Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مسلم رکن پارلیمنٹ کی نریندر مودی سے ملاقات، صحافتی حلقوں کا دعویٰ

مسلم رکن پارلیمنٹ کی نریندر مودی سے ملاقات، صحافتی حلقوں کا دعویٰ

دہلی، بہار اور شمالی ہند میں سیاسی تہلکہ ۔ رکن پارلیمنٹ پر بی جے پی ایجنٹ ہونے بہار کی اردو صحافت کا الزام

نئی دہلی /18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ریاست بہار کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں جہاں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 20 فیصد سے زائد ہے، اگر مسلم رائے دہندے متحدہ طورپر کسی ایک سیکولر جماعت یا محاذ کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں تو بی جے پی کو بہار میں اقتدار حاصل ہونا ناممکن ہو سکتا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پریشانیوں میں کافی حد تک اضافہ ہوگا۔ ان حالات کے پیش نظر ایسا تصور کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی اور ان کے رفیق کار امیت شاہ ریاست بہار میں دہلی کی تاریخ دہرانا نہیں چاہتے اور دہلی کی طرز کی ناکامی کو روکنے کے لئے اب وہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم پر توجہ دے رہے ہیں اور مسلم ووٹوں کی تقسیم پر اپنی چالاک حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش میں جٹے ہوئے ہیں۔ ان کی ان کوششوں کے دوران آج صحافت کے ایک گوشہ میں جب یہ بات عام ہوئی کہ ایک مسلم قائد جو کہ بی جے پی کے آلۂ کار بن کر مسلم ووٹوں کی تقسیم کرسکتے ہیں، اُن کی ملاقات وزیر اعظم نریندر مودی سے ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ جیسے ہی اس دعویٰ کی رپورٹ میڈیا میں پیش ہوئی، دارالحکومت دہلی کے علاوہ شمالی ہند کی تمام ریاستوں میں سیاسی وبال مچ گیا اور ہر گوشہ میں یہ بات گشت کرنے لگی کہ بی جے پی اب مسلمانوں کے آپسی اور سیکولر اتحاد کو ان ہی کی شکل سے یعنی لوہے سے لوہا کاٹنے کے مترادف فارمولہ اپنا رہی ہے۔ دہلی میں ناکامی کے بعد بی جے پی کے لئے بہار جہاں سیکولر طاقتوں کا مضبوط محاذ تشکیل ہو چکا ہے، اس ریاست میں اقتدار حاصل کرنا چیلنج بن گیا تو وہیں دوسری طرف سیکولر محاذ کو بی جے پی کی ناکامی کے ساتھ اقتدار پر قبضہ قائم رکھنا بھی چیلنج بن گیا۔ تاہم ان دونوں کے چیلنج میں مسلم ووٹ فیصلہ کن اور بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں۔ ریاست بہار کے ایک علاقہ میں اکثریت حاصل کرنے والے محاذ یا پارٹی کے لئے اقتدار یقینی ہو جاتا ہے، تاہم اس مسلم قائد کو جس پر بی جے پی کے آلۂ کار اور ان کے اشاروں پر ناچنے کا الزام پایا جاتا ہے، ان کو ہی اس علاقہ میں استعمال کرنے کی حکمت عملی جاری ہے، تاکہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں اس علاقہ کے عوام کو تقسیم کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا جاسکے۔

 

تاہم اس علاقہ کے مسلم رائے دہندوں کے مضبوط سیکولر موقف سے پریشان بی جے پی کے لئے اس مسلم رکن پارلیمنٹ کا کردار راحت کا سبب بنتا دکھائی دے رہا ہے اور اس اعلان سے کہ اس علاقہ میں نشستوں پر مقابلہ کیا جائے گا، بی جے پی کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں، تاہم بہار کے سیکولر محاذ نے بھی اس ہنگامہ مچانے والے دعویٰ کے بعد اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ صدیوں سے مسلم ووٹ بینک حاصل کرنے والی دونوں پارٹیاں اب جب کہ ایک ہی محاذ میں شامل ہیں، سیاسی جوابی حملہ کی تیاری میں جٹ گئی ہیں اور پسماندہ طبقات کے علاوہ مسلم ووٹ بینک کو اپنے حق میں مزید مضبوط کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ اس مسلم رکن پارلیمنٹ کی وزیر اعظم سے مبینہ ملاقات کے دعویٰ کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی گوشوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور وزیر اعظم نے حالیہ دورۂ بہار اور ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ ’’وہ بہار میں اپنا قبضہ جمائیں گے اور بہار میں اقتدار حاصل کریں گے‘‘۔ وزیر اعظم کے بیانات اور ان کے رفیق کار امیت شاہ کی سیاسی حکمت عملی پر بہار کے سیکولر ذہن کے افراد اور دانشوروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم سے مسلم قائد کی ملاقات ایسے پہلو کا حصہ ہے، جس کے تحت بی جے پی بہار میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ بہار میں مسلم ووٹ حاصل کرکے یا پھر تقسیم کرکے اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بہار کی اردو صحافت میں بھی اس مسلم قائد کو تنقید کا نشانہ بناکر بی جے پی کے ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔

 

مودی۔ اویسی ملاقات کی بی جے پی کی جانب سے تردید
نئی دہلی /18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج کہا کہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی جو آئندہ بہار انتخابات میں چند نشستوں کے لئے اپنے امیدوار کھڑا کر رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی کبھی بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ بی جے پی نے ان اخباری اطلاعات کو مکمل طورپر من گھڑت اور ایک خطرناک جھوٹ قرار دیا۔ پارٹی کے ترجمان ایم جے اکبر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ زرد صحافت کی بدترین مثال ہے۔شمالی ہند کے تقریباً تمام نامور اخبارات میں صدر مجلس اتحاد المسلمین کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر اس ملاقات کا اہتمام خود بی جے پی ترجمان نے کیا تھا۔

 

 

بہار اسمبلی انتخابات: مجلس پر بی جے پی کی مدد کا الزام
مجلس کو مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں: سنجے نروپم کادعویٰ
ممبئی۔/18ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے بہار انتخابات میں مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم ) کے داخلہ کو دراصل دونوں کی شیرازہ بندی کی ایک ایسی کوشش قرار دیا ہے جس سے بی جے پی کو مدد پہونچ سکتی ہے۔ ایم آئی ایم لیڈر اسد اویسی نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ ان کی پارٹی بہار اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی لیکن خود کو علاقہ سیمانچل تک محدود رکھے گی جو چار اضلاع ارڈیہہ، پورنیا، کشن گنج اور کٹھیار پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ کے 40اسمبلی حلقوں میں قابل لحاظ مسلم ووٹس ہیں جنہیں جے ڈی ( یو ) آر جے ڈی اور کانگریس پر مشتمل عظیم سیکولر اتحاد سے چھیننے کیلئے مجلس کوشش کرے گی۔ ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم نے کہا کہ مجلس کو مسلمانوں سے کوئی دلچسپی اور تعلق خاطر نہیں ہے ۔ نروپم نے کہا کہ سیمانچل میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن یہ پارٹی وہاں بہتر مظاہرہ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ چنانچہ ایم آئی ایم وہاں مسلم ووٹس حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور چند نشستوں پر کامیابی کیلئے بی جے پی کو مدد کرے گی۔ سینئر کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’ اگر مجلس کو واقعی مسلم نمائندگی سے دلچسپی ہے تو وہ بہار کے دیگر حلقوں سے مقابلہ کیوں نہیں کررہی ہے۔‘‘ تاہم ایم آئی ایم قائدین نے ووٹوں کی شیرازہ بندی کے اقدام کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ نام نہاد سیکولر جماعتوں کی ذہنی اختراع ہے۔

TOPPOPULARRECENT