Thursday , March 30 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں ناگزیر ‘ اعلیٰ تعلیم پر زور

مسلم معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں ناگزیر ‘ اعلیٰ تعلیم پر زور

اُترپردیش کے انتخابی نتائج مسلمانوں کیلئے بہت بڑا چیلنج‘ دوبہ دو ملاقات پروگرام سے جناب زاہد علی خان کا خطاب
حیدرآباد ۔ 12 ؍ مارچ ( دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ اترپردیش کے انتخابی نتائج مسلمانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس ملک میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے اپنی معاشی موقف کو مستحکم بنانا ہوگا ۔ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں ناگزیر ہیں جو قومیں بلدتے حالات سے خود کو ہم آہنگ نہیں کریتی وہ زوال اور پسماندگی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ جناب زاہد علی خان نے آج سیاست اور میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام ریان فنکشن پیالیس رنگ روڈ مہدی پٹنم میں منعقدہ 74 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام کو بحیثیت صدر مخاطب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم شادیوں میں فضول خرچی اور اسراف کے باعث ہماری معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر سال شادیوں پر 4 ہزار کروڑ روپئے سے زائد کے مصارف ہوا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو شادی کی تقریب گھر کے پاس ہی منعقد کی جاتی ہے ۔ عیسائی شادیاں چرچ میں انجام دیتے ہیں ۔ اور اس طرح سکھوں کی شادیوں میں اسراف نظر نہیں آتا ۔ افسوس کی بات ہے مسلمان اپنے شادی بیاہ میں غیر معمولی فضول خرچی اور اسراف کے ذریعہ اسلامی تعلیمات سے یکسر انحراف کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں میں منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ۔ مطالبات اور لین دین اب بھی ہمارے معاشرے میں ایک ضروری عنصر بن گیا ہے ۔ اگر لڑکی کے والدین شادی کی تقاریب میں بے پناہ اور بے دریغ دولت کا استعمال کریں تو پھر ان زیر پرورش دوسری لڑکیوں کی شادیاں کس طرح انجام پائیں گی ۔ جناب زاہد علی خان نے اپنے صدارتی تقریر میں والدین کو مشورہ دیا کہ وہ شادیوں کو آسان بنانے کے لئے پہل کریں تاکہ اسلامی معاشرہ کا وجود ممکن ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے انتخاب میں حسن و جمال کا معیار ہماری ناعاقبت اندیشی ہے کیونکہ حسن و دولت عارضی ہے جب کہ سیرت و کردار دائمی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دوبہ دو ملاقات پروگرام منعقد کرنے کا مقصد معیاری اور اسلامی طرز پر سادگی کے ساتھ شادیاں انجام دینے کے لئے والدین کو ترغیب دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ‘ کینڈا ‘ برطانیہ اور دیگر ممالک میں مقیم تارکین وطن بھی اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے تلاش کرنے کے لئے پریشان ہیں اور وہ اسی فکر میں دو بہ دو ملاقات پروگرام میں شرکت کرتے ہیں ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے اپنی خیرمقدمی تقریر میں کہا کہ مسلمان ایک طرف تو اپنی دینداری کا زبانی اظہار کرتے ہیں لیکن شادی بیاہ کے معاملات میں وہ دنیاداری اور غیر اسلامی رسم و رواج کو اختیار کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیغام محمدی سے انحراف کے عادی بنتے جا رہے ہیں اور اس طرح قول و فعل کے اس تضاد میں ہماری زندگیوں کو اضطراب اور بحران میں مبتلا کر دیا ہے ۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے انتخاب میں شرافت اور اعلی کردار کو معیار بنائیں ۔ اپنی اولاد کے لئے ایسا انتخاب کریں جس سے ان کی ازدواجی زندگی مسرت و شادمانی سے سرشار ہوجائے ۔ جلسہ کا آغاز قاری جناب سید الیاس باشاہ کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بار گاہ رسالت مآب میں ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ شہ نشین پر جناب ایم اے قدیر آرگنائزنگ صدر ‘ جناب محمد تاج الدین ‘ ڈاکٹر محمد ایوب حیدری ‘ میر انورالدین (نائب صدر ) سید اصغر حسین ‘ سید الیاس باشاہ ‘ سید ناظم الدین اور ڈاکٹر سیادت علی موجود تھے۔ دو بہ دو ملاقات پروگرام میں جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست میرانور محی الدین کسٹمس آفیسر ‘ اور بیدر سے آئے ہوئے جناب محمد نعیم ‘ جناب حمید الظفر اور دیگر معززین نے شرکت کی ۔ دوبہ دو ملاقات پروگرام اس بار انجنیئرنگ اور گریجویٹس کے مخصوص کیا گیا تھا ۔ انجنیئرنگ کاؤنٹرس میر انوار الدین ‘ محمد برکت علی ‘ شبانہ نعیم اور ثناء بیگم نے والدین کی رہبری اور رہنمائی کی ۔ اور پیامات کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ گریجویٹس کاؤنٹر پر سید الیاس باشاہ ‘ سید اصغر حسین ‘ سید ناظم الدین ‘ محمد احمد نے کونسلنگ کے فرائض انجام دیئے ۔ محترمہ رفیعہ سلطانہ ثانیہ اور محترمہ آمنہ فاطمہ نے معاون کے فرائض انجام دیئے ۔ اس موقع پر لڑکوں اور لڑکیوں کے علحدہ علحدہ رجسٹریشن کاؤنٹرس بنائے گئے تھے جہاں امتیاز ترنم ‘ افسر بیگم ‘ اسماء ‘ مہک ‘ فرحت اور احمدی نے پیامات کے نئے رجسٹریشن کے گئے ۔ جن میں لڑکوں کے 42 اور لڑکیوں کے 100 رجسٹریشن کئے گئے ۔ جناب محمد نصراللہ خان نے والدین اور سرپرستوں کا خیرمقدم کیا ۔ دو بہ دو ملاقات پروگرام میں علحدہ کمپیوسنٹر سیکشن بھی قائم کیا گیا تھا اور والدین کے لئے کمپیوٹرس پر لڑکوں کے فوٹوز اور بائیو ڈاٹاس کا مشاہدہ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ۔ 74 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام کا اختتام 4 بجے شام عمل میں آیا ۔ جناب ایم اے قدیر آرگنائزنگ صدر نے ریان فنکشن پیالیس کے مالکین ‘ منیجر اور اسٹاف کے تعاون کا شکریہ اداکرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT