت شوہر وہ اپنی بیوی کا نگہبان ہے، اس کی حفاظتی ڈھال، اس کی عزت و وقار ہے، اس نے یہ بھی سوچنا گوارا نہیں کیا کہ ایک جوان بیوی کی کچھ خواہشات کچھ تمنائیں اور خواب ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے شوہر کے ساتھ ملکر تعبیر دینا چاہتی ہے۔ ہمارے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ مسلم خواتین کے ساتھ انصاف اور انھیں بااختیار بنانے کا دعویٰ کرنے والے شخص کی حکومت میں ہی گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور ان فسادات میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ بے شمار مسلم لڑکیوں اور خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی کے ہولناک واقعات پیش آئے تھے۔ مسلم خواتین کے حق کی بظاہر وکالت کرنے والے اُسی شخص کی حکومت میں ہندو دہشت گردوں ( شائد لفظ دہشت گرد بھی ان کیلئے بہت نرم ہوگا ان کیلئے لفظ شیطان بھی کم پڑے گا )گجرات کی زمین کو بے قصور مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا تھا۔گجرات کی سرزمین نے وہ دردناک منظر بھی دیکھا جب ایک مسلم حاملہ خاتون کا پیٹ چیر کر اس میں پرورش پارہے بچہ کو نکال کر تلوار کی نوک پر چڑھا دیا گیا، شاید اس منظر کو دیکھ کر آسمان بھی رویا ہوگا۔ زمین نے بھی سوچا ہوگا کہ ان قاتلوں کو اپنے دامن میں ایسے دبوچ لے کہ انہیں اپنے ظلم کا احساس ہونے لگے۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے حامی، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر جب زنخوں کی طرح رقص کرلیتے تو اس کی کوئی اہمیت نہیںہوتی

لیکن ایسے لوگ مسلم خواتین کے حقوق اور ان کے اختیارات کی بات کرتے ہیں جنہوں نے خود اپنی عورت کو تمام حقوق سے محروم کردیا تو یہ بہت شرم کی بات ہوتی ہے۔ آج ہندوستان میں مسلم خواتین کے حقوق کی باتیں کرنے والوں کو پہلے اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ ہندوستان میں عورت محفوظ ہی نہیں ہے۔ 2 سال کی شیر خوار سے لیکر70-80 سال کی بوڑھی خواتین کی یہاں عصمتیں لوٹی جاتی ہیں۔ مسلم خواتین کے نام نہاد ہمدردوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمارے ملک میں یومیہ اوسطاً 100 کمسن لڑکیوں اور خواتین کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ تعداد میںہر روز لڑکیوں اور عورتوں کی بازارِ فحاشی میں نیلامی ہوتی ہے۔ خاص طور پر ہریانہ جیسی بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں کوئی بیٹی محفوظ ہے نہ کوئی ماں، وہاں تو بہنوں اور بہوؤں کی عزتوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ہریانہ میں حال ہی میں ایک غریب دس سالہ لڑکی نے لڑکی کو جنم دیا۔ اس بیچاری لڑکی کے ساتھ اس کا ہی چچا مسلسل سات ماہ تک منہ کالا کرتا رہا، اس غریب کو یہ پتہ تک نہیں تھا کہ وہ حاملہ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اُسے یہ خبر بھی نہیں کہ اُس نے ایک بیٹی کو جنم دیا ہے۔

ہندوستان میں ہر روز ایسی بیسیوں لڑکیوں کے ساتھ درندے اپنا منہ کالا کرتے ہیں اور دہلی میں اقتدارکی کرسی پربیٹھے مودی جی بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالات میں تو بیٹیوں کی عزت بچاؤ کے نعرہ کی گونج سنائی دینی چاہیئے کیونکہ ہمارے ملک میں آسارام اور گرمیت رام رحیم سنگھ اور ان کی قبیل کے بے شمار عناصر ہیں جنھیں عصمت ریزی کے خاطی قرار دیا گیا ہے ، حیرت کی بات یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تاریخی قرار دے کر اس پر خوشیاں منانے والے لوگ گرمیت رام رحیم کو ریپ کا خاطی قرار دیئے جانے اور اس کے بعد پھوٹ پڑے تشدد پر ایسے خاموش ہوگئے جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو اور رام رحیم سنگھ کے بھکتوں کے تشددد نے ان کے اوسان خطا کردیئے ہوں۔ اس معاملہ میں ہمارے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کی تعریف کرنی چاہیئے کہ وہ ہر نازک وقت میں آگے بڑھ کر وزیر اعظم کو بچالیتے ہیں۔ انصاف پسند عوام کو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مسلم دشمنی میں وہ مسلم خواتین کے حق کی بات کرتے ہیں تاکہ اس بہانے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی راہ ہموار کی جائے لیکن گرمیت رام رحیم کو عصمت ریزی کا خاطی قرار دیا جائے تو سی بی آئی عدالت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور آسا رام باپو کی سیاہ کاریوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے، مسلم خواتین کے نام نہاد ہمدردوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ آج ملک کی مختلف ریاستوں کے آشرموں میں 30 تا40 لاکھ بیوائیں کسمپرسی کی زندگی گذار رہی ہیں۔ انھیں پیاز ، لہسن اور دوسری گرم غذاؤں سے تک محروم رکھا جاتا ہے۔ ان ہندو بیواؤں کی شادیاں کرانے کی بجائے مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی سوائے خود کو اور ملک کو دھوکہ دینے کے کچھ نہیں۔ مسلم خواتین کے حق کی بات کرنے والوں کو یہ بھی جواب دینا ہوگا کہ اسمبلی و پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات کی فراہمی کا بل آج تک منظور کیوں نہیں ہوا۔ اب تو راجیہ سبھا میں بھی بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ مودی حکومت کی اطلاع کیلئے ہم یہ بتاتے ہیں کہ ملک کی جملہ آبادی فی الوقت 1,349,691,74 کے ہندسہ تک پہنچ گئی ہے جس میں مرد 696,980,815 ( 69.6 کروڑ ) اور 652,710,925 ( 65.2 کروڑ ) خواتین ہیں اس کا مطلب یہ ہواکہ مَردوں اور خواتین کی تعداد میں بہت کم فرق ہے۔ ان میں ہندو خواتین کی اکثریت ہے۔ ہندوؤں میں ہی طلاق، بیوگی اور علحدگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کا رواج بھی ہندوؤں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ مذہب کے نام پر سیاسی مفادات کی تکمیل کرنے والوں کو یہ سوچ لینا چاہیئے کہ صرف دارالحکومت دہلی میں ہر روز کم از کم 20 بچوں کا اغوا ہوتا ہے۔ ملک میں ہر سال 45ہزار سے زائد قتل کے واقعات پیش آتے ہیں۔ جہیز ہراسانی کے واقعات میں ہر سال لاکھوں مرد و خواتین گرفتار ہوکر قانون سے بچ جاتے ہیں۔بے قصور مسلمانوں کو تحفظ گائے کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔لاکھوں ہندوستانیوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ، بیروزگاری نے نوجوانوں کو مایوس کردیا ہے۔ ان مسائل پر قابو پانے کی تدبیریں کرنے اور ایک محب وطن اور حقیقی قوم پرست کی طرح بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنے کی بجائے مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سے تنازعات کے نئے پٹارے کھل جائیں گے جبکہ چین اور پاکستان ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT