Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوانوں سے متعلق ڈگ وجئے سنگھ کا بیان بدبختانہ

مسلم نوجوانوں سے متعلق ڈگ وجئے سنگھ کا بیان بدبختانہ

تلنگانہ میں کانگریس کا صفایا ہوگا ، الحاج محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مئی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے تلنگانہ پولیس کے خلاف ڈگ وجئے سنگھ کے بیان کو بے بنیاد اور بدبختانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم میں شرکت کیلئے مسلم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق پولیس پر الزام کا مقصد دراصل حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ نے کئی ریاستوں میں کانگریس پارٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا اور اب تلنگانہ میں بھی کانگریس پارٹی کا صفایا ڈگ وجئے سنگھ کے ہاتھوں ہوگا۔ محمد سلیم نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں فسادات اور مسلمانوں پر مظالم عام بات تھی لیکن ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد سے فسادات کا خاتمہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے اور تمام طبقات پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گنگا جمنی تہذیب کا احیاء عمل میں لاتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی سمت ریاست کو آگے بڑھایا ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ کو اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہئے ورنہ تلنگانہ کے مسلمان انہیں سبق سکھائیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ ڈگ وجئے سنگھ کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ متنازعہ بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ سابق میں وہ ملک کیلئے جان قربان کرنے والے فوجی جوانوں کے خلاف بھی بیان دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے دو ریاستوں کے انچارج کے عہدہ سے ڈگ وجئے سنگھ کو برخواست کردیا اور اس احساس کمتری سے ابھرنے کیلئے ڈگ وجئے سنگھ نے تلنگانہ پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ تلنگانہ پو لیس کا شمار ملک کی کارکرد اور مستعد پولیس فورس میں ہوتا ہے اور حالیہ عرصہ میں متحدہ عرب امارات کے عہدیداروں نے بھی تلنگانہ پولیس کی ستائش کی تھی ۔ محمد سلیم نے کانگریس سے تعلق رکھنے والے قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈگ وجئے سنگھ کے بیان پر اپنے موقف کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بم دھماکے کانگریس دور حکومت میں ہوئے تھے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پولیس کی جانب سے بے قصور نوجوانوں کو ہراساں کیا گیا تھا ، بعد میں انہیں معاوضہ ادا کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT