Saturday , September 23 2017
Home / اداریہ / مسلم نمائندگیاں

مسلم نمائندگیاں

ہونے کو صبح اور ابھی کتنی دیر ہے
میں نے خود اپنے آپ سے پوچھا تمام رات
مسلم نمائندگیاں
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیرالدین شاہ نے یونیورسٹی کے دیگر اہم عہدیداروں کے ساتھ وفد کی شکل میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کو برقرار رکھنے پر زور دیا لیکن وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں اس ملاقات کے اصل مقصد کا ذکر نہیں ہوا بلکہ دو سطری بلیٹن میں یہ کہا گیا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ یونیورسٹی کے ذمہ داروں کی اس ملاقات کا اصل مقصد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کو برخاست کروانے کی کوششوں پر عوامی ناراضگی سے واقف کروانا تھا۔ وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ضمیرالدین شاہ نے وزیراعظم سے اپنی ملاقات کے بعد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی مسئلہ کو حل کرنے میں اثباتی ردعمل ظاہر کیا، تاہم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کو بحال کرنے کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیردوراں ہے۔ اس پر مرکز نے حال ہی میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں یونیورسٹی کے حق میں یو پی اے حکومت کے دور میں اختیار کردہ موقف سے منحرف ہوگی۔ اگر مرکز کی مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں سابق حکومت کے موقف کے برعکس قدم اٹھایا تو پھر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی موقف سے محروم ہوجائے گی۔ مودی حکومت کو اس طرح کی غلطی نہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وائس چانسلر کی کوشش بھی قابل ستائش ہے۔ اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس نے مودی حکومت کی خفیہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ اظہار خیال کی آزادی کی دشمن ہے۔ ترقی کے خلاف اور اقلیت دشمن ہے۔ اس لئے وہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کررہی ہے۔ مرکز کی مودی حکومت کی اقلیت دشمن پالیسیوں سے بے خبری ملک کی اقلیتوں کے مستقبل کو نازک دور میں ڈھکیل دے گی۔ اقتدار کی طاقت کے ذریعہ جو پالیسیوں وضع ہوتی ہیں، اور اس پر عمل آوری کے لئے بے قرار فرقہ پرست سرکاری عملہ ملک کے مسلمانوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ اقلیتی طلباء کیلئے مرکز کی اسکالرشپ جاری نہیں کی جارہی ہے یا اس میں تاخیر سے کام لیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی کوشش کے خلاف مؤثر طریقہ سے نمائندگی وقت کا تقاضہ سمجھا جارہا ہے مگر ہندوستانی مسلمان نے اپنے سامنے ہونے والی خرابیوں کا نوٹ لینے کو ضروری نہیں سمجھا تو آنے والا کل مسائل لے کر آئے گا۔ آج کی خطرناک اور زہریلی حقیقت یہی ہے کہ فرقہ پرستوں نے اپنا مورچہ مضبوط کرلیا ہے جبکہ مسلمانوں کا مورچہ کمزور ہے۔ ان کی سیاسی تربیت بھی خام ہے اور معاشی طاقت بھی ناتواں ہے۔ انفرادی سوچ کا فقدان ہے تو اجتماعی کوششوں کا ریکارڈ صفر ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ پر فرقہ پرستوں نے نفرت کی لکیر لگا دی ہے، پھر بھی مسلمان ہیں کہ نوشتۂ دیوار پڑھنے سے مجرمانہ غفلت کا شکار ہورہے ہیں۔ نوشتۂ دیوار تو دُور کی بات انہیں تو دیوار ہی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کو مودی حکومت میں فرقہ پرست نظم و نسق نے اٹھانی شروع کی ہے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی حالیہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کی جن سنگھی قائدین جیسے اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی اور ناناجی دیشمکھ نے بھرپور تائید کی تھی۔ 1977ء میں جب جن سنگھ جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی تھی اور 1979ء میں وسط مدتی لوک سبھا انتخابات کے دوران اپنے انتخابی منشور میں جنتا پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی خودمختاری اور اس کے اصل کردار و موقف کو بحال کرے گی لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ترمیمی بل 1981ء کو جب لوک سبھا میں منظور کیا گیا تھا، اس وقت کے بی جے پی نائب صدر و لوک سبھا رکن رام جیٹھ ملانی اور اس وقت کے جنتا پارٹی رکن پارلیمنٹ اور اب بی جے پی کے نامور لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے بھی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کی بھرپور حمایت کی تھی۔ ان دنوں جب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے کی پردہ پوشی ہورہی ہے تو سابق مرکزی وزیر قانون اور آزاد راجیہ سبھا رکن رام جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کیس کی بلامعاوضہ پیروی کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس وقت قومی سطح پر قطعی طور پر بدلا ہوا ماحول پایا جاتا ہے۔ مرکز پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کس وقت کیا فیصلہ کرے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق صرف فرقہ پرستوں کو ہی دیا جارہا ہے تو آگے چل کر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ غور طلب معاملہ یہ ہے کہ مرکز کے رویہ کو سنجیدگی اور تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے اور مسلم نمائندگیوں کو مضبوط بنایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT