Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / مسلم دانشوروں کی نظر میں آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے ساتھ اسد اویسی کی ملی بھگت

مسلم دانشوروں کی نظر میں آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے ساتھ اسد اویسی کی ملی بھگت

قوم پرستی کے تنازعہ سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت ماتا کا مسئلہ چھیڑنے کا الزام
ممبئی۔/22مئی، ( اُمید ڈاٹ کام ) صدر مجلس اسد الدین اویسی نے جب یہ فیصلہ کیا تھا کہ حیدرآباد سے باہر بالخصوص بہار میں بھی انتخابی مقابلہ کیا جائے اسوقت ہی سے ان کے حقیقی ارادوں پر سوالیہ نشان لگ گیا جہاں پر ان کی پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ حال ہی میں بھارت ماتا کی جئے کہنے سے انکار کے تنازعہ پر مسلمانوں کی اکثریت یہ تصور کرتی ہے کہ شعلہ بیان رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سیاسی بحران پیدا کرنے کیلئے آر ایس ایس اور بی جے پی کی پس پردہ اعانت کی ہے۔ اگرچیکہ مہاراشٹرا اسمبلی کے انتخابات میں مجلس نے مقابلہ کیا تھا لیکن پارٹی کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی جبکہ یہاں کے انتخابات میں شکست اٹھانی پڑی۔ تاہم گجرات کے بلدی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو لمحہ آخر میں مقابلہ سے دستبردارکروادیا گیا۔ علاوہ ازیں آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت کی جانب سے بھارت ماتا کی جئے نعرہ کی اپیل کے جواب میں اسد اویسی کی غیرضروری بیان بازی پر ملک بھر میں تنقید و تعریض کی گئی۔ بہار کے کانگریس رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہا کہ بعض فوائد حاصل کرنے کے عوض اسد الدین اویسی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ کوئی معاملت کی ہے یا پھر وہ احمق ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ ان کی زبان درازی سے کس قدر اُلٹے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ ان کے حالیہ متنازعہ ریمارک سے بی جے پی حکومت کو تقویت پہنچی ہے جو کہ اپنی پالیسیوں کے خلاف عوام کی برہمی سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی نے بتایا کہ فی الحال ملک بھر میں مخالف آر ایس ایس لہر چل رہی ہے اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے واقعات کے بعد اُٹھے سوالات پر سنگھ پریوار جواب دینے سے قاصر نظر آرہی ہے۔ لیکن ملک بھر میں جاریہ آر ایس ایس مخالف بحث کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں اسد اویسی کا بیان کارگر ثابت ہوگیا جس پر ان کے محبان بھی خلاف ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں مہاراشٹرامیں سماجوادی پارٹی نے اویسی اور بی جے پی ۔ آر ایس  ایس کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم اسد اویسی نے ان الزامات کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ دستور نے انہیں اظہار خیال کی آزادی دی ہے اور اس اختیار کے استعمال سے کوئی روک نہیں سکتا۔ انہوں نے اس نقطہ نظر کو بھی مسترد کردیا کہ ان کے بیانات سے بی جے پی اور آر ایس ایس کو فائدہ پہنچا۔ صدر مجلس سے دریافت کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے عروج کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔ 2014کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے آیا مجلس ذمہ دار ہے۔ تاہم اسد اویسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ملک بھر میں آر ایس ایس مخالف لہر چل رہی ہے تاریخ میں پہلی مرتبہ آر ایس ایس کو نظریاتی چنوتیوں کا سامناہے گو کہ وہ پس پردہ حکومت چلارہی ہے یہ مناسب ہوتا کہ اسد اویسی صبر و تحمل سے کام لیتے اور غیر ضروری جذبات سے بے قابو نہیں ہوتے۔ ممبئی سے شائع ہونے والے اخبار ’ انقلاب ‘ سنڈے ایڈیشن کے ایڈیٹر قطب الدین شاہد نے اپنے ایک مضمون میں اسد اویسی کو ایک موقع پر لیڈرقرار دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ صدر مجلس نے آر ایس ایس کے بمقابلہ دلت مباحث کو آر ایس ایس بمقابلہ مسلم مباحث میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں بتایا کہ بے موقع و محل آر ایس ایس کے خلاف بیان بازی سے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ اسد اویسی نے عمداً ایسا کیا ہے جس کے پس پردہ سیاسی محرکات کا رفرما ہیں۔

علاوہ ازیں ایک اور کالم نویس جمال رضوی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے اشارہ پر اویسی رقص کررہے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین نے دریافت کیا ہے کہ موہن بھگوت کے بیان کے 3دن بعد اسد اویسی نے یہ مسئلہ کیوں اٹھایا، کیا انہیں ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کہنے کیلئے کوئی دباؤ تھا اور موہن بھگوت کے ریمارک کو نظرانداز کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ آر ایس ایس سربراہ نے کوئی نئی بات نہیں کہی تھی۔ ایک ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں قوم پرستی پر مباحث جاری ہیں مسلمانوں یا دوسرے فرقہ کو مداخلت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بحث و تکرار سیکولر ہندوستانیوں اور ہندو قوم پرستوں کے درمیان ہے۔ لیکن اسد اویسی کے جارحانہ بیان بازی سے قوم پرستی پر جاریہ مباحث کیلئے قوم پرستوں بمقابلہ قوم دشمن مسلمانوں کے درمیان تبدیل ہوگیا ہے۔

اویسی کیخلاف شکایت پر
کارروائی رپورٹ طلب : عدالت
نئی دہلی ۔ 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کو آج ایک مقامی عدالت نے ہدایت دی کہ وہ کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی فوجداری شکایت پر اپنی کارروائی کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ ایف آئی آر کے مطابق اسد اویسی پر الزام ہیکہ وہ مختلف گروپوں کے درمیان نفرت پیدا کررہے ہیں۔ چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ منیش مارکن نے ایس ایچ او کاروال نگر پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی کہ وہ کارروائی رپورٹ عدالت میں پیش کرے جس میں درخواست پر جو 7 مئی کو درج کروائی گئی ہے، کی ہوئی کارروائی تفصیل سے درج کرے۔ یہ شکایت سوراج جنتا پارٹی کے صدر برجیش چند شکلا نے درج کروائی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ 13مارچ کو اویسی نے ازخود کہا تھاکہ اگر کوئی شخص ان کے گلے پر چاقو رکھ دے تب بھی وہ بھارت ماتا کی جئے نہیں کہیں گے۔ انہوں نے اس نعرہ سے عدم وابستگی اور عدم وفاداری کے جذبات ظاہر کرتے ہوئے دو فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کی تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہیکہ رکن پارلیمنٹ ہندوستان کے وفادار نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT