Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / اکھیلیش یادوکے وعدے

اکھیلیش یادوکے وعدے

قسمیں وعدے پیار وفا سب باتیں ہیں باتوں کا کیا
کوئی کسی کا نہیں یہ جھوٹے ناطے ہیں ناطوں کا کیا
اکھیلیش یادوکے وعدے
چیف منسٹر اترپردیش اکھیلیش سنگھ یادو نے انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔ اتوار کو انہوں نے جہاں کانگریس پارٹی کے ساتھ اپنے اتحاد کو قطعیت دیدی وہیں انہوں نے ریاست کے عوام کے نام اپنے انتخابی منشور کی اجرائی بھی عمل میں لادی ۔ انہوں نے اپنے منشور کی اجرائی کے وقت یہ دعوی کیا کہ انہوں نے گذشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر پارٹی کے منشور میں جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کردیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کئی اور بھی بڑے پراجیکٹس کو بھی شروع کیا گیا ہے اور ان پر تیزی کے ساتھ عمل آوری کی جا رہی ہے ۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکھیلیش سنگھ کی حکومت میں ریاست کی نئی صورت گری کیلئے اقدامات کئے گئے تھے ۔ حالانکہ ابھی ان کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام کیلئے سامنے نہیں آئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ریاست میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات ضرور کئے گئے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ انتخابات کے موقع پر ریاست میں اچھی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو لیب ٹاپ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اسے پورا بھی کیا گیا ۔ اب انہوں نے ریاست میں عوام کو مفت اسمارٹ فونس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد اس کیلئے رجسٹریشن بھی کرواچکے ہیں۔ اس بار حالانکہ اکھیلیش کے پاس پانچ سال حکمرانی کا تجربہ ہے لیکن ساتھ ہی انہیں پارٹی کے داخلی اختلافات کا مسئلہ بھی درپیش رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اب حالات پارٹی میں قدرے بہتر ہوئے ہیں اور اکھیلیش مخالف عناصر کے موقف میں بھی نرمی پیدا ہوگئی ہے ۔ تاہم اکھیلیش کے منشور میں اقلیتوں کیلئے الگ سے کوئی وعدہ یا منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ ریاست میں اقلیتیں سماجوادی پارٹی کے ساتھ رہی ہیں اور اب بھی اس کے امکانات ہیں کہ اقلیتیں پھر سماجوادی پارٹی کے ساتھ جائیں گے ۔ ایسے میں انہیں اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر مزید توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ انہیں اقلیتوں کیلئے خاطر خواہ منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں آنا چاہئے تھا ۔ اکھیلیش نے سماج کے دیگر طبقات اور خاص طور پر خواتین کی بہتری کیلئے تو اچھے اعلانات کئے ہیں لیکن اقلیتوں کیلئے زیادہ کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔
اکھیلیش نے خواتین کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپئے کے پنشن کا اعلان کیا ہے اور خواتین کو عوامی ٹرانسپورٹ میں کرایوں میں پچاس فیصد کی رعایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ریاست کے خاتون رائے دہندوں کیلئے اچھا اقدام ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتدار ملنے پر حسب وعدہ ان رعایتوں پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اکھیلیش سنگھ یادو نے ہاسٹلس میں رہنے والی خواتین کو مفت رہائش اور ایک پریشر کوکر فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے ۔ یہ ایک بار پھر خاتون رائے دہندوں کو رجھانے کی کوشش ہے اور اس پر بھی منصوبہ بندی کی ضرورت پڑیگی ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکھیلیش سنگھ حکومت نے ریاست میں حالات کو بہتر بنانے کی سمت کوششیں ضرور کی ہیں لیکن انہیں ریاست میں اقلیتوں کی حالت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کیلئے جامع پروگرام پیش کرنا چاہئے تھا ۔ ریاست میں اقلیتوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ ان کی سیاسی اور سماجی اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اکھیلیش سنگھ یادو کو کسی اسکیم کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ انہیں ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کے ساتھ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ اقلیتوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے ان کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری سماجوادی پارٹی پر دوسری سیاسی جماعتوں سے زیادہ عائد ہوتی ہے ۔
سماجوادی پارٹی کے انتخابی منشور کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اچھا منشور ہے ۔ اس میں خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کو راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ویسے بھی اکھیلیش سنگھ یادو ریاست کے نوجوان طبقہ میں زیادہ مقبولیت رکھتے ہیں ۔ ایسے میں مزید نئی اسکیمات سے انہیں رائے دہندوں کو رجھانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اکھیلیش نے ریاست میں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے مسئلہ کو ایسا لگتا ہے کہ اپنے منشور میں نظر انداز کردیا ہے ۔ انہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ ریاست کے اضلاع میں دور دراز کے مقامات پر عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے کیلئے بھی انہیں جامع اسکیم پیش کرنے کی ضرورت تھی جو منشور میں نظر نہیں آئی ہے ۔ اس منشور میں جہاں رائے دہندوں کے ایک مخصوص طبقہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے وہیں انہیں اقلیتوں کیلئے بھی کسی اسکیم کا اعلان کرنے کی ضرورت تھی ۔ انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ سماجوادی پارٹی کو اگر اقتدار ملتا ہے تو یہ صرف اقلیتی رائے دہندوں کی وجہ سے ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT