Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / مسلم عہدیدار کی ہلاکت

مسلم عہدیدار کی ہلاکت

گولیاں مقدر ہیں راہِ حق کے راہی کا
حق کی راہ اکثر ہی خارزار ہوتی ہے
مسلم عہدیدار کی ہلاکت
قومی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیدار محمدتنزیل احمد پر حملہ کرکے ہلاک کردینے کا واقعہ ،پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کا انفورسمنٹ اداروں کے لئے تشویشناک ہونا چاہئے۔ اس مسلم عہدیدار کا منصوبہ بند طریقہ سے ہلاک کرنے کا ادعا کرنے والی پولیس نے واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کا آغاز کیا ہے لیکن وہ حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور خاطیوں کو سزا تجویز کرنے میں وقت ضائع نہ کرے۔ پولیس اور انٹلیجنس کو واقعہ کے کئی گھنٹوں بعد بھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ حملہ کی کیا وجہ تھی اور حملہ آور کون تھے۔ پٹھان کوٹ حملہ کیس تحقیقات سے وابستہ اس عہدیدار کو اس طرح نشانہ بنایا جانا انٹلیجنس اور لاانفورسمنٹ اداروں کیلئے غور طلب ہونا چاہئے۔ اترپردیش کے ضلع بجنور میں پیش آئے اس واقعہ سے قومی سطح کی تحقیقاتی ایجنسی کے ذمہ داروں کی کارکردگی اور ان کی زندگیوں کے تحفظ کے مسئلہ کو سنگین بنایا ہے۔ یوپی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل دلجیت سنگھ چودھری نے اس مسلم عہدیدار کو ہلاک کرنے والوں کے منصوبہ کو یہ کہتے ہوئے واضح کیا۔ حملہ آور ان کا تعاقب کررہے تھے جبکہ مہلوک عہدیدار اپنے رشتہ دار کی ایک شادی تقریب میں شرکت کے بعد واپس ہورہے تھے۔ رات 2 بجے صرف اپنے اہل خانہ کے ساتھ جس میں ان کی بیوی اور دو بچے تھے، تنہا واپس ہورہے تھے۔ ان کے ہمراہ سکیورٹی عملہ نہیں تھا۔ کسی اہم کیس کی تحقیقات میں مصروف عہدیدار کی سکیورٹی کا خیال ترک کرکے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے جو غلطی کی ہے، اس سے تمام ذمہ دار عہدیداروں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یوپی میں اس سے قبل بس ایک مسلم پولیس عہدیدار کو سیاسی دشمنی کا شکار بنایا گیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری نبھانے والوں کو لاحق خطرات کے درمیان تحقیقاتی ایجنسیوں سے وابستہ آفیسر کے لئے سکیورٹی کی فراہمی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ دنیا میں شاید ہی ایسا کوئی ملک ہو جہاں لوگ پولیس سے خوش ہوں، مگر ہندوستان میں پولیس کے تعلق سے ناپسندیدگی حقارت کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ تمام تر اثر و رسوخ اور تعلقات کے باوجود پولیس خود غیرمحفوظ ہو تو پھر عام شہریوں کے تحفظ کا معاملہ کتنا سنگین ہوگا، یہ اندازہ کرلیا جاسکتا ہے۔ کیا ہندوستانی معاشرے میں حملہ آوروں، دہشت گردوں، لٹیروں اور چوروں کا ہی راج ہے۔ اس سوال پر تو اکثر بحث ہوتی ہے، کیا کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی کی جائے گی۔ پولیس اور انٹلیجنس کا اہم فرض کیا ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ انٹلیجنس ایجنسیوں میں عہدیداروں کو اپنی زندگیوں میں تحفظ کی فکر پیدا ہوجائے تو تحقیقاتی کارروائی کا عمل کس حد تک ٹھوس ہوگا۔ پولیس کو جس قدر وسائل اور افرادی قوت میسر ہے، اس کی بنیاد پر تو ایک مثالی کارکردگی بظاہر ہونا چاہئے تھا۔ پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے آفیسرس اپنی حفاظت سے زیادہ سیاست دانوں اور ان کے کنبہ کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔ پولیس کا بڑا حصہ جب اہم شخصیات کی حفاظت اور پروٹوکول پر مامور ہے۔ یوپی کے ہر علاقہ میں انسانی زندگی کے عدم تحفظ کا احساس قوی پایا جارہا ہے تو یہ حکومت اور نظم و نسق کے لئے غور طلب امر ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیدار محمد تنزیل احمد کی اہلیہ اور ان کے دو معصوم بچوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس واقعہ کے بعد انٹلیجنس اداروں اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو یہ فکر لاحق ہونا چاہئے کہ آفیسر اپنی جانیں کس طرح محفوظ رکھ سکیں۔ اگر تحقیقاتی ایجنسیوں کے عہدیداروں کو ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرنی پڑے تو گھناؤنے جرائم کی تحقیقات کا عمل سست روی کا شکار بنے گا۔ المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں خوف و ہراش کو بڑھا وا دینے والے واقعات قومی سلامتی کے لئے مناسب نہیں ہوئے۔ تنزیل احمد کے حملہ آور پیشہ ور قاتل ہونے اور خودکار اسلحہ کا استعمال کرنے میں ماہر بتائے ہوئے مقتول عہدیدار کی اہلیہ فرزانہ نے حملہ واقعہ کی جو تفصیلات بتائی ہیں، اس بنیاد پر پولیس کو تحقیقات کرنے اور خاطیوں کو نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔ حملہ آوروں نے تنزیل کی ہلاکت کو یقینی بنانے کے لئے 24 گولیاں داغ دیں۔ اس آفیسر نے شاید ایسی کسی سیاسی طاقت کے بارے میں اپنی تحقیقات کو موثر بنانے کی کوشش کی تھی کیونکہ یہ آفیسر پٹھان کوٹ حملہ کیس کی تحقیقات کا بھی حصہ تھے۔ ان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد ان پر حملہ آور ہلاک کرنے کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑی طاقت کی سازش ہے جس کو بے نقاب کرنا قانون کے رکھوالوں کی ذمہ داری ہے۔ دیانت دار آفیسر کی زندگیوں کے ساتھ اگر نظم و نسق اس طرح کی لاپرواہی اختیار کرتا ہے تو قومی تحقیقاتی ایجنسی ادارہ کی اہمیت گھٹ جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT