Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم طلبہ کو سیول سرویس کوچنگ فراہم کرنے میں حکومت کی لگاتار پہلوتہی

مسلم طلبہ کو سیول سرویس کوچنگ فراہم کرنے میں حکومت کی لگاتار پہلوتہی

طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ، ایک سال ضائع ہونے پر منتخب طلبہ کی سخت برہمی
حیدرآباد۔/10جون، ( سیاست نیوز) سیول سرویسیس میں مسلم طلباء کے منتخب نہ ہونے کی اہم وجہ دراصل طلباء نہیں بلکہ عہدیدار ہیں جو انہیں مناسب وقت پر کوچنگ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہر سال کی طرح جاریہ سال بھی اقلیتی طلباء کو سیول سرویسیس کی معیاری کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن افسوس کہ عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں اقلیتی طلباء کا ایک سال ضائع ہونے کو ہے اور طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کیلئے عہدیدار ذمہ دار ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جاریہ سال انتہائی معیاری کوچنگ سنٹرس میں اقلیتی طلباء کو کوچنگ فراہم کرنے کی اجازت دی اور اس کے لئے 12 کروڑ روپئے جاری کئے تاکہ فیس ادا کی جاسکے لیکن عہدیدار گذشتہ دو ماہ سے معیاری اداروں کے نام طئے کرنے میں ناکام ہیں جس کے نتیجہ میں 2 ماہ کا وقت ضائع ہوگیا اور جبکہ کوچنگ اختتامی مرحلہ میں ہیں اقلیتی طلباء مایوس ہوچکے ہیں۔ سیول سرویسیس کے امتحانات اگسٹ کے دوسرے ہفتہ میں منعقد ہوتے ہیں جس کیلئے کوچنگ کو بمشکل 2 ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں اگر اقلیتی طلباء کو داخلہ دیا جائے تب بھی وہ مکمل کورس پر حاوی نہیں ہوسکتے لہذا اُن کے سیول سرویسیس میں منتخب ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔ اس صورتحال کیلئے طلباء نہیں بلکہ وہ عہدیدار ذمہ دار ہیں جنہوں نے 13 اپریل سے آج تک معیاری اداروں کا انتخاب نہیں کیا اور حکومت کو رپورٹ پیش نہیں کی۔ حکومت نے کلکٹر حیدرآباد اور 2 پولیس عہدیداروں اکن سبھروال اور تفسیر اقبال پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 13 اپریل سے دو ہفتوں کا وقت دیا تھا کہ وہ بہتر کوچنگ سنٹرس کی نشاندہی کریں۔ لیکن آج تک اس کمیٹی نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش نہیں کی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بارہا توجہ دہانی کے باوجود رپورٹ داخل نہیں کی گئی جس کے باعث کوچنگ کیلئے منتخب 62 طلباء اپنے ایک سال کو لیکر فکر مند ہیں۔ چیف منسٹر نے فیصلہ کیا تھا کہ انتہائی معیاری اداروں میں طلباء کی ترجیح کے مطابق داخلے دیئے جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 4 ماہ قبل ہی سیول سرویسیس کی کوچنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ اگر کوچنگ سنٹرس اقلیتی طلباء کو داخلے دیتے ہیں تب بھی وہ گذشتہ چار ماہ کے کورس پر عبور حاصل نہیں کرسکتے۔ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز نے انٹرنس ٹسٹ کے ذریعہ 62 طلباء کا انتخاب کیا تھا جبکہ حکومت 100اقلیتی طلباء کو سیول سرویسیس کی کوچنگ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ میناریٹیز اسٹڈی سرکل کے ذریعہ اس اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی کوچنگ کو کم وقت رہ گیا ہے لیکن وہ رپورٹ ملنے پر داخلے ضرور کرائیں گے تاکہ آئندہ سال اسکیم کے آغاز میں دشواری نہ ہو۔ 62 منتخب طلباء کو شکایت ہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی میں ان کا ایک سال ضائع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں نے تین رکنی کمیٹی سے ربط قائم کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کی خواہش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT