Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم معاشرہ میں خواتین کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی

مسلم معاشرہ میں خواتین کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی

طلاق ثلاثہ پر پیدا کردہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ، مسلم سروے ناگزیر
حیدرآباد۔18اپریل (سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ مسئلہ پرملک بھر میں جاری منفی پروپگنڈہ کو غلط ثابت کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مسلمانان ہند اس مسئلہ پر اپنی رائے پیش کرنے کے ساتھ اس بات کو ثابت کریں کہ مسلم معاشرہ میں خواتین کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی۔ اس سلسلہ میں عدالت اور حکومت کو دستاویزی سروے کی ضرورت ہے لیکن کسی مسلم ادارہ کے پاس ایسا سروے نہ ہونے کے سبب طلاق ثلاثہ مسئلہ پر جاری مقدمہ میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے ۔ ملک بھر میں جاری اس تنازعہ کے حل کیلئے مسلم سروے کیلئے ہند۔امریکی تعلقات پر سروے کرنے والے ادارہ کی مدد سے کروائے جانے والے سروے میں حصہ لیتے ہوئے ہندستانی مسلمان طلاق ثلاثہ مسئلہ پر اپنی رائے دینے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں خواتین کی حق تلفی نہیں ہوتی اور نہ ہی مسلم معاشرہ میں خواتین کو مظالم کا شکار بنایاجاتا ہے۔جناب سید خالد سیف اللہ نے بتایا کہ اب تک مختلف اداروں کی جانب سے کئے گئے غیر معیاری اور مخالف مسلم سروے کی بنیاد پر مسلم خواتین پر مظالم اور مسلمانوں میں طلاق کی شرح زیادہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور ان دعوؤںکی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ملمان ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں اور ایک نشست میں طلاق دیتے ہوئے اپنی اہلیہ کو زوجیت سے خارکج کردیتے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے مگر ان حقیقی اعداد و شمار کو اکٹھا کرنے کے لئے اب تک کوئی جامع سروے مسلم ادارہ کی جانب سے نہیں کیا گیا تھا لیکن اب CRDPPنامی ادارہ کی اعانت سے یہ کام انجام دیا جا رہا ہے اوراجاریہ ماہ کے اواخر تک جاری رہنے والے اس آن لائن سروے میں مسلمانان ہند حصہ لیتے ہوئے سروے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں خواتین کو جو مقام حاصل ہے وہ اس سے مطمئن ہیں۔ اس سروے میں حصہ لینے کے لئے اس مقصد سے تیار کی گئی ویب سائٹ www.muslimsurvey.inپر مرد و خواتین کیلئے موجود علحدہ فارمس پر کئے جا سکتے ہیں اور اس سروے میں حصہ لیتے ہوئے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دینے کے لئے صرف 5منٹ درکار ہوں گے اور آف کی جانب سے 5منٹ کا یہ وقت تحفظ شریعت کے معاملہ میںکلیدی کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ اس مسلمہ ادارہ کی رپورٹ دستاویز کی شکل میں سپریم کورٹ کے علاوہ حکومت کے دیگر محکمہ جات کو روانہ کی جا سکے گی۔

TOPPOPULARRECENT