Saturday , April 29 2017
Home / ہندوستان / مسلم نعش کی عصمت ریزی، پرانی قبر کی نئی خبریں، افواہوںکی مشین!

مسلم نعش کی عصمت ریزی، پرانی قبر کی نئی خبریں، افواہوںکی مشین!

لکھنؤ ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں بعض نام نہاد نیوز ویب سائیٹس نے دانستہ طور پر خبروں کے نام پر سنسنی خیز کہانیاں اور طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جو نہ صرف کچھ ہی دیر میں انٹرنیٹ ویب سائیٹس کی سرخیوں میں جگہ بنارہی ہیں بلکہ واٹس اپ اور سوشیل میڈیا کا اہم موضوع بن رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک المناک واقعہ فرقہ وارانہ طور پر حساس ریاست اترپردیش کے غازی آباد کے حوالہ سے پیش آیا۔ ایک ویب سائیٹ نے یہ سنسنی خیز سرخی لگائی کہ ’’غازی آباد میں المیہ! دو مردوں نے ایک قبر سے عورت کی نعش نکال کر اجتماعی عصمت ریزی کی‘‘۔ دوسرے ویب سائیٹ نے اپنے ویب سائیٹ پر یہ سنسنی خیز سرخی لگائی ’’ویڈیو : دو مرد اجتماعی عصمت ریزی کیلئے غازی آباد میں ایک عورت کی نعش کو خبر سے نکال رہے ہیں‘‘ حالانکہ حقیقت یہ ہیکہ ڈی  این اے ہندی نیوز یہ خبر صحیح انداز میں 24 اکٹوبر 2015ء کو اپنے ویب سائیٹ پر جاری کی تھی لیکن انڈیا سمواد اور وائرل ان انڈیا نے یہ پرانی خبر گذشتہ روز نئے سنسنی خیز انداز میں پیش کی۔ اس سے بھی زیادہ المیہ یہ بھی ہیکہ انڈیا سمواد نے بالکل یہی خبر بالکل ان ہی تصویروں کے ساتھ قبل ازیں 8 جون 2016ء کو بھی پیش کیا تھا۔ اکٹوبر 2015ء کے دوران میرٹھ اور غازی آباد کے سرحدی گاؤں تہیٹا میں یہ شرمناک واقعہ پیش آیا تھا اور صحافت کے تمام گوشوں میں اس کی بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت بھی ہوئی تھی اور سارے ملک میں اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی لیکن انڈیا سمواد اور وائرل ان انڈیا نے گذشتہ روز پیر کو پھر یہی پرانی خبر جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک مسلم عورت جو حمل میں پیچیدگی کے سبب فوت ہوگئی تھی ’’دو دن قبل‘‘ اترپردیش میں ضلع غازی آباد کے گاؤں تلہیٹا گاؤں کا قبر کھود کر اس کی نعش نکالی گئی اور اجتماعی عصمت ریزی کی گئی۔ کم سے کم دو افراد نے عصمت ریزی کی بعدازاں قریبی کھیتوں میں نعش پھینک دی گئی‘‘۔ یہ تفصیلات بالکل وہی ہیں جو اکٹوبر 2015ء میں ڈی این اے کی رپورٹ میں شائع ہوئے تھے۔ بعدازاں ان دونوں ویب  سائیٹس نے جون 2016ء میں بھی پیش کیا تھا، جس سے اس خبر کے پڑھنے والوں میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہیکہ آیا دو دن قبل یہ شرمناک واقعہ پیش آیا۔ واضح رہیکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی تنظیم ہندو واہنی کے زیراہتمام 2014ء کے دوران گورکھپور میں منعقدہ ایک جلسہ عام میںان کے مبینہ ساتھی نے نعشوں کی عصمت ریزی سے متعلق ایک بیان یتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا تھا۔ ہندو واہنی کے ایک لیڈر کی طرف سے دو سال قبل کئے گئے یہ ریمارکس اترپردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی تلخ بحث کا موضوع بن چکے تھے۔ ان انتخابات میں بی جے پی کو نہ صرف بھاری اکثریت سے کامیابی ملی بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ چیف منسٹر کے عہدہ پر بھی فائز ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT