Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم معاشرہ کی اِسلامی تعلیمات سے دوری رشتے طئے ہونے میں رکاوٹ

مسلم معاشرہ کی اِسلامی تعلیمات سے دوری رشتے طئے ہونے میں رکاوٹ

رشتوں کو بنانے کا اصل معیار اخلاق و کردار ، ادارۂ سیاست ۔ ایم ڈی ایف کا دوبدو پروگرام ، جناب جلال الدین اکبر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ؍ مئی (دکن نیوز) جناب جلال الدین اکبر آئی ایف ایس کنزرویٹر محکمہ جنگلات نے کہا کہ معاشرہ نے جب سے اسلامی تعلیمات سے دوری اختیاری کی اور دوسروں کی تہذیب کو اپنا شکار بنایا تو گھمبیر صورتحال پیدا  ہوتی جا رہی ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ غیروں کی تہذیب و اقدار سے دوری اختیار کریں اور اسلامی تعلیمات کو عملی نمونہ بنائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان دنوں زیادہ رشتے اسی وجہ سے طئے نہیں ہو پا رہے ہیں کہ والدین انتخاب میں مسلک ‘ تعلیم‘ عمر اور قد کے ساتھ خوبصورتی کواہمیت دے رہے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ معیارات سب بے بنیاد ہیں اصل معیار تو اخلاق و کردار رہے اس کے ذریعہ لڑکی اپنے گھر اور خاندان کو جنت نشان بناسکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب جلال الدین اکبر آج سیاست اور مینارٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام 59 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام سے کیا ۔ جو رائیل ریجنسی گارڈن فنکشن ہال ‘ آصف نگر میں منعقد ہوا ۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے صدارت کی ۔ جناب محمد عبد القدیر کارگذار صدر ایم ڈی ایف نے مہمانان خصوصی اور شرکاء کا خیرمقدم کیا ۔ جناب جلال الدین اکبرنے کہا کہ نوجوان ان دنوں اعلی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور وہ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں روزگار سے مربوط ہو کر اپنے مالی موقف کو مستحکم بنائے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بعض نوجوان فلمی شخصیات کو اپنا رول ماڈل بنا رہے ہیں اور ان کے جیسے طریقوں پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنا رول ماڈل قران و حدیث اور نبی کریمؐ کی شخصیت کو بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ شادی بیاہ کا سارے کا سارا معاملہ بڑا آسان ہے لیکن گھوڑے و جوڑے اور نت نئے طریقوں جو غیر قوم اختیار کر رہی اُس کو چھوڑنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مسلم غریب لڑکیوں کو شادیوں کے لئے 51 ہزار روپئے دینے کی جو اسکیم شروع کی ہے اُس کے ثمر آور نتائج برآمد ہو رہے ہیں جس سے شہر ہی نہیں بلکہ اضلاع کے مسلم گھرانوں کو بھی اس اسکیم کے ذریعہ راحت ملی ہے ۔ انہوں نے ایک کھانا اور ایک میٹھا کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اگر اس کو مسلمان اختیار کریں گے تو وہ شادیوں میں اسراف کو کم کرسکتے ہیں  ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے والدین ‘ شوہر بیوی اور اولاد کے حقوق کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ مسلمان ان حقوق کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگیوں میں رائج کریں ۔ اس ملک کی آزادی میں غیروں کے ساتھ مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جو سرمایہ دار تھے وہ بیرون ممالک چکے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ اچھا موقع گذشتہ 30 سالوں کے دوران آیا کہ وہ بیرونی ممالک میں انہیں روزگار کے مواقع فراہم ہوئے لیکن ان دنوں بیرون ممالک میں اُتھل پتھل کے بناء کمپنیوں سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اسراف پر روک لگانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے سیاست اور ایم ڈی ایف کی جانب سے ہوئے 59 ویں کامیاب دوبہ دو ملاقات پروگرام پر مبارکباددی ۔ محترمہ عزت عروسہ نے سیاست اور ایم ڈی ایف کو مبارکباد دی جنہوں نے شادی کو آسان بنانے کی مہم کا آغاز ہی نہیں کیا بلکہ شعور بیدار کر وایا جس کی وجہ سے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں مقیم گھرانے اس کو اپنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شادی بیاہ کے معاملات ہو یا دیگر امور رہتے ہیں اس لئے جب کسی گھر میں لڑکی پیدا ہوتی تو اس گھر میں ایک قسم کی پریشانی لاحق ہوجاتی اس لئے اپنے اپنے گھرانوں میں دینی علم اور قرآن و سیرت کا مطالعہ کرنے کی عادت ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ لین دین کی زیادتی اور بے جا رسومات نے ہی عربوں کو اس بات کی طرف راغب کیا کہ وہ یہاں کی لڑکیوں سے شادی کرے اور لڑکیوں کے والدین بھی انہیں اپنے لڑکی کو دینے تیار ہوئے اس لئے لڑکیاں شادی تو کرلیں مگر وہاں جا کر وہ  خود  پریشان ہوئیں اور خاندان کو بھی پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑا ۔ اس موقع پر والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد نے جناب ظہیرالدین علی خان کو 59 ویں کامیاب  دو بہ دو ملاقات پروگرام پر مبارکباد دی ۔ نئے رجسٹریشن کا آغاز 10 بجے دن سے ہوا ۔ لڑکوں  کے 130  اور لڑکیوں کے 250 رجسٹریشن کروائے گئے اور جو والدین نے اس سے قبل دوبہ دو پروگرام میں رجسٹریشن کروایا اور بعض نے ایم ڈی ایف احاطہ سیاست میں رجسٹریشن کروایا انہوں نے بھی اس سے استفادہ کیا اور رجسٹریشن کا ؤنٹر کو 4 بجے شام بند کر دیا گیا ۔ دو بہ دو ملاقات پروگرام کے سات کاؤنٹرس جن میں انجنیئرنگ ‘ میڈیسن ‘  پوسٹ گریجویٹس ‘ گریجویٹس ‘ انٹرمیڈیٹ ‘ ایس ایس سی ‘ عالم و حافظ اور کم تعلیم یافتہ ‘ عقدثانی کے لئے جو کاؤنٹرس لگائے گئے تے والدین کا بے پناہ ہجوم والینٹرس سے مشاورت کرتے ہوئے دیکھا گیا اور ان کو کونسلنگ کیلئے خصوصی ہال میں رکھا گیا تھا ۔ انجینئرنگ اور گریجویٹس کیلئے اسکرین پر لڑکوں کے فوٹوز اور بائیو ڈاٹا کی تفصیل کو میر انورالدین ‘ زاہد فاروقی اور محمد فریدالدین نے حسن خوبی کیساتھ انجام دیا جبکہ میڈیسن ڈاکٹر سیادت علی ‘ شبانہ نعیم اور آمنہ فاطمہ تہنیت ‘ پوسٹ گریجویٹ میں الیاس باشاہ ‘ سید اصغر حسین ‘برکت علی ‘ گریجویٹس میں سید ناظم الدین ‘ صالح بن عبدالہ باحاذق ‘ انٹرمیڈیٹ ‘ ایس ایس سی حافظ میں ڈاکٹر ناظم علی‘ شاہد حسین‘ ثانیہ ‘ عقدثانی میں محمد احمد اور ایم اے واجد ‘ رجسٹریشن پر ایم اے قدیر کارگذار صدر فورم ‘ افسر سعیدہ  امتیاز ترنم نے اپنے فرائض انجام دیئے ۔    (سلسلہ صفحہ8پر )

TOPPOPULARRECENT