Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / مسلم دنیا میں اِتحاد و اِتفاق

مسلم دنیا میں اِتحاد و اِتفاق

پہلے کچھ تھی ، اور اب کیا ہوگئی
ایسی کیا مصروف دنیا ہوگئی
مسلم دنیا میں اِتحاد و اِتفاق
عالم اسلام اور عالم عرب یا مسلم دنیا مسائل کے انبار پر بیٹھ کر باہمی اتحاد کی صرف تمنا کرتی رہے تو حالات سدھرنے کی اُمید ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ خادم حرمین شریفین ان دنوں مصر کے دورہ پر ہیں۔ انہوں نے ایک سال کی حکمرانی کے دوران اپنی مثبت سوچ اور سعودی عرب کو عالمی نقشہ پر ایک فراخدل، ترقی کے میدان میں جہت کار، معاملہ فہم ، علاقائی استحکام وعالمی اتحاد کا حامی ملک بناکر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مصر کی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں مسلم اور عرب دنیا کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اتحاد اور مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مصر بلاشبہ ایک مضبوط ملک ہے۔ اس کی پارلیمنٹ سے پہلی مرتبہ عرب لیڈر نے خطاب کیا اور اپنی اقوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے متحد ہونے کی وکالت کی۔ مسلم دنیا کے مسائل سب پر عیاں ہیں۔ ان میں فلسطینی کاز کو سرفہرست رکھا جائے تو یہ مسلم دنیا یا عالم عرب فلسطینی بچوں، جوانوں، خواتین اور بوڑھوں کے حقوق کا کس طرح تحفظ کیا جائے گا۔ ان کی جان و مال کی ضمانت کب دی جائے گی۔ ان کی سرزمین پر قابض یہودی طاقت کو کب برخاست کرایا جائے گا، یہ دیرینہ حل طلب مسائل ہیں۔ یہ بات تو درست ہے کہ مصر کا دورہ کرتے ہوئے شاہ سلمان نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان تعاون کی نئی راہ قائم کی ہے۔ اس سے عرب اور مسلم دنیا کے لئے ایک نعمت کا آغاز ہوگا۔ برسوں سے عدم استحکام کا شکار مسلم دنیا میں اگر توازن کے حصول میں مدد ملے گی تو یہ نمایاں تبدیلی ہوگی۔ مشترک عرب فورس کی تشکیل کے ساتھ 34 مسلم ملکوں کا اتحاد واقعی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زبردست جنگ میں کامیابی کا ضامن ہوگا، مگر ماضی اور حال کی سوچ میں فرق سے اس مسلم دنیا کو مضبوط بنانے کے لئے مصری حکمرانوں نے بھی کئی مرتبہ کوششیں کی تھیں۔ کرنل ناصر اور پھر حسنی مبارک کے طویل دور تک سیاسی سوچ کا دائرہ انتہائی وسیع نہیں ہوسکا تھا جتنا آج سعودی عرب کے شاہ نے بیان کیا ہے۔ عالم اسلام کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے ہاں لیڈر سوچ و فکر کے ساتھ اُبھرتے ہیں، لیکن عالم اسلام یا مسلم دنیا اتفاق اور اتحاد سے محروم ہی رہی ہے۔ مسلم دنیا میں رہنے والے عوام ہمیشہ یہی خواب دیکھتے آرہے ہیں کہ تمام مسلمان معاشی خوشحالی میں سب سے آگے رہیں، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب ایک طاقتور عرب ملک ہے۔ مسلم دنیا کا نمائندہ ملک ہونے کے باوجود وہاں تارکین وطن ،مسلم ورکرس، انجینئرس، ڈاکٹرس اور دیگر ہنر مندوں کے مسائل کی عدم یکسوئی کی شکایات برقرار ہیں۔ ہر مسلم ملک کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ ہر ملک اپنے اپنے مفادات کے لئے پالیسیاں تشکیل دیتا ہے تو سعودی عرب کے فرمانروا کو مسلم دنیا میں اتحاد کی فکر لاحق ہے تو اس فکر کو عملی شکل دینے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ کسی حکمراں کی خواہشات کے معیار پر عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق ہوجانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے لئے ٹھوس و مضبوط پالیسیاں و لائحہ عمل اور طاقت کے مظاہرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا نے جس اتحاد و اتفاق کی بات کی ہے، اس کے حوالے سے مسئلۂ فلسطین، یمن، شام، عراق ، لیبیا اور دیگر اقوام کے مسائل کی یکسوئی کیلئے بہت بڑے مورچہ اور بلند حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو نظرانداز کرنے والی مسلم دنیا اور عرب کے حکمرانوں نے اپنی حکمرانی کے انداز اور تقاضے بدل لئے ہیں۔ جب ہندوستانی مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کرنے والے قائدین کا سعودی عرب میں شاندار استقبال ہوتا ہے اور سعودی فرماں روا کی جانب سے ہندوستانی لیڈر کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ عطا کیا جاتا ہے، وہیں ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل اور ضرورتوں کو فراموش کردیا جاتا ہے تو یہ مسلم قوم کی حوصلہ شکنی یا دل شکنی کا معاملہ قرار پاتا ہے تو پھر اتفاق و اتحاد کا پیمانہ ہی بدل جاتا ہے۔ سعودی عرب نے نریندر مودی کو 70 ارب ڈالر کے معاہدے حوالے کئے۔ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے صحیح گوشہ میں اضافہ مناسب نہیں سمجھا گیا۔ مسلم دنیا میں اتحاد اور اتفاق کی بہت سی تھیوریاں اور بہت سے خواب اب عرب مارکٹ میں بھی بِک رہے ہیں! بہرحال حکمرانوں کی سوچ اور اپروچ میں کیا فرق ہوتا ہے، اس کو محسوس کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT